قانون کی حکمرانی کب ہو گی!

23 جون 2011
سید روح الامین
بدقسمتی سے ہمارے ہاں قانون پر عملدرآمد اور قانون کی حکمرانی کا رواج شروع ہی سے نہیں ہے۔ یہاں قانون یا تو مخالفین کو تنگ کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے یا پھر غریبوں کو ذلیل و خوار کرنے کے لئے۔ وڈیرے، جاگیردار، اہل ثروت ہمیشہ قانون کی گرفت سے ”محفوظ“ ہی رہتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک عام اور بے بس آدمی کے لئے قانون فوراً حرکت میں آ جاتا ہے اور قانون اس کو تہس نہس کر کے رکھ دیتا ہے۔ فرض کریں اگر کوئی غریب آدمی میٹرک کی جعلی سند حاصل کر لے تو ”قانون“ کی حرکت دیکھنے والی ہوتی ہے۔ سب جانتے ہیں ہمارے لیڈران میں سے کئی ”حضرات“ جعلی ڈگریاں لے کر قانون سازیاں کر رہے ہیں۔ ”قانون“ انہیں گرفت میں لینے کی بجائے انہیں ”عزت“ کی نگاہ سے دیکھتا اور انہیں سلیوٹ کرتا ہے۔ سابقہ وزیر قانون اپنے عہد وزارت میں خود سپریم کورٹ کے فیصلوں کا بڑی ڈھٹائی سے مذاق اڑاتے رہے ہیں۔ موجودہ حکومت نے تو ویسے بھی عدالتوں کے فیصلوں کو نہ ماننے کی قسم کھا رکھی ہے۔ ایبٹ آباد میں دہشت گردی ہو، کراچی مہران بیس کا واقعہ ہو ”قانون“ خاموش اور تماشائی دکھائی دیتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ کوئٹہ میں ایک حاملہ خاتون سمیت 5 افراد کو سرعام سکیورٹی والے مار دیتے ہیں کئی دن گزرنے کے باوجود ان غیر ملکیوں کے ”قاتل“ دندناتے پھر رہے ہیں انہیں ”قانون“ نے گرفتار تک کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ کمشن اور کمیٹیاں تو بے معنی ہوتی ہیں یہ ساری باتیں واقعات کی اصل حقیقت کو چھپانے کے لئے ہوتی ہیں۔ آئے روز قانون کی گرفت میں غریب انسان تشدد سے مار دیئے جاتے ہیں۔ کیا بنتا ہے کچھ بھی نہیں۔ کسی حکومتی رکن کے ہاں کوئی خوشی غمی ہو جائے تو اس کے گھر کے باہر سرکاری گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں۔ عام شہری کو قانون کیا تحفظ دیتا ہے؟ بہرحال ہمارے ہاں بے شمار مسائل کا حل قانون کی پاسداری میں ہے۔ جب تک قانون کی حکمرانی نہیں ہو گی اور قانون کی نظر میں صدر، وزیراعظم اور عام شہری یکساں حیثیت کے حامل نہیں ہوں گے اس وقت تک وطن عزیز کی ترقی و فلاح و بہبود ایک ”خواب“ ہی رہے گی اور ہمارے ہاں جنگل کا قانون ہو گا۔