وکی لیکس کے مطابق پاکستانی حکام نے بدنام زمانہ امریکی قید خانے گوانتاناموبے میں سیف اللہ پراچہ سمیت چھ پاکستانیوں کی مسلسل قید کو پراسرارقرار دیا تھا۔

23 جون 2011 (11:19)
وکی لیکس نے اپنی خفیہ کیبل میں انکشاف کیا ہے کہ وزارت داخلہ کے نیشنل کرائسس منجمنٹ سیل کے ڈائریکٹر آپریشنز لیفٹیننٹ کرنل یعقوب نے گوانتاناموبے کے دورے کے بعد اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے حکام سے ملاقات کی۔ ملاقات میں لیفٹیننٹ کرنل یعقوب نے واضح کیا کہ سیف اللہ پراچہ سمیت چھ پاکستانیوں کو غلط وقت پر غلط جگہ رکھا گیا ہے کیونکہ امریکہ کی قید میں موجود پاکستانی کسی بھی طرح سے سنگین خطرہ نہیں۔ امریکی حکام نے پاکستانی قیدیوں کو حوالے کرنے کیلئے باضابطہ درخواست دینے اور انھیں مسلسل حراست میں رکھنے کی یقینی دہانی کا کہا لیکن اسلام آباد کی جانب سے ان اقدامات کے باوجود پاکستانیوں کو رہا نہیں کیا گیا۔ دو ہزار سات میں امریکی وزارت دفاع نے تجزیاتی رپورٹ میں سیف اللہ پراچہ کو القاعدہ کا ایک اہم کارکن قرار دیا جبکہ ان کے بیٹے عزیر پراچہ پر بھی دو ہزار چھ میں القاعدہ کی مدد کرنے پر فرد جرم عائد کی گئی۔ چونسٹھ سالہ پاکستانی امریکن بزنس مین سیف اللہ پراچہ دو ہزار تین میں لاپتہ ہوئے تھے جن کی آٹھ جولائی کو بنکاک سے گرفتاری عمل میں لائی گئی اور انیس ستمبر دو ہزار چار کوانہیں گوانتاناموبے منتقل کردیا گیا۔ سیف اللہ پراچہ کو دو ہزار چھ میں رہا کیا جانا تھا تاہم امریکی فوجی حکام نے انہیں ہائی رسک قرار دیکر گوانتاناموبے میں ہی رکھنا مناسب سمجھا۔ وکی لیکس کے مطابق سیف اللہ پراچہ اسامہ بن لادن سے دو بار ملاقات اورنائن الیون کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد سے قریبی تعلق کا اعتراف کرچکے ہیں۔