میری آئیڈیل شخصیات

23 جون 2011
میں آج اپنی آئیڈیل دو شخصیات کا ایک ایک واقعہ بیان کر رہا ہوں۔ یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب میں طالب علم تھا اور ہفت روزہ چٹان میں کالم ”ہفتے کے ہفتے “ لکھا کرتا تھا۔ بانی چٹان آغا شورش کاشمیری چیف ایڈیٹر ہوا کرتے تھے۔ ایک تقریب میں آغا صاحب کی مڈ بھیڑ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی سے ہو گئی۔ رسمی علیک سلیک کے بعد سید صاحب گویا ہوئے، ”شور ش صاحب!“ آپ کے چٹان کے تمام تر صفحات سبز کرنیں بکھیر رہے ہوتے ہیں مگر دو صفحے سبز کرنوں کا منہ چڑا رہے ہوتے ہیں۔ آغا صاحب نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا، ”مولانا! جن سرخ صفحات کی طرف آپ اشارہ کر رہے ہیں، میں نے اس نوجوان کو سونپ رکھے ہیں، طالب علم ہے سیکھنے کے دن ہیں اس کے، میں نہیں چاہتا کہ دوران ٹریننگ اس پر کسی قسم کی پابندی عائد کروں“۔ میں خود شاہد ہوں کہ سید مودودی نے آگے کوئی سوال نہ کیا۔یہ واقعہ بھی زمانہ طالب علمی کا بیان کرنے لگا ہوں۔ میں نوائے وقت میں طالب علم کی ڈائری لکھا کرتا تھا یہ شائد بھٹو دور کی بات ہے کہ عصر حاضر کے امام صحافت مجید نظامی امریکہ کے دورے پر تھے کہ کسی اپنے نے میرے نوجوان اور جذباتی دماغ کو استعمال کراکے مجھ سے اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف ایک ڈائری لکھوا ڈالی۔ جمعیت کے لٹھ بردار دفتر نوائے وقت پہنچ گئے۔ شنید ہے دو بسیں بھر کر لائے تھے۔ میری ڈائری پر احتجاج کیا اور جاتے وقت میرے خلاف ایک جوابی مضمون چھوڑ گئے۔ حضرت مجید نظامی نے مجھے طلب کیا، باز پرس کی۔ میرے جواب پر مجھے جمعیت والوں کا مضمون دکھایا ، اس وقت دفتر میں زیڈ ۔اے۔سلہری، موج دین اور احسان الٰہی ظہیر بھی موجود تھے۔ میری رائے پوچھنے پر طے پایا کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ جواب شائع کیا جائے، لہٰذا نوائے وقت کی اگلی ہی اشاعت میں میرے خلاف لکھا گیا مضمون چھپ گیا۔ میں سیلوٹ کرتا ہوں مجید نظامی صاحب کو کہ وہ کبھی کبھار میرے ایسے کالم بھی شائع کرا دیتے ہیں جنہیں قارئین سخت ترین کا نام دیتے ہیں۔
میں یہ بات بھی ببانگ دہل کہنے کو تیار ہوں کہ آسمان صحافت پر آج جو ستارے جگمگا رہے ہیں، ان میں وہ خصائص دور دور تک دکھائی نہیں دیتے جن سے اللہ تعالیٰ نے میرے آئیڈیل صحافی مجید نظامی کو نواز رکھا ہے۔ سید عطاءاللہ شاہ بخاری، مولانا ظفر علی خان، آغا شورش کاشمیری اور حضرت مجید نظامی آسمان صحافت کے ایسے ستارے ہیں جو قیامت تک اہل زمین کو منور کرتے رہیں گے۔ ہمیں کم از کم محترم مجید نظامی کا شکر گزار ہونا چاہیے جن کے دم سے امن کی آشا کے پرچارک من مانیاں کرتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ یہ مجید نظامی ہی تو ہیں جو آنے والی نسلوں کو پاکستان کا مطلب سمجھا رہے ہیں۔

میری نَے نوازی

کوئی دیکھے تو میری نَے نوازینفَس ہندی‘ مَقامِ نغمہ تازینگہ آلُودۂ ...