خادم پنجاب کی بچت پالیسی اور قبضہ گروپ!

23 جون 2011
وزیر اعلیٰ پنجاب جناب شہباز شریف نے بیرون ممالک اپنے اثاثے وطن واپس لانے کا اعلان کیا ہے، گو کہ ایک اطلاع کے مطابق یہ اثاثے محض تین کروڑ مالیت کے ہیں مگر یہ اقدام بہرحال وطن کے ساتھ ان کی محبت ہی کا ایک ثبوت سمجھا جائے گا۔ خصوصاً جب اس ملک سے کروڑوں اربوں کھربوں کمانے والے اپنے اثاثے اس ناز ک وقت میں بڑی تیزی سے بیرون ممالک منتقل کرکے ملک دشمنی کا ثبوت فراہم کر رہے ہیں، شہباز شریف نے ایک اچھا اقدام کیا ہے اور اگر ان کی تقلید میں کچھ اور سیاستدان بھی اپنے اثاثے بیرون ملک سے اندرون ممالک منتقلی کر لیں تو یہ اقدام ملک کی تیزی سے گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دینے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہو گا۔ کچھ محب وطن سیاستدان واقعی اس ملک میں موجود ہیں، تو اس سے بھی دو قدم آگے بڑھیں۔ یوں کہ بیرون ممالک اپنی جائز ناجائز دولت کے انبار سمیٹ کر وطن واپس لے آئیں اور اسے قومی خزانے میں جمع کروا دیں تو اس ملک میں کسی اور قسم کا انقلاب پتہ نہیں آئے گا یا نہیں۔ معاشی انقلاب ضرور آ جائے گا۔ محترم خادم پنجاب اس حوالے سے بھی لائق تحسین ہیں کہ انہوں نے ملک کے معاشی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے صوبے کے حالیہ بجٹ میں بچت کے لئے کچھ ایسے اچھے اقدامات بھی کئے، جن سے فوری طور پر شاید کوئی بڑی تبدیلی رونما نہ ہو سکے مگر قطرہ قطرہ کرکے دریا بن ہی جائے گا اور اگر محترم خادم پنجاب ہونے کے کچھ محکموں میں پڑی ہوئی ”مالی انھی“ کا نوٹس لے لیں تو یہ دریا سمندر بھی بن سکتے ہیں۔ گزشتہ کچھ برسوں سے صوبے کو لوٹنے میں جہاں کچھ حاضر سروس افسران نے گھناﺅنا کردار ادا کیا وہاں کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں۔ ایسی ہی ایک ”مالی انھی“ پنجاب پولیس کے شعبہ ”ہائی وے پٹرولنگ“ میں بھی پڑی ہوئی ہے جسے بند کرکے سالانہ کروڑوں روپے کی بچت کی جا سکتی ہے۔ پولیس کا یہ شعبہ سابقہ دور میں ہائی وے پر وارداتیں روکنے کی غرض سے قائم کیا گیا تھا۔ اس موقع پر اس وقت کے حکمرانوں نے حسب روایت کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران کو نوازنے کے لئے ان پر مشتمل ایک پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) بنا دیا جس کا کام یہ تھا کہ وہ مختلف شاہرات پر تعمیر کی جانے والی ”پٹرولنگ چوکیوں“ کی نگرانی کرے کہ اس میں کوئی مالی بے ضابطگی تو نہیں ہو رہی۔ اصولی طور پر تو چوکیوں کی تعمیر کے بعد اس محکمے کو بند کر دینا چاہئے تھا۔ مگر افسران نے کروڑوں روپے کی تنخواہیں اور دیگر مراعات مزید انجوائے کرنے کی خاطر اس وقت کے حکمرانوں کو قائل کر لیا کہ ابھی ان کی مزید ضرورت ہے، اس طرح کہ اب وہ ان چوکیوں میں تعینات عملے کو مانیٹر کریں گے کہ وہ صحیح طرح سے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں یا نہیں؟ جو کام پٹرولنگ پولیس میں تعینات پولیس افسروں کو کرنا چاہیے دیگر کاموں کی طرح وہ کر بھی رہے ہیں، اس کام کے لئے ریٹائرڈ افسروں کی ”فوج“ مستقل طور پر ”چھاﺅنی“ ڈال کر بیٹھ گئی ہے اور پنجاب کے خزانے سے تنخواہوں، ٹرانسپورٹ، پٹرول اور دیگر مراعات کی صورت میں کروڑوں روپے سالانہ وصول کر رہی ہے۔ کروڑوں روپے کی مالی عیاشی کا نوٹس لے کر محترم وزیر اعلیٰ پنجاب اپنی بچت پالیسی کو مزید تقویت پہنچا سکتے ہیں اور اگر وہ کھوج لگانا شروع کر دیں تو اس طرح کے ”بہت سے“ کھوہ کھاتے انہیں پنجاب کے کچھ اور محکموں میں بھی مل جائیں گے جن سے نجات حاصل کرنا اسی طرح کا کارنامہ ہو گا جو انہوں نے اپنے اثاثے وطن واپس لانے کی صورت میں انجام دیا ہے!