پنجاب اسمبلی نے کثرت رائے سے بجٹ کی منظوری دیدی‘ نوازشریف کے فوج کے حوالے سے بیان پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں شدید نوک جھونک

23 جون 2011
لاہور (خبر نگار+ خصوصی نامہ نگار+ کامرس رپورٹر+ سٹاف رپورٹر+ ایجنسیاں) پنجاب اسمبلی نے آئندہ مالی سال کیلئے صوبے کے 6کھرب 54 ارب اور 71کروڑ کے بجٹ کی کثرت رائے سے منظوری دے دی، اپوزیشن کی کٹوتی کی تحریکیں مسترد کر دی گئیں تاہم آئندہ مالی سال کے دوران نئے ٹیکسوں کے نفاذ اور ردوبدل کی منظوری آج دی جائے گی۔ شہباز شریف نے بجٹ کی منظوری پر ایوان کو مبارکباد دی۔ نوازشریف کے فوج کے حوالے سے دئیے گئے بیان پر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ( ن ) کے درمیان شدید نوک جھونک ہوئی اور معاملہ ہنگامہ آرائی تک پہنچ گیا، سپیکر نے مداخلت کرکے معاملہ رفع دفع کرا دیا۔ تفصیلات کے مطابق سخت شور و غل میں اور احتجاج کے بعد اپوزیشن کی تمام کٹوتی کی تحاریک کثرت رائے سے مسترد کر دی گئیں۔ اجلاس کے آغاز میں اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض احمد نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ گورنر پنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کو خط لکھا ہے اور وضاحت چاہی ہے کہ بتایا جائے کہ پنجاب کیلئے کن ممالک اور اداروں سے غیرملکی امداد لینے سے انکار کیا ہے، بتایا جائے کن کن ممالک سے امداد لینی ہے اور کن سے نہیں اور یہ بھی بتایا جائے کہ صوبے میں جو منصوبے غیر ملکی امداد سے چل رہے ہیں ان کا مستقبل کیا ہو گا؟ کرنل (ر) غلام شیر نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ نواز شریف فوج پر تنقید کررہے ہیں جب فوج انہیں لالی پاپ دیتی تھی تو سب اچھا تھا اور یہ خوش رہتے تھے، ان کے بیان پر ایوان میں ہنگامہ آرائی کا ماحول پیدا ہو گیا، مسلم لیگ ( ن ) کے ارکان سراپا احتجاج بن گئے اور نشستوں پر کھڑے ہو کر بولنا شروع ہو گئے، چودھری عبدالغفور نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی والے اپنے کالے کرتوتوں کو دیکھیں فوج کے ٹھیکیدار نہ بنیں ہمارے قائد نے کسی ادارے کے خلاف بات نہیں کی صرف ان جرنیلوں کے خلاف بات کی ہے جو آئین توڑتے ہیں اور ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ راجہ ریاض نے کہا کہ فوج کو تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے، فوج سرحدوں پر کھڑی ہوکر ہماری حفاظت کر رہی ہے۔ نوازشریف اگر پرویز مشرف کے خلاف کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ساتھ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صدر زرداری کے حکم پر بجٹ منظور کرانے کے لئے حکومت کا ساتھ دیا۔ مولوی شہباز شریف ایوان میں اپنی تقریر کے بعد اپوزیشن کا جواب سننے کا بھی حوصلہ رکھیں۔ قبل ازیں شہباز شریف نے صوبائی بجٹ برائے مالی سال 2011-12 کی منظوری پر معزز ممبران کودل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف ‘ معزز ممبران اور کابینہ ارکان کے تعاون اور مشاورت سے متوازن اور بہترین بجٹ پیش کیا گیا ہے‘ انہوں نے کہا کہ میں سپیکر‘ سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں‘ اپوزیشن لیڈر اور حزب اختلاف کا بھی شکرگزار ہوں جنہوں نے بطور ممبر پنجاب اسمبلی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور مالی سال 2011-12ءکے بجٹ کے لئے اپنی تجاویز اور آراءدیں‘ صوبائی وزیر خزانہ کامران مائیکل کو بہترین انداز میں بجٹ تقریر پیش کرنے پر بھی مبارکباد دیتا ہوں۔ وزیراعلیٰ نے بجٹ کی تیاری میں چیف سیکرٹری‘ چیئرمین پی اینڈ ڈی‘ سیکرٹری خزانہ اور متعلقہ اداروں کی کاوشوں کی بھی تعریف کی۔ صحافےوں نے جرنلسٹ کالونی میں مسلم لیگ ( ن ) کے رکن اسمبلی کی سر پرستی میں پلاٹوں پر ہونیوالے قبضے اور پریس کلب کے اسسٹنٹ منیجر عقیل و سکیورٹی گارڈ پر ہونیوالے تشدد کے خلاف اسمبلی کارروائی کا بائیکاٹ کےا اور پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر احتجاجی مظاہرہ کیا‘ ساجدہ میر‘ عظمی بخاری نے بھی یکجہتی کیلئے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی۔ بائیکاٹ پریس گیلری کمیٹی کے صدر شہزاد ملک‘ پریس کلب کے سیکرٹری اعظم چوہدری اور پی یو جے کے صدر رانا عظیم کی قیادت میں کیا گیا۔ صحافیوں نے مسلم لیگ ( ن ) کے قبضہ گروپوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ جس پر صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان، چودھری عبدالغفور، رانا ارشد، پیپلز پارٹی کے رکن حسن مرتضے، احسان الحق نولاٹھیہ کے ہمراہ مذاکرات کیلئے صحافیوں کے پاس آئے اور انہیں یقین دہانی کروائی کہ جس ایس ایچ او کی نگرانی میں صحافی ہاو¿سنگ کالونی میں قبضے ہو رہے ہیں اور منےجر پر تشدد کیا گیا ہے ان کو نہ صرف معطل کیا جائیگا بلکہ قبضہ گروپ کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی جس پر صحافیوں نے بائیکاٹ ختم کر دیا۔ رانا ثناءاللہ نے بتایا کہ آئی جی پولےس، سی سی پی او کو بلاےا گےا ہے۔ انکوائری کر کے پولےس والوں کو معطل کےا جائے اور پرچہ بھی درج کےا جائے گا۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...