بھارت افغانستان میں کیوں؟

23 جون 2011
بھارت اس دن سے ڈرے جب وہ بھارت میں نہ ہو گا۔ پاکستان کو بھارت نے خون میں نہلایا پھر بھی یہ لہو رنگ اسلامی نظریاتی فلاحی ریاست وجود میں آ گئی مگر ہندو کی گندہ ذہنیت نے اسے پھر بھی قبول نہ کیا اور ہمارے حکمرانوں کو غچے دے دے کر، فریب کے دام بچھا بچھا کر ہماری کمزوریوں سے کھیل کھیل کر اس مملکت خداداد پاکستان کو دو نیم کر دیا ہم دنیا کو تو غلط سلط جواب دے لیں گے خدا کو کیا جواب دیں گے۔ بھارت کو ایک عرصے سے پاکستان میں اپنا گھناﺅنا کھیل کھیلنے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ ہمارے میر صادق نے امریکہ کو ایک چاندنی رات میں یہاں اندھیر مچانے کی اجازت دی اور اس کے جلو میں سارے شیاطین قطار اندر در آئے۔ پاکستان تو پاک ہی رہے گا البتہ بھارت کے لوگ بھی اپنی سرزمین کو پاک کرنے کی تمنا کر بیٹھیں گے اور زبان خلق نقارہ خدا کے مصداق ایک بار پھر یہ برصغیر پاک و ہند صدق و صفا کا گہوارہ بنے گا۔ افغانستان کی پتھریلی زمین نے ہمیشہ ہماری ذہانت کے پھول اگائے ہیں۔ ہمارے بڑے بڑے اہل علم اور سائنسدان یہیں سے پیدا ہوئے اور یہیں سے حملہ آوروں نے اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر اس پر ایک ہزار سال حکومت کی اب رعیت اگر حکمران ہو ہی چکی ہے تو اپنی اوقات میں رہے۔ امریکہ کی مرضی سے افغانستان میں بھارت نے قدم رکھا۔ وہاں 19 قونصل خانے بلکہ پاکستان کے لئے بوچڑ خانے قائم کئے۔ ان کو پاکستان کی شمالی سرحد کے ساتھ ساتھ تعینات کیا۔ آج پاکستان میں جو دہشت گردی ہو رہی ہے وہ امریکہ، بھارت، اسرائیل مل کر، کر رہے ہیں اور اکا دکا جو واقعات ہمارے خلاف کوئی انتہا پسند تنظیم اور طالبان کرتے ہیں ان کے پیچھے یہ غلط فہمی کارفرما ہے کہ پاکستان تو امریکہ کے ہاتھ بک گیا اب کیا امریکہ اور کیا افغانستان، دونوں ایک ہیں۔ جہاد دونوں کے خلاف فرض ہے۔ خودکش دھماکے کیا ہیں ان کی شرعی حیثیت کا تعین تو سردست مشکل ہے مگر جب کسی کو اپنی یا اپنوں کی موت کا یقین ہو جائے وہ پھر یہی سوچتا ہے کہ
ہم تو ڈوبے ہیں صنم تجھ کو بھی لے ڈوبیں گے
جب ہمارے حکمران امریکن تو کجا ان کے حلقہ بگوش ہو گئے تو ظاہر ہے عام غالی مسلمان نے ہمیں گردن زدنی سمجھا۔ اب اس میں سارا کھیل ان غلط فہمیوں کا ہے جو شیطان کبیر نے اپنی شیطانی مہارت کے ساتھ پھیلائیں اور ان کا پھل اٹھانے میں اندر والوں نے باہر والوں کی مدد کی پھر کیا قلعے کا دروازہ کھل گیا۔ پاکستان شارع عام بن گیا اور اب کس کس کو کیسے کیسے روکیں گے۔ خود کردہ را علاجے نیست۔ اپنے کئے دھرے کا کیا مداوا البتہ اب ہماری افواج اور حکمران بھی ناک تک آ چکے ہیں کیونکہ جب کوئی کسی کا گھر چھیننے پر آ جائے تو پھر اس سے خلاصی پانا ضروری ہے۔ ایک اور علاج اس روگ کا یہ ہے کہ فوج کے امیر اور ملک کی سویلین قیادت مل کر یہاں سے امریکی عمل دخل کو ختم کریں۔ شمالی سرحد کو سدِ سکندری بنا دیں تاکہ چیونٹی بھی رینگ کر ادھر نہ آ سکے کیونکہ اب نہ وہ افغانستان رہا اور نہ ہمارے برادر مسلمان افغان۔ ہم اپنے حکمرانوں کی جھولیاں پھیلانے کے سبب، بے سبب بھکاری بن گئے ان کی نظر میں جو ہمیں اسلام کا قلعہ سمجھتے تھے عوام، افواج، حکمران اور سیاستدان مل بیٹھ کر مشورہ کریں کہ اگر قائداعظم کا پاکستان برقرار رکھنا ہے اور اپنے شعار کے مطابق زندگی گزارنی ہے تو ہمیں امریکہ سے اڈے واپس لینا ہوں گے۔ ڈرون حملے کہہ کر یا گرا کر بند کرنا ہوں گے۔ امریکیوں کو اجازت عام نہ ہو گی کہ جو بھی امریکی چاہے منہ اٹھا کر اندر چلا آئے۔ امریکی سفارت خانے اور قونصل خانوں کو ایجنٹوں کے مسافر خانے نہیں بننے دیں گے۔ کسی کو اپنی زمینی، فضائی اور بحری حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ملک میں بہت کچھ ہے اپنی زمین سے اپنا رزق حاصل کریں گے اور ہم سے یہ ختم نہ ہو سکے گا۔ ہمارے منصوبوں میں امریکی منصوبوں کی آمیزش نہ ہو گی۔ ہم اپنی بہبود کے لئے جو بھی کرنا چاہیں گے آزاد ہوں گے۔ ہم طالبان سے کوئی رابطہ نہیں رکھیں گے۔ وہ جانیں اور ان کی تاریخ کا رویہ، وہ وہی کریں گے جو صدیوں بدیسی حملہ آوروں اور لٹیروں اور گوری چمڑی والوں کے ساتھ کرتے رہے ہیں۔ بھارت کی ایک طویل عرصے سے خواہش تھی کہ افغانستان پہنچ کر وہاں سے پاکستان کو کمزور کیا جائے۔ طالبان کے دور حکومت میں تو اس کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی لیکن جب ہماری حکومتیں امریکہ کے ساتھ اس کے افغانستان پر قبضے کے دوران فرنٹ لائن اتحادی کی صورت اختیار کر گئیں تو امریکہ نے بھارت کو کھلی چھٹی دے دی اور وہ وہاں امدادی کاموں میں ہاتھ بٹانے کے بہانے ہماری شمالی سرحد بالخصوص بلوچستان کی جانب سے پاکستان میں تباہ کن کارروائیاں کرنے لگا اور اب را کے ایجنٹ ہماری گلی کوچوں میں بھیس بدل کر پھرتے ہیں اور دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہوتے ہیں۔ امریکہ پاکستان سے جائے گا تو بھی حالات درست نہ ہوں گے۔ جب تک وہ افغان سے نہیں نکلتا اور ستم ظریفی تو یہ ہے کہ پچھلے دنوں ہمارے ارباب حکومت بھارت کو افغانستان آنے جانے کے لئے راہداری دینے پر آمادہ ہو گئے تھے مگر عوامی غیظ و غضب نے انہیں ایسا کرنے سے باز رکھا۔ اب بھی ایک ہیرو لیڈر نے بھارت سے دوستی اور تجارت کی خواہش ظاہر کرکے اپنی مقبولیت پر لکیر پھیر دی ہے۔ افغانستان کو بھی اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ بھارت بھی اس قبضے کا منصوبہ بنا چکا ہے اس لئے کہ وہ خطے میں وسیع تر غلبہ حاصل کرنے کو اپنا حق اور خود کو اس خطے کی سپر پاور سمجھتا ہے۔ ہماری مشرقی سرحدیں انتہائی غیر محفوظ ہو گئی ہیں۔ یہ امریکی جنگ میں شمولیت کے باعث، اس لئے امریکہ کا نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان سے خروج بھی ضروری ہے تاکہ بھارت کی افغانستان میں موجودگی ختم ہو اب یہ پاکستان پر ہے کہ وہ افغانستان کو کہہ دے کہ اپنے ملک سے وہ بھارت کو پاکستان مخالف کارروائیاں کرنے ہی نہ دے۔