کچھ تو سوچیئے

23 جون 2011
ڈرون حملہ اور وزیرستان لازم و ملزوم بن چکے ہیں۔ یہ علاقہ، نیٹو، امریکہ کی چراہ گاہ بنا دی گئی ہے لہٰذا اب اس میں کوئی ”خبریت“ نہیں رہ گئی۔ تاہم خبر یہ ہے کہ کرم ایجنسی میں ڈرون حملے، پے در پے 5 حملے، امدادی کاررائیوں میں مصروف افراد پر حملہ، امریکی جنگ کے دائرہ کار کی وسعت کا غماز ہے۔ پاکستان چُپکا بیٹھا ہے۔ گزشتہ دس سالوں میں اُمت مسلمہ بالعموم اور پاکستان بالخصوص جن حالات سے دوچار ہیں اس کا حاصل صرف ایک ہے۔ امریکہ اور مسلم حکمرانوں کے درمیان جھگڑا صرف اتنا ہے کہ اپنے عوام کو وہ خود ماریں گے یا امریکہ مارے گا، یا نیٹو سے مروائے گا۔ لیبیا کو دیکھ لیں عوام کے حصے میں قبریں آئیں گی۔ مرنے کا طریق کار بھی طے شدہ ہے۔ عوام کو شریکِ مشورہ رکھا جاتا ہے۔ ٹیکسوں سے مرنا پسند فرمائیں گے، جون میں مرنا چاہیں تو لوڈشیڈنگ فراہم کی جائےگی۔ بجلی، گیس کے بل، بجٹ، بے روزگاری، صنعتوں کی بندش، یہ بھی مرنے کے مختلف طریقے ہیں۔ ان سے تنگ آئے لوگ رضا کارانہ طور پر خودکشی کر لیتے ہیں جو اگرچہ حرام ہے لیکن امریکہ اس طریقے پر مرنے کو بُرا نہیں کہتا اس لئے حکومت بھی منہ موڑ لیتی ہے۔ دو طریقے جو پہلے صرف قبائل میں آزمائے جاتے رہے تو عوام خاموش رہے لیکن جب انہیں بڑے شہروں میں آزمایا گیا تو پورے ملک میں کہرام مچ گیا وہ طریقہ خروٹ آباد (کوئٹہ) اور کراچی میں سرفراز شاہ پر گولیاں برسا کر فوری اور آسان موت کا تھا حالانکہ فاقہ کشی، بجلی گیس کی بندش اور بے روزگاری کی جوتیاں چٹخانے سے تو سرفراز کو بچا لیا گیا۔ شہادت کی ایک قسم سے سرفراز کر دیا لیکن لوگ چلا اٹھے۔ ڈرون حملے قدم بہ قدم آگے بڑھ رہے ہیں۔ عوام کے ردعمل پر موقوف ہے کہ وہ کس شہر تک جا سکتے ہیں۔ صحافیوں کےلئے جو انتظام ہے وہ سلیم شہزاد کے ذریعے سامنے آ گیا۔ میڈیا، آزادی کا زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرے۔ امریکہ، یورپ کو دیکھ کر غلط فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ عراق کی جنگ میں پیوست صحافی (Embedded Journalist) اور انکی امریکی مفادات اور پالیسیوں میں پیوستہ صحافت یاد رکھیں۔ اُس سے انحراف کیا تو ”الجزیرہ“ والوں کا حشر افغانستان اور عراق میں یاد رکھیں۔ آزادی صحافت کی پہلی قبریں 9/11 کے بعد ”الجزیرہ“ ہی کی کھودی گئی تھیں۔
یہ سب تو ہوا عوام کا حشر۔ لیکن تابکہ!اب جو حکمرانوں کو بھی درپیش ہے اور پاکستان کو ایک ملک و قوم کی حیثیت سے وہ بھی ذرا دیکھ لیں۔ عوام تو رگڑے کھا کھا کر کچھ پکے ہو گئے ہیں۔ حکمران کی تو کُتیا ائر کنڈیشنڈ آرام گاہوں میں بھی انتقال کر گئی (وزیراعظم گیلانی صاحب کی) پاکستان کے حالات کی شدت کی تاب نہ لاتے ہوئے۔ تو آرام و آسائش والے بی ایم ڈبلیو حکمرانوں کا کیا بنے گا؟ نیٹو طیارے خلاف ورزیاں کرتے ہوئے آپکے علاقے میں مٹر گشت فرما رہے ہیں۔ بھارت سمندری حدود میں پھنکار رہا ہے۔ پی این ایس بابر پر چڑھ دوڑا اور اسکے بعد اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹتا رہا! ڈرون حملے تازہ؟ کیا یہ بھی آپکی اجازت سے ہوئے ہیں؟ (یہ تو راز نہیں ہے کہ وزیرستان میں چِپ بھی آپ فراہم کرتے ہیں۔ جاسوسوں کو ادائیگی بھی آپکے کیمپوں سے کی جاتی ہے) اگر یہ کیمپ اب کرم ایجنسی تک آ گئے ہیں تو بتا دیجئے۔ نیز یہ بھی کہ اور کون کون سے علاقے، تابوت اور کفن تیار کر لیں؟ امریکہ اُدھر واپسی کا رختِ سفر باندھ رہا ہے۔
امریکی سینیٹر اور سابق صدارتی امیدوار جان کیری نے کہا ہے ”افغان جنگ سے کئی اہم اسباق سیکھنے کا موقع ملا، ہماری افواج کو دیگر اقوام کی آزادی کےلئے جا کر جنگ نہیں لڑنی چاہئے۔“ اس سبق سے ہم بھی چاہیں تو سبق اٹھا سکتے ہیں کہ ہم امریکی مفادات کی جنگ لڑتے لڑتے اپنی آزادی داو پر لگا بیٹھے ہیں۔ اب امریکہ تو چلا جائےگا (جس کے جانے کے خوف سے ہمارے بڑوں کی گھگھی بندھ جاتی ہے!) ہم یہ بھول گئے تھے کہ افغانستان ہمارا ہمسایہ ہے ہمیں اسکے ساتھ ہی رہنا ہے۔ اگر بھاگتے دوڑتے پھولی سانس کےساتھ سستانے امریکہ ہمارے ہاں آبیٹھا؟ اب تو وہ فرفر اردو، پشتو بولتا ہے، اسکی کوٹھیاں اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، سیالکوٹ کہاں نہیں ہیں۔ امریکی سفارتخانہ آپ سے پوچھے بغیر توسیع در توسیع پر عمل پیرا مضبوط اڈہ بنائے بیٹھا ہے! طالبان، افغانستان آزاد کروا کے، آپکے ”مہمان“ کی میزبانی کو یہاں بھی آ سکتے ہیں اور اگر ڈوبتی بگڑتی معیشت، رائے عامہ نے اجازت نہ دی اور امریکہ گھر واپس چلا گیا تو افغانستان اور اسکی آزادی اور اسلام کی جنگ لڑنے والے قبائل کے ساتھ آپ کا رشتہ کیا ہو گا؟ جن سے 41 اسلحے میں غرق ممالک مل کر پورے نہ پڑ سکے اور زخموں سے چُور چُور ہو کر دُم دبا کر دوڑ لئے انکے آگے ہم کس کھیت کی مولی ہیں؟
مومن اور کافر دونوں نظریاتی ہوتے ہیں باہم ڈٹ کر لڑتے ہیں مقابلہ کرتے ہیں۔ منافق (بصد معذرت! مسلمان کی پیٹھ میں کافر کی خاطر چُھرا گھونپنے والا اور کیا کہلائے گا!) تو بزدل اور کمزور ہوتا ہے صرف مفادات کا بندہ! پیٹ کا بندہ، ڈالر ریال کا بندہ! جنگیں پیٹ سے زیادہ دیر تک نہیں لڑی جا سکتیں۔ دیر، باجوڑ میں آپ کو جس چیز کا سامنا ہے یہ اگر بڑھ گیا تو کیا ہو گا؟ طالبان کو بدنام کرنے، قتل کروانے، کرنے، بیچنے کے علاوہ بھی کبھی سنجیدگی سے کچھ سوچا؟ وقت قریب آرہا ہے امریکہ طالبان سے مذاکرت کی بات کر رہا ہے (طالبان اب بھی انہیں گھاس ڈالنے کو تیار نہیں) جلد یا بدیر اُس کا جانا ٹھہر گیا ہے، صبح گیا یا شام گیا۔ ہم اپنی صورت آئینے میں دیکھیں، گزشتہ دس سالوں میں ہم نے طالبان کےساتھ کیا وفا کی؟ مُلا عبدالسلام ضعیف کی کتاب، عبدالرحیم مسلم دوست کی کتاب، لامنتہا اہلِ ایمان کی خونچکاں داستانیں جن کی تحقیر کرنے میں ہم نے کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی۔ اپنا مسلمان ہونا، ان کا مسلمان ہونا، حملہ آوروں کا کافر ہونا، ہم سب کچھ بھول گئے‘ اپنی شناخت بھول گئے‘ پاگل، دیوانے ہو گئے۔ اب آخری، آخری مہلت ہے۔ عاقبت نااندیش، ڈالر خور حکمرانوں کو پاکستان، اس کے وجود، مقصدِ وجود، بقا سلامتی سے کوئی غرض نہیں۔ وہ کرپٹ، انہیں لا کر ہم پر مسلط کرنےوالے کرپٹ۔ امریکہ، یورپ کیا خود کم این آر او شدہ ہے؟ عراقی پارلیمنٹ کا واویلا پڑھ لیجئے۔ عراق نے امریکہ پر 17 ارب ڈالر کی خطیر رقم خورد بُرد کرنے کا الزام عائد کیا اور اقوام متحدہ سے اس رقم کی وصولی کا مطالبہ کیا ہے۔
عراقی تیل سے حاصل ہونےوالی اس رقم کی خورد بُرد کا اعتراف امریکی آڈٹ رپورٹ میں بھی کیا گیا ہے۔ مغرب کو صداقت، امانت کا ماڈل قرار دے کر بے چارے زرداری کی گردن ناپنے والے، ترس ترس کر مغرب کو دیکھنے والے سیکولر دانشور ذرا اب اُنکی بھی خبر لیں! یہ جملہ معترضہ، گو ذرا طویل درمیان میں آن ٹپکا۔ ذرا اب امریکہ کی رخصتی کی تیاری ہم بھی کر لیں۔ ہماری وہی ہے چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔ وہی طالبان کو بدنام کرنے کے نت نئے حیلے بہانے اور نہیں تو ویڈیو سوات کی طرح اب ایک بچی کا ڈرامہ کر ڈالا ہے۔ ”خودکش حملہ آور!“ دیکھئے اب اسکی تہہ سے کیا نکلتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ریکارڈ اپنا درست فرما لیں، حقائق تسلیم کر لیں، آنے والے وقت کی تیاری کریں۔ نہ برسرِ حقائق اس وقت ہمارے لئے بہت دل خوش کن اور امید افزا ہیں اور نہ ہی زیر زمین حقائق! دوسروں کی قبریں کھودتے ہم یہ بھول بیٹھے ہیں کہ ہم سب ہی قبروں میں ٹانگیں لٹکائے بیٹھے ہیں (خواہ عمر کوئی بھی ہو) صرف ملک الموت کے ایک دھکے کی دیر ہے! پاکستان اور پاکستانیوں کو اب اپنی فکر کرنی ہے۔ امریکہ تو چلا ہی جائےگا۔ مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائےگا!
اگرچہ ہم نے خود اس پھول کی پتیاں بکھیرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اب جب امریکی جنگ اپنے آخری دموں پر ہے تو ریکارڈ درست فرمائیے۔ یہ انہی کی جنگ تھی ہماری نہیں۔ قبائل غیور محب وطن پاکستانی تھے اور ہیں۔ تحریک طالبان بھی اُن عناصر پر مشتمل ہے جو کل کے روس کےخلاف جہاد کی طرح آج دنیائے کفر اور امریکہ کے مشترکہ حملے کو جہاد جان کر اُدھر امریکہ دشمنی میں صف آرا ہوئی، ان میں کوئی پاکستان دشمن عنصر نہ تھا نہ ہے۔ انکے درمیان ”را‘ موساد“ کا پنپنا اتنا ہی ناممکن تھا اور ہے جتنا طالبان افغانستان میں۔ ہم نے تمام آپریشن امریکہ کے حکم پر کئے۔ ہمارے اُن سے تمام معاہدے امریکہ نے حملہ کر کر کے تڑوائے اور ہم اُس کا حصہ بنے۔ امریکہ کی محبت میں ہم نے دنیائے اسلام کے ایمان سے لبریز سینوں کو گوانتا نامو میں آباد کیا یا قبائل میں انکی پناہ گاہوں میں چھلنی کیا۔ گناہوں کا اقرار اور توبة النصوح ہی سے عند الناس اور عنداللہ بھی درگزر اور معافی تلافی کے دروازے کھلتے ہیں۔ تکبر کی دنیا سے نکل کر دیکھئے اللہ کے آگے جھکنے والوں نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ ہر ملک کی سرزمین کا کوئی سرمایہ ہوتا ہے، مشرقِ وسطیٰ کی زمین تیل سے مالا مال ہے۔ پاکستان کی زمین کو اللہ نے تھرکول والے کوئلے سے زیر زمین نوازا ہے۔ افغانستان کی زمین کے نیچے کیا ہے؟ تین سپر پاورز کا قبرستان! ہر نوع، ہر نسل، ہر رنگ کا کافر دفن ہے اور ہر ملک، ہر رنگ، ہر نسل کا مسلمان بھی۔ شہدائے اسلام روس اور امریکہ، نیٹو کے مقابل دینِ حق پر فدا ہو جانے والے، مر مٹنے والے! ساری دنیا کے (آپکی زبان میں) دہشت گرد! امریکہ جن کی دہشت سے دم بخود! کتنی ماوں نے اپنے لعل، آنکھوں کے تارے دنیا بھر سے اس سرزمین پر کفر کے مقابل پروانہ وار قربان کئے کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا! الیس الصبح بقریب! (کیا صبح اب قریب نہیں ہے) اس مبارک صبح پاکستان کہاں کھڑا ہو گا؟ کچھ تو سوچئے!

نفس کا امتحان

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کا آغاز اکتوبر دو ...