ہندو نفسیاتی اور سیاسی حصار کا ایک تاریخی جائزہ .... (۱)

23 جون 2011
ہندو سماج کا شمار برّصغیرجنوبی ایشیا کی قدیم ترین تہذیبوں میںہوتا ہے۔ جغرافیائی طور پر یہ خطّہ افغانستان کے دشور گزار پہاڑی سلسلوں، خطرناک کھائیوں، سبزہ زار وادیوں سے لیکر پاک و ہنداور بنگلہ دیش کے سمندروں یعنی بحیرہ عرب، بحر ہند اور خلیج بنگال تک پھیلا ہوا ہے۔ افغانستان، پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا ، نیپال اور بھوٹان اس خطے کے اہم ممالک ہیں۔برما ، چین،روس ، ایران اور وسط ایشیائی ریاستیں تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان کا شمار جنوبی ایشیا کے اہم ہمسایہ ممالک میں ہوتا ہے۔ یہ خطہ زمانہ قدیم سے ہی بیرونی حملہ آوروں اور عظیم سلطنتیں قائم کرنے والے جنگجوﺅں کی آماجگاہ رہا ہے۔ آریانسل سے متعلق ہندو سماج کے پیروکار 1700سے 1500قبل مسیح کے زمانے میں وسط ایشیا میں بحیرہ کسپین (caspian sea) کے ارد گرد کے علاقوں سے آئے اور افغانستان میں پہلا قیام کیا اور پھر سندھ و پنجاب میں دراوڑی نسل کی ہندی تہذیب کو اُجاڑنے کے بعد بتدریج برصغیر ہندوستان پر نہ صرف قابض ہو گئے بلکہ ہندوستان کو بھارت ماتا کا روپ دیکر جنوبی ایشیا کو اپنی سیاسی ، معاشرتی اور نفسیاتی حصار کا محور بنا لیا۔ یہ درست ہے کہ زیادہ تر مورخ جنوبی ایشیا کی دراوڑی تہذیب کو ہی قدیم ترین تہذیبوں میں گردانتے ہیں اور بادی النظر میں دراوڑی نسل کے لوگوں کو ہی برصغیر ہندوستان کے قدیمی باشندوں سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اِسی حوالے سے موہنجو داڑو اور ہڑپہ کے تہذیبی ورثہ کو ایران، عراق اور مصر کے قدیم ترین تاریخی ورثہ کا ہم عصر اور عسکری صلاحیتوں کی نسبت اپنے زمانے کی انتہائی شائستہ اور امن و امان سے معمور تہذیبوں میں کیا جاتا ہے لیکن جنوبی ایشیا میں آریا ہندو سماج کی آمد اور دراوڑی تہذیب کی تباہی کے نتیجے میں ہندو تہذیب نے جس طرح سے جنوبی ایشیا کو ہندو نفسیاتی اور سیاسی حصار کا حصہ بنایا اُس کے اثرات آج بھی جنوبی ایشیا کی تمدنی زندگی پر محسوس کئے جا سکتے ہیں ۔
تاریخ اِس اَمر کی شاہد ہے کہ چوتھی صدی قبل مسیح میں جب یونانی فاتح سکندر اعظم نے شمال مغرب کی جانب سے جنوبی ایشیا پر یلغار کی تو افغانستان اور ہندوستان میں ہندو دھرم کے اثرات نمایاں تھے ۔ سکندراعظم کی وفات کے بعد افغانستان اور ہندوستان میں سکندر اعظم کے مقبوضات پر یونانی فوجیں زیادہ دیر تک قابض نہ رہ سکیں اور بالآخر چندر گپت موریہ نے اپنے اہم وزیر چانکیہ کوٹلیہ کی سیاسی سازشوں کے بل بوتے پر یونانی ریجنٹ کو اقتدار سے محروم کر کے اپنی سلطنت کو بتدریج افغانستان سے لیکر بحیرہ عرب ، بحر ہند اور خلیج بنگال تک پھیلا دیا۔ چنانچہ چندر گپت موریہ کے زمانے میں نہ صرف ایک مضبوط ہندو مرکزی حکومت قائم ہوئی بلکہ آریا ہندو سماج نے جنوبی ایشیا کو اپنے نفسیاتی اور سیاسی حصار کا حصہ بنا لیا ۔
چانکیہ فلاسفی کے بانی اور موریہ کے اہم وزیر چانکیہ کوٹلیہ کی جارحیت پسند پالیسی نے ہندو تہذیبی حصار کو سلطنت کے طول و ارض میں پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ چانکیہ کے اقوال نے ہندو شدت پسندی کو غیر معمولی مہمیز دی جس کی بنیادی فکر طاقت کی ہوس اور ہمسایہ ممالک کو فتح کرنے کے جذبے پر رکھی گئی۔ یہ کہا گیا کہ ہمسایہ ریاستوں کو ہمیشہ دشمن ریاستیں تصور کرو اور ہمسایہ ریاستوں کے پار کی حکومتوں سے ہمیشہ دوستی اور اشتراک عمل کے سلسلے کو آگے بڑھاﺅ، تاکہ ریاست کی ہیبت ہمسایہ ممالک پر قائم رہے۔ضرورت پڑنے پر ہمسایوں سے دوستی کے جذبات محض ہمسایہ ریاستو ں کو دھوکے میںرکھنے کےلئے استعمال کرو اور موقع ملتے ہی وار کروچنانچہ چانکیہ کوٹلیہ کے وچار نے ہندو سماج میں ڈپلومیسی، چالاکی، فریب اور دھوکے کی سیاست کو فروغ دیا۔
خود بھارت کے بانی وزیراعظم جواہر لال نہرو بھی اِس اَمر کی تائید کرتے ہوئے اپنی کتاب ، تلاشِ ہند ، میں لکھتے ہیں” دنیا میں کوئی چیز ایسی نہ تھی جو چانکیہ کوٹلیہ اپنا مقصد حاصل کرنے کےلئے نہ کر سکتا ہو۔ وہ بالکل بے اصول آدمی تھا اور اپنے مقصد کی پیروی اور اسکے حصول میں اخلاقی اصول سے بے نیاز اور اپنے ارادے میں پختہ تھا، چانکیہ اِسی فکر کا حامل تھاکہ اگر دشمن کو شکست دینے کےلئے فریب و ریاکاری اور تباہی و بربادی کے طریقوں سے کام لینا ضروری ہے تو ان سے یقینا کام لینا چاہئے“۔
آریا ہندو سماج کی تاریخ شدت پسندی اور دہشت گردی کے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ آریا لوگ جب ہندوستان میں آئے تو انہوں نے موہنجوداڑو اور ہڑپہ کی دراوڑی تہذیب کو تباہ و برباد کر کے اپنی شدت پسندی کا آغاز کیا اور ذات پات کے نظام میں جنوبی ایشیا کی معاشرتی زندگی کو جکڑ کررکھ دیا ، چنانچہ تاریخ کے مختلف ادوار میں ہندوستان پر حملہ آور مختلف فاتح قوموں اور مذاہب کو ہندوازم کے حصار میں جذب اور ضم کرنے کی ہندو پالیسی میں وقت گذرنے کےساتھ شدت پسندی کا عنصر داخل ہوتا گیا ۔
مشہور برطانوی مورخ ، ڈبلیو۔ ڈبلیو ہنٹر ہندو ازم کی اِس ساحری کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ماضی میں بے شمار فاتحین بشمول یونانی، بیکٹرین، کُشان، ساکا ، تاتاری اورہن وغیرہ ہندوستان میں فاتح کے طور پر داخل ہوئے لیکن ان سب فاتح قوموں کو آریا ہندو سماج نے بتدریج ذات پات کے ہندو دھرم میں جذب کر لیا۔ ہندوازم دراصل اپنی سماجی، سیاسی اور نفسیاتی جدوجہد میں تسلسل کے بل بوتے پرہی ہندو دھرم کو ہندوستان میں قائم و دائم رکھنے میں کامیاب ہوا ہے۔ بنیادی طور پر اِس سماجی تسلسل کو ممکن بنانے میں آریا ہندو سماج کی ساحری دو باتوں کی مرہون منت تھی یعنی اقتدار کے منصبوں پر ہوں تو مخالف سیاسی و مذہبی قوتوں کو شدت پسندی سے کچل دینا اور بیرونی حملہ آوروں کے فتحیاب ہونے کی صورت میں اُنہیں خوش آمدید کہتے ہوئے وقتی طور پر ہندو ازم کو دفاعی سماجی حصار میں محفوظ کرنا تاکہ فاتح قوموں پر زوال کے آثار نمودار ہونے پر اپنے سماجی حصار سے نکل کر اقتدار کے منصبوں پر پھر سے قابض ہو جانا اور اقتدار پر غالب ہونے کے بعد مخالف قوموں کو آہنی ہاتھوں سے کچل کر ہندو سماج میں جذب کر لینا ۔ حقیقتاً، بیرونی حملہ آور قومیں ہندوستان کو فتح تو کرتی رہیں لیکن ہندوستان کی معاشرتی زندگی پر حاوی آریا ہندو سماج کی جذب کی پالیسی کو سمجھنے میں ناکام رہیں چنانچہ ہندو ازم نے اِن قوموں کو ذات پات کے تعصبات سے بھرے ہندو سماج میں اتنی کمتر پوزیشن دی کہ ہندو معاشرے میں اُنکی حیثیت شودروں سے بھی بدتر ہوتی گئی۔
اِسی فکر کی تائید جواہر لال نہرو اپنی کتاب تلاشِ ہند میں ہندو مت کی سماجی برتری کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ گو کہ ہندوستان میں رہنے والا بودھ یا جینی سو فیصدی ہندوستانی تخیل اور تہذیب کی پیداوار ہے لیکن پھر بھی ہم اسے ہندو نہیںکہہ سکتے۔ ہم اپنی تہذیبی روایات کےلئے خواہ کونسا لفظ استعمال کریں انڈین، ہندی یا ہندوستانی، ہماری تہذیب اور قوم کے ارتقا کی سب سے اہم خصوصیت ترکیب و امتزاج کا وہ داخلی رجحان ہے جو ہمارے ہندو فلسفیانہ طرزِ خیال (آریا ہندو سماج) کا پیدا کیا ہوا ہے۔ بیرونی اثرات مختلف زمانوں میں اس ہندو تہذیب پر حملہ آور ہوتے رہے لیکن اس نے ہمیشہ ان کا مقابلہ کامیابی سے کیا اور امتزاج اور جذب کے عمل سے بیرونی اثرات پر فتح حاصل کی“۔
حقیقت یہی ہے کہ ہندو سماج کے ظلم و ستم کےخلاف چھٹی صدی قبل مسیح میں مہاتما گوتم بدھ نے انسانیت کے تحفظ کا علم بلندکیا۔ انہوں نے آریا ہندو سماج میں ذات پات کی تقسیم ( برہمن ، کشتری ، ویش اور شودر ) کےخلاف تمام انسانوں کو برابر قرار دیا، چھوت چھات اور معاشرتی اونچ نیچ کےخلاف آواز بلند کی اور عام لوگوں کو نیکی اور پاک بازی کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ہر انسان کی اچھائی اور برائی اسکے اپنے قول و فعل میں پوشیدہ ہے۔ اچھا کام کرنےوالے کو راحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے جبکہ بُرا کام کرنیوالے کو بالاآخر دکھ ملتے ہیں۔ گوتم بدھ کی تعلیمات نے ہندو معاشرے پر ایک تازیانے کا کام کیا اور نچلی ذات کے ہندوﺅں میں چانکیہ کوٹلیہ آریا ہندو سماج کی شدت پسندی کےخلاف انسانی احساسات اور جذبات بیدار ہوئے، اِس لئے کہا جا سکتا ہے کہ نچلی ذات کے ہندوﺅں اور اچھوتوں کےخلاف اونچی ذات کے برہمو ہندو معاشرے کی غیرمعمولی انتہا پسندی کےخلاف چھٹی صدی قبل مسیح میں بالخصوص بدھ مت کو ہندوستان میں غیر معمولی فروغ حاصل ہوا جسے آریا ہندو سماج کےخلاف نچلی ذات کے ہندوﺅں کی بغاوت سے تعبیر کیا گیا ۔ (جاری)