جمعرات ‘ 20 رجب المرجب1 432ھ‘ 23 جون 2011

23 جون 2011
شیر افگن اپنی پارٹی کے کنونشن میں شرکت کرنے کیلئے تنظیمی دورے پر ملتان آئے۔
جونہی بٹیر افگن نے ضلعی عہدیداروں کے نام پارٹی ورکرز کے سامنے پیش کئے‘ ایک ہنگامہ رستاخیز برپا ہو گیا‘ ورکرز آگ بگولہ ہو گئے اور ڈاکٹر صاحب کو بصد دھکم پیل سٹیج سے اتار کر کمرے میں بند کر دیا اور ....ع
بڑی مشکل سے بٹیر افگن زیر دام آیا
گویا آل پاکستان مسلم لیگ یاجال پاکستان مسلم لیگ کا پہلا تنظیمی کنونشن فلاپ ہو گیا‘ وہ جو لندن‘ دبئی سے بڑھکیں لگاتے ہیں‘ ان کیلئے یہ واقعہ بڑھک شکن ثابت ہو گا۔ نظام عدل حرکت میں آئے‘ اس بڑھک افگن کو بھی انٹرپول کے ذریعے واپس لائے تاکہ معلوم ہو کہ آج کے خسرو پرویز کو پارٹی بنا کر یہاں سیاست سیاست کھیلنے کی نہیں‘ جیل کی ضرورت ہے۔ کیا قوم کا مجرم اور پیپلز پارٹی کو دلدل میں پھنسانے والا آج یوں سیر سپاٹے کرتا‘ بڑھکیں لگاتا‘ لال پری سے دل بہلاتا اور لال مسجد کو بھول جاتا کھلا پھر رہا ہے۔ امریکہ کو اگر پاکستان میں آنے نہ دیا ہوتا‘ تعاون کے معاہدے نہ کئے ہوتے‘ خودمختاری کو داﺅ پر نہ لگایا ہوتا‘ تو آج ملک کے یہ حالات نہ ہوتے جو حکمرانوں کے سنبھالے سنبھلتے نہیں۔ یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ بجلی نہیں‘ پانی نہیں‘ مہنگائی ہے‘ بدامنی ہے‘ ٹارگٹ کلنگ ہے‘ اوور بلنگ ہے‘ مگر پھر بھی جمہوریت ہے‘ پیپلز پارٹی پیپل کے نیچے بیٹھنے کے بجائے گیان سے کام لے تاکہ آئندہ انتخابات کیلئے لوگوں کے دل میں کوئی نرم گوشہ پیدا ہو۔ پیپلز پارٹی تو سیکولر نہیں‘ پھر وہ اسلام کا معاشی نظام کیوں نہیں برپا کرتی؟ بہرحال شیرافگن کو انکی اپنی پارٹی نے جس طرح شغال افگن بنا دیا‘ ایسا تو کسی سیاست دان ہیچمدان کے ساتھ کبھی نہ ہو۔
٭....٭....٭....٭
چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ نواز شریف ڈرپوک اور زرداری زیرک سیاست دان ہیں۔ لال مسجد کا گناہ مشرف کیلئے ناقابل معافی ہے۔
چودھری شجاعت کی سوچ کب تبدیل ہوئی ہے‘ ایک دور تھا کہ گجراتی نواز شریف کے بارے ”شیر‘ شیر“ کی رٹ لگاتے تھکتے نہیں تھے اور 2008ءکے انتخابات میں چھوٹے چودھری پنجاب کو کرپٹ زرداری ٹولے سے بچانے کیلئے واویلا کرتے تھے۔ این آئی سی ایل سکینڈل کی شکل میں انکی ”پوشل“ پر ہلکا سا پاﺅں کیا رکھا گیا‘ انہیں دن کی روشنی میں بھی تارے نظر آنا شروع ہو گئے۔ پنجاب کی روایت ہے کہ چودھری نسل در نسل دشمنی منتقل کر لیتا ہے لیکن دشمن کے سامنے ہتھیار پھینکنا توہین سمجھتا ہے۔ گجرات کے چودھریوں نے نہ صرف ہتھیار پھینکے‘ بلکہ ایوان صدر جا کر ”لمے پے گئے“ کہ جناب زرداری ہم آپکی تعریف و توصیف کے بند باندھ دیںگے لیکن ہمارے بچے مونس کو سکینڈل سے بچاﺅ۔ چودھری شجاعت نے زرداری کو ”زیرو“ کہا ہو گا‘ لیکن سننے والوں کو زیرک سمجھ آیا کیونکہ انکی بات کو سمجھنے کیلئے حواس خمسہ کا متوجہ ہونا ضروری ہے۔
لال مسجد کا گناہ اگر پرویز مشرف کیلئے ناقابل معافی ہے تو چودھری صاحب آپ بھی اس گناہ میں شامل تھے۔ گناہ سرزد ہونے کے باوجود آپ نے منہ میں ”گھنگنیاں“ ڈال کر مشرف کو جپھہ مارے رکھا۔آج مشرف دور کی ساری ”لے پالک“ کابینہ کو ان معصوم بچیوں کی چیخیں سونے نہیں دیتیں‘ وہ دن دور نہیں جب اس سانحہ میں ملوث سارے کردار اشترنخی کی طرح گلیوں میں پاگلوں جیسی آہ و زاری کرتے پھریں گے۔ بہرحال چودھری شجاعت آج جس زرداری کے گیت گاتے تھکنے نہیں‘ انکی وفا الطاف حسین حالی کے اس شعر سے مختلف نہیں‘ ذرا تصرف سے عرض ہے....
کس سے پیمان وفا باندھ” رہے ہیں شجاعت“
کل نہ پہچان سکے گی گل تر کی صورت
٭....٭....٭....٭
اپوزیشن لیڈر چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ کرپشن میں ڈوبے آصف علی زرداری کو صدر نہیں مانتے۔
چودھری نثار نے چپ کا روزہ آخر توڑ ہی دیا ہے‘ تین سال کے بعد اگر انہیں ایوان صدر میں قبضہ مافیا نظر آرہا ہے تو انکی حرکات و سکنات سے عوام کو مطلع کیوں نہیں کرتے؟ اسلام آباد میں چوہے بلی کا کھیل جاری ہے‘ عوام کرپشن ٹولے سے تنگ ضرور ہیں‘ لیکن انہیں دور دور تک محب وطن لیڈر شپ نظر نہیں آتی۔ بیچ چوراہے کے کھڑے بیچارے عوام یوں گویا ہیں....
قافلہ کس کی پیروی میں چلے
کون سب سے بڑا لٹیرا ہے
سر پہ راہی کے سربراہی ہے
کیا صفائی کا ہاتھ پھیرا ہے
ہر سیاست دان بڑے بڑے دعوے کرکے قیادت کا تاج سر پر سجاتا ہے لیکن دو چار سال بعد وہی سب سے بڑا لٹیرا ہوتا ہے۔ اتنی بے رحمی سے ملکی خزانے پر ہاتھ صاف کیا جاتا ہے کہ عوام منہ تکتے رہ جاتے ہیں۔ سوئس اکاﺅنٹس سے لے کر چکری کے قریب موٹروے کو ”چکر“ دینے تک ہر ایک چیز کی تحقیق ہونی چاہیے کہ بہتی گنگا میں ہاتھ کس نے دھوئے اور نہایا کون کون؟ تاکہ عوام سارے کالک زدہ چہروں کو دیکھ سکیں۔
٭....٭....٭....٭
نصف سے زائد خواتین ایم پی ایز کو لاہور میں رہائش کیلئے دشواری کا سامنا۔
جب سے خصوصی نشستوں پر خواتین کی تقرریاں شروع ہوئی ہیں‘ تب سے تو امتیازی سلوک ختم ہو چکا‘ ان کا نہ کوئی حلقہ انتخاب ہے‘ نہ ہی سفارشوں اور ترقیاتی کاموں کا سردرد‘ انہوں نے صرف اجلاس میں آکر تنخواہ اور مراعات لینی ہوتی ہیں‘ اگر ان ہی اجلاسوں میں غیرحاضر رہیں گی تو اسمبلی کا اجلاس زعفران کیسے بن سکے گا۔
حکومت اگر خواتین ایم پی ایز کی مشکلات دور نہیں کر سکتی تو عام خواتین کے مسائل کا کیا بنے گا‘ بعض خواتین ایم پی ایز لاہور کے پوش علاقوں میں ذاتی رہائش رکھنے کے باوجود دور دراز کے علاقوں سے لاہور آنا ظاہر کرکے شاید خزانے کو ٹیکہ لگانا چاہتی ہونگی اگر ارکان پارلیمنٹ یہ انداز اپنائیں گے تو عام آدمی کیوں یہی راستہ اختیار نہیں کریگا۔ حکومت پنجاب کو اس کا نوٹس لینا چاہیے اور خود کو پینڈو ظاہر کرنیوالی لاہوری خواتین کے ناموں کی لسٹ اسمبلی میں پیش کرنی چاہیے۔ ہم خواتین کےخلاف قطعاً نہیں ہیں لیکن ....ع
لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...