بے روزگاری ”سماجی ایٹم بم“

23 جون 2011
خورشید احمد
ملک میں بجلی و گیس کی شدید لوڈشیڈنگ اور قومی معیشت آئی ایم ایف کے ہاتھوں گروی پڑنے اور آئے دن دہشت گردی کے المناک واقعات سے ہزاروں کارخانے بند ہوگئے ہیں اور لاکھوں محنت کش بیروزگار ہوچکے ہیں نیز دو کروڑ سے زائد پاکستانی سیلاب کی تباہ کاریوں سے تاحال پوری طرح بحال نہیں ہو پائے۔ قومی صنعت اور کاروبار کیلئے امریکہ میں دو فیصد شرح سود کے مقابلہ میں پاکستان میں سٹیٹ بینک کی مقرر کردہ شرح سود 14 فیصد ہے۔ ملک میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور حکمران طبقہ کی لوٹ مار اور ملک کی آبادی میں تیزی سے اضافہ اور عالمی معیشت کے مقابلہ کی اہلیت پوری طرح نہیں ہے۔ ملک میں فرسودہ جاگیرداری نظام بدستور قائم ہے۔ اس سے ملکی معیشت کی حالت دن بدن خراب ہورہی ہے۔ ملک میں غریب بچوں و بچیوں کیلئے بامقصد تعلیم کے فقدان کی وجہ اور قومی صنعت، و زراعت آبادی کی شرح میں اضافہ کے مقابلہ میں ترقی نہیں کررہی۔ ملک میں ہر سال 16 لاکھ سے زائد نوجوان لیبر مارکیٹ میں داخل ہورہے ہیں جبکہ پہلے ہی بیروزگار افرادی قوت کو پوری طرح روزگار میسر نہیں ہوتا۔ بعض کارکن جزوقتی کام یا نہایت خطرناک کام غیرمنظم محنت و مزدوری کرکے بمشکل دو وقت کی روٹی حاصل کرتے ہیں۔ ملک میں عام بیروزگاری اور ضروریات زندگی کی اشیاءمیں کمر توڑ مہنگائی کی وجہ سے غربت میں روزافزوں اضافہ ہورہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 40 فیصد سے زائد آبادی غربت کی شرح سے بھی کم سطح پر ہے۔ دوسری جانب ملک کے جاگیردار، سرمایہ دار اور حکمران طبقہ شاہانہ طور پر دولت کی نمود و نمائش کرکے بڑے محلات اور پجارو گاڑیاں دکھا کر بے روزگار، غریب عوام اور نوجوانوں کا منہ چڑا رہا ہے۔ حکومت اور پالیسی سازوں نے اس عام بیروزگاری اور روزافزوں غربت اور ضروریات زندگی کی اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ اور سماج میں امیر و غریب کے مابین بڑھتے ہوئے بے پناہ فرق اور حکمران طبقہ کی قومی دولت کی لوٹ کھسوٹ کو نہ روکا تو یہ ”سماجی ایٹم بم“ ثابت ہوگا۔
ان حالات میں حکمرانوں کا بنیادی فرض ہے کہ وہ حسب ذیل ہنگامی اقدامات کریں۔
-1قومی دولت لوٹنے والوں کو معاف نہ کیا جائے۔
-2 ملک میں جاگیرداری نظام ختم کرکے فالتو زمینیں بمعہ سرکاری زمین بے زمین کسانوں کو دی جائیں۔
-3 قومی اقتصادی خودکفالت کی پالیسی اپنا کر قومی صنعت و زراعت کو ترقی دیکر روزگار کے مواقع وسیع کئے جائیں۔
-4 ملک میں ہر بچے و بچی کو جدید تقاضوں کے مطابق بامقصد فنی و سائنسی تعلیم و تربیت کا مفت انتظام کیا جائے۔
-5 بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ قومی صنعت و زراعت کے شعبہ کو مستثنیٰ کرنے کیلئے ہنگامی اقدامات کئے جائیں۔