پنجاب اسمبلی نے فائنانس بل دو ہزارگیارہ کی منظوری دے دی۔

23 جون 2011 (12:24)
پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکررانا محمد اقبال کی زیرصدارت حسب روایت ایک گھنٹہ باون منٹ کی تاخیرسے شروع ہوا اورایوان نے فائنانس بل کثرت رائے سے منظورکرلیا۔ بل میں گھڑدوڑ پردوسو فیصد، سرکس فیس کا بیس فیصد اور فیشن شو یا میوزیکل شوکی فیس کا پینسٹھ فیصد بطور ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مختلف گاڑیوں پرپانچ سو روپے سے دس ہزار روپے تک سالانہ ٹیکس لگانے کی بھی منظوری دے دی گئی۔ فارم ہاؤسزپر ٹیکس کی شرح دس روپے فی مربع فٹ سے بیس روپے مربع فٹ تک ہوگی۔ حکومت نے کلبوں پرابتدائی ممبر شپ فیس کا دس فیصد اور پیش کردہ خدمات پر دس فیصد ٹیکس چارج کیا ہے۔ بل کی منظوری کے موقع پر مسلم لیگ قاف نے یونفیکشن بلاک پر اعتراض اٹھایا تو رانا ثناء اللہ نے کہا کہ قاف لیگ لوٹا لیگ ہے اور ہم اسے ختم کردیں گے۔
یونفیکشن بلاک پرتنقید کرتے ہوئے مسلم لیگ قاف کے چوہدری ظہیرالدین کا کہنا تھا کہ یونفیکشن بلاک کے ارکان کے خلاف عدالت میں جائیں گے اور انہیں نااہل قرار دلوائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ چوہدری ظہورالہی نے جمہوریت کے لئے قربانی دی اور ان کے خون کے چھینٹوں سے کئی لوگ رہنما بنے۔
اس سے پہلے اسمبلی کے باہرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ صدرزرداری نے ساڑھے تین سال کے دوران پہلے مرتبہ زبان کھولی ہے، یہ اقتدار کے بھوکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ چوہدری نثار ان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں لیکن انہیں پتہ نہیں چل رہا کہ وہ انہیں جدہ بھجوا کرخود وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔
پنجاب اسمبلی میں فائنانس بل تو منظورہوگیا لیکن عوامی نمائندے کہلانے والے سارا دن ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کرنے میں مصروف رہے، جوعوام کے لئے افسوسناک امرہے