بجٹ کا طوفان

23 جون 2011
مہناز رفیع
بجٹ کا طوفان آیا اور اپنے پیچھے لاکھوں انسانوں کو زخمی کر گیا۔ اس طوفان نے جو وفاق اور پنجاب میں آیا اس نے غریب اور مڈل کلاس کے لوگوں کو ریلیف دینے میں بھی ناکامی کا تاثر چھوڑا۔ جو بھی قومی یا صوبائی بجٹ بنتا ہے اس کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ مہنگائی، بے روزگاری، جہالت اور توانائی کے بحران سے نکالا جائے۔ عوام کی صحت کو یقینی بنایا جائے مگر افسوس موجودہ بجٹ اس حوالے سے ناکام رہے! دنیا کے 185 ممالک میں تعلیمی پسماندگی کے حوالے سے 134ویں نمبر پر اور صحت کے اعتبار سے پاکستان کا نمبر 117 ہے۔ فی کس آمدنی کے حوالے سے 185 ممالک میں پاکستان کا نمبر 132 ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس وقت ملک میں نام نہاد جمہوریت کا وجود تو ہے مگر معیشت کا حال برا ہے۔ سرمایہ کاری بالکل نہیں ہو رہی ہے۔ یہ نام نہاد جمہوریت دراصل جاگیردارانہ، قبائلی اور تاجروں کی پیداوار ہے۔
ایوب خان کے دور کی طرح پرویز مشرف کا دور سال 2000ءسے 2008ءتک رہا جس میں ملک نے صنعتی ترقی کی۔ پاکستان میں اقتصادی اصلاحات ہوئیں جس پر ورلڈ بنک نے پاکستان کو اس علاقے کا سب سے بڑا اقتصادی ریفارمر قرار دیا اور اسے دنیا کے دس بڑے اصلاح کاروں میں شامل کیا۔ کراچی سٹاک ایکسچینج دنیا کے بہترین سٹاک ایکسچینج میں شامل ہو گیا تھا۔ ماہر اقتصادیات جناب اشفاق حسین خان نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا.... ”دو سال 2007ءتک پاکستان کی معیشت ترقی کے دور سے گزر رہی تھی۔ اس نے موجودہ صدی کے ابتدائی سات برسوں میں مستحکم ترقی کا طویل دور دیکھا۔ اس عرصے میں معاشی نمو کی سالانہ شرح زیادہ تر 7 فیصد رہی اور پاکستان، غربت میں تقریباً نصف حد تک کمی کرنے میں کامیاب رہا۔ ملک میں عدم توازن اور بیروزگاری میں کمی واقع ہوئی۔ نجی شعبہ میں ابھر کر سامنے آیا جس کے نتیجے میں 1999ءمیں جی ڈی پی 63 بلین ڈالر تھی جو بڑھ کر 162 بلین ہو گئی۔ پر کیپٹل انکم 435 ڈالر سے بڑھ کر 925 ڈالر ہو گئی۔ ریونیو 300 ملین سے بڑھ کر ایک ٹریین ہوئی۔ فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ 300 ملین سے بڑھ کر 6.5 بلین ڈالر ہو گئی۔ ایکسپورٹ 9 بلین کے مقابلہ میں 17 بلین ڈالر ہو گئی۔“ اس نام نہاد جمہوریت کو ساڑھے تین سال ہو گئے مگر حالات کو اور پاکستان کی معیشت کو بہتر کرنا تو بڑی بات ہے یہ تو2007 ءکے مقام پر بھی نہیں رکھ سکے۔ کیونکہ ان کے پاس نہ تو پولیٹیکل ول ہے اور نہ ہی ویژن ہے۔ صرف اور صرف آمر آمر جمہوریت جمہوریت کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ بے روزگاری، مہنگائی اور غربت میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے مگر اس بجٹ میں صرف الیکشن جیتنے کا بجٹ لگتا ہے کیونکہ سب سڈی پر زیادہ رقم رکھی گئی ہے۔
اس بجٹ میں خواب دکھائے گئے ہیں وہ بھی بھیانک جب تک ایسی قیادت نہیں آتی جو مساوی تقسیم زر کے فلسفہ پر عمل نہیں کرتی جو قائداعظمؒ کے خواب کو پورا کرنے کے لئے پاکستان کو ایک فلاحی مملکت نہیں بنائی اسی قسم کے سونامی بجٹ آتے رہیں گے۔....
روشنی پھوٹے گی تب ختم مصائب ہوں گے
اک ذرا صبر کرو خونِ جگر ہونے تک