یہ کیسا باپ ہے؟

23 جون 2011
لفظ میانہ روی اعتدال برداشت ہماری لغت سے ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتابوں کے ابواب یا اسباق کی طرح نکال دئیے گئے ہیں یا ان الفاظ کا جملوں میں استعمال اور ان پر عمل یکسر ترک کر دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قومی سطح پر قتل و غارت گری اور بربریت کے سلیم شہزاد، سرفراز شاہ اور خروٹ آباد جیسے سانحے پے در پے رونما ہو رہے ہیں من حیث القوم ہم سب ہی تلخ مزاج بن چکے ہیں۔ اولاد کے لئے والدین، والدین کے لئے اولاد کی باتیں تلخی کا موجب ہیں۔ قومی سطح پر تلخی کے اسباب میں بجلی گیس پٹرول اور پانی کے بارے میں حکومتی سنگدلی ہے صدر اور وزیراعظم قوم کے باپ کی طرح ہیں۔ 18 کروڑ عوام ان کی اولاد کی مانند ہیں۔ کون سا باپ ہے جو اولاد کو دکھ پہنچاتا ہے تڑپاتا ہے انہیں بے بس دیکھ کر گھر چھوڑ کر بیرون ملک رانجھا راضی کرتا ہے۔ کبھی اولاد سے براہ راست مخاطب ہونا بھی پسند نہیں کرتا جھوٹی تسلی دینے سے بھی کتراتا ہے۔ اولاد دن رات یہی سوچتی ہے یہ کیسا باپ ہے جو ہمیں وراثت میں لوڈشیڈنگ، پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں تھانے، کچہریوں اور عدالتوں میں دھکے ذلتیں اور رسوائیاں اور ڈرون حملے دے کر جائے گا یہ کیسا باپ ہے جو اولاد سے پیسے لینے پر نظر رکھتا ہے جو 2011-12 مالی سال میں 1952 ارب روپوں کا ہدف حاصل کرنا چاہتا ہے جو 16,16 گھنٹے بجلی بند رکھ کر بھی بلوں کو دگنا کرنا چاہتا ہے جو ہر سال ٹیکسوں سے آمدنی کا ہدف 23 فیصد بڑھا کر مہنگائی کو 46 فیصد بڑھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ رواں مالی سال میں اس باپ نے 1588 ارب جمع کرکے اولاد کو کیا فائدہ پہنچایا۔ اس باپ کی پہلی اولاد میں وزراءاور 20 گریڈ سے اوپر کی بیوروکریسی ہے جس کی کاروں کے ٹائروں کی دھلائی کے لئے ایک ایک نوکر ہے۔ عوام تو اس کی سوتیلی اولاد ہیں۔ سلیم شہزاد اور سرفراز شاہ سوتیلی اولاد تھے۔ یہ باپ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 68 ارب ڈالر کا نقصان کر چکا ہے۔ اتنی رقم سے بجلی پیدا کرتا تو یہ ملک جگ مگ جگ مگ کر رہا ہوتا۔ 2010-11 میں اس عاقل باپ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 17.83 ارب ڈالر گنوا دئیے۔ حکومت ایک ہی رونا روتی ہے کہ 18 کروڑ کی آبادی میں 20 لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ 18 کروڑ کے 18 کروڑ عوام ٹیکس گزار ہیں۔ بازار سے جو شے خرید کر لاتے ہیں اس کی قیمت میں سیلز ٹیکس اور جو یوٹیلٹی بل ادا کرتے ہیں اس میں بھی تو GST ٹیکس شامل ہوتا ہے۔ سڑکوں لاری اڈوں پارکوں کے Toilet تک بغیر پیسے کے استعمال نہیں ہو سکتے۔ صرف ہوا سورج کی روشنی اور چاند کی چاندنی پر اس باپ کا تصرف نہیں۔ کیا پانی مفت میں ملتا ہے۔ کون سی بیماری پیسہ نہیں مانگتی بیٹی کی رخصتی ہی نہیں اس جہان سے رخصتی بھی مفت نہیں ہوتی یہ کیسی دنیا ہے۔

کراچی سے نیو یارک

کراچی پہنچ کر وزیراعلیٰ پنجاب نے کراچی کو نیو یارک بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ...