سپریم کورٹ نے این آئی سی ایل توہین عدالت کیس میں وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اور دووفاقی سیکرٹریوں کو جواب داخل کرنے کے لئےانتیس جون تک کی مہلت دے دی

23 جون 2011 (12:15)
چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری،جسٹس امیرہانی مسلم اورجسٹس طارق پرویزپرمشتمل سپریم کورٹ کےتین رکنی بنچ نے این آئی سی ایل سکینڈل پرتوہین عدالت کیس کی سماعت کی، وفاقی سیکرٹری اسٹبلشمنٹ عبدالرؤف چوہدری، وفاقی سیکرٹری داخلہ قمرزمان چوہدری اوروزیراعظم کے پرنسل سٹاف آفیسرخوشنود اخترلاشاری کے وکیل بابراعوان نےعدالت کوبتایا کہ خوشنود لاشاری بیرون ملک ہیں اس لیے تینوں اعلیٰ افسران کی جانب سے توہین عدالت نوٹس کا جواب تیارنہیں کیا جا سکا۔خوشنوداخترلاشاری کے وطن واپسی کے بعدجواب داخل کردیا جائےگا، لہذا عدالت ان کی واپسی تک مہلت دے ۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسارکیاکہ ظفرقریشی کواین آئی سی ایل کی تحقیقات کے لیے واپس لانے کے احکامات پر کیا عمل ہوا ہے۔ چیف جسٹس نے بابراعوان اوراٹارنی جنرل کومخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ عدالت نہیں چاہتی کہ اعلیٰ افسران کو توہین عدالت کےنوٹسز جاری کیے جائیں۔ آپ حکومت کوواضح کریں کہ وہ مسئلہ حل کرنے کے لیے اقدامات کرے اور عدالت کوآخری حد تک پہنچ کرفیصلہ دینے پر مجبورنہ کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے تینوں افسران کوجواب داخل کرانے کے لیے انتیس جون تک مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔