جون کا مہینہ

23 جون 2011
امیر نواز نیازی
وطن عزیز میں جون کا مہینہ اپنی جون میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے بلکہ یہ کئی انفرادیتوں کا حامل ہے کہ سردی اور گرمی کے عروج و زوال کے لحاظ سے ہمارے ہاں یہ گرم ترین مہینہ ہوتا ہے اور اس ماہ میں گرمی کی انتہا انسانوں ہی کی نہیں چرندوں اور پرندوں تک کی بھی مت مار دیتی ہے۔ یہاں تک کہ کہتے ہیں چیل بھی پناہ کی تلاش میں ان دنوں اپنا گھونسلہ چھوڑ دیتی ہے اور سورج زمین والوں کو ملنے کے لئے سوا نیزے پر آ جاتا ہے شاید اس لئے کہ لوگوں کو وہ قیامت کے منظر کا ایک چھوٹا سا ٹریلر دکھا سکے اور پھر یہ جون جب بھی آتا ہے بہت سی آزادیوں کے ساتھ کئی بیماریاں بھی لے کر آتا ہے۔ چنانچہ جہاں گرمی سے بچنا ضروری ہوتا ہے وہاں ان بیماریوں کا تدارک اور پیشگی احتیاط کرنا بھی لازمی ہوتا ہے۔ اہل وطن کے لئے جون میں احتیاط کی ضرورت یوں بھی ہوتی ہے کہ ہماری معیشت بھی اسی ماہ اپنی جون بدلتی ہے یعنی ہمارے ہاں یہ بجٹ کا مہینہ ہوتا ہے تو اسی مہینے ہمارا مالی سال اختتام پذیر ہوتا ہے اور مہنگائی نئے سرے سے بلکہ نئے روپ میں جلوہ گر ہوتی ہے اور عوام کے گلے میں نیا بجٹ حکومت کے ہاتھوں ایک کڑوی گولی کی صورت میں اتارا جاتا ہے۔ عوام کے لئے یہ بجٹ عوامی نمائندے ہی بناتے ہیں لیکن حکم یہاں قرضہ دینے والوں کا چلتا ہے کہ بجٹ کے لئے تمام احکامات وہی ترتیب دیتے ہیں۔ چنانچہ عوام کو اس ماہ غریب سے عریب تک بنانے کا اہتمام کیا جاتا ہے اور بہت سے ٹیکس اور قیمتیں اسی ماہ بڑھائی جاتی ہیں جبکہ ٹیکس چور، منافع خور، رشوت خور اور سمگلرز اپنے طور نئی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور وہ لوگوں کی قوت خرید کمزور سے کمزور تر کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے اور یوں ہمارا روپیہ بھی نحیف سے نحیف تر ہونے کی اگلی منزل طے کرتا ہے لیکن ان ساری خرابیوں اور آزادیوں کے باوجود ماہ جون کی ایک خوش کن ادا اور انفرادیت یہ ہے کہ اس ماہ میں جب گرمی اپنے انتہا کو پہنچتی ہے تو بہت سے درخت اور پودے اسی تپش سے خوش رنگ پھولوں سے لد جاتے ہیں اور سارے ماحول کو گل رنگ بنا دیتے ہیں۔ اسی ماہ املتاس کے درخت سر تا پا زرد پھولوں کا پیرہن پہن لیتے ہیں تو گل مور بھی مور کی کلغیوں جیسے خوش نما پھولوں سے لد جاتے ہیں۔ لجسٹرومیا کی تمام اقسام بھی اپنے اپنے رنگ میں جوبن پہ آ جاتی ہیں۔ سہانجنا بھی اسی ماہ اپنے سہاگ پہ آتا ہے تو جیکورنڈا، برنا، لہوڑا، کریر، ڈھاک اور اس طرح کے بہت سے درخت اور پودے اپنے اپنے انداز اور رنگ میں خوش نما اوڑھنیاں اوڑھ لیتے ہیں۔ ان باغ و بہار پھولوں کے علاوہ بہت سے لذیذ پھل بھی اس ماہ میں اور اسی گرمی میں پک کر تیار ہوتے ہیں بلکہ پھلوں کی اکثریت اسی ماہ میں ہی دستیاب ہوتی ہے۔ الیچی، آڑو، آلوچہ، آلو بخارہ، خوبانی، تربوز، خربوزہ وغیرہ جیسے لذیذ پھل سب اسی موسم کی سوغات ہیں تو پھلوں کا بادشاہ آم بھی اسی موسم میں منظر عام پر آتا ہے کہ یہ اسی گرمی کا ہی ثمر ہے جس کا سال بھر انتظار کیا جاتا ہے۔
تو گویا جون کی یہ نشانیاں ہیں، اللہ تعالیٰ کی ان مہربانیوں کی، جو قادر مطلق نے ہر رنگ میں ہم پر روا کر رکھی ہیں اور یہ ایک پیغام ہے، قدرت کی ان نیرنگیوں میں کہ رب العزت نے ہر سدت اور شدت کے بعد آسودگی اور راحت ہمارے نصیبوں میں لکھ رہی ہے اور آسودگی وہی من کو بھاتی ہے، جو آزردگی کے بعد حاصل ہو تو یہی ماہ جون کا ہمارے لئے ایک پیغام بھی ہے۔