اعلانِ لاہور اور مسئلہ کشمیر.... پروفیسر غفور کی گواہی.... (گزشتہ سے پیوستہ)

23 جون 2011
رﺅف طاہر
قارئین کو یاد ہو گا کہ واجپائی کی آمد پر جماعت اسلامی نے یوم سیاہ منایا تھا.... پہلے دن کی شام مسجد شہداءکے باہر پرجوش مظاہرین کو دن بھر کے ہنگاموں کے بعد نئی ڈیوٹی سونپی گئی، واجپائی کا قافلہ، شاہی قلعہ جانے والا ہے۔ اس راستے میں پھیل جاﺅ اور مزاحمت کرو۔ عشائیے میں اسلام آباد میں موجود سفیروں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ ان میں سعودی عرب سمیت اسلامی ملکوں کے سفیر بھی تھے۔ راستے میں ان کے ساتھ جو سلوک ہوا اس حوالے سے سعودی سفیر کے صدمے کی نوعیت الگ تھی۔ وہ تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ پاکستان کی شاہراہوں پر ان کے ساتھ بھی یہ سلوک کیا جا سکتا ہے.... پروفیسر غفور صاحب کے بقول: ”شاہی قلعہ کے قریب آدھی رات تک پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوتی رہیں۔ ایک پٹرول پمپ، پولیس چوکی اور متعدد گاڑیاں نذرِ آتش کر دی گئیں۔ وزیراعظم کے سکواڈ اور بعض سفارت کاروں کی گاڑیوں پر بھی حملہ کیا گیا۔ مظاہرین کے پتھراﺅ سے ڈی ایس پی کوٹ لکھپت کا گن مین زخمی ہو گیا، جو رات گئے اتفاق ہسپتال میں چل بسا۔ واجپائی عشائیے میں 2 گھنٹے تاخیر سے پہنچے۔ حکومت پنجاب کے ترجمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے کارکنوں نے سفارت کاروں سے بدکلامی کی اور ان کی گاڑیوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا۔ اگر 21 فروری کو بھی جماعت اسلامی کا یہی رویہ رہا تو ”بندوبست“ کریں گے“۔ اور اگلے دن واجپائی کی روانگی پر ایک اور ”پرجوش“ مظاہرے کے لئے کمربستہ کارکنوں کا لٹن روڈ پر جو ”بندوبست“ کیا گیا۔ وہ اپنی جگہ افسوسناک تھا۔ باقی رہا، کارگل کا معاملہ، تو جنرل اسلم بیگ اور حمید گل سمیت پاک فوج کے کتنے ہی جرنیل اور عسکری تجزیہ نگار ہیں، جو اسے پاک فوج کی تاریخ کا ناقص ترین اور نہایت احمقانہ فوجی منصوبہ قرار دے چکے ہیں۔ تازہ ترین گواہی اس حوالے سے ایوانِ وقت میں جنرل نصیر اختر کے ریمارکس ہیں۔
قارئین! تین دن بعد جنرل پرویز مشرف نے بھی شاہدرہ لاہور میں درجنوں لوگوں کے جلسہ عام سے ٹیلی فونک خطاب میں یہی بات کہی کہ اعلان لاہور میں کشمیر کا ذکر تک نہیں تھا۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے تک تو وہ یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ اعلان لاہور میں مسئلہ کشمیر کو ان کے دباﺅ پر شامل کیا گیا تھا۔ تو کیا ام الخبائث حافظہ بھی چھین لیتی ہے؟