سعید نورسی کا ترکی ....(۱)

23 جون 2011
ڈاکٹر علی اکبر الازہری
یہ تحریر میں قارئین کی خدمت میں استنبول سے پیش کررہا ہوں۔ میں نے پہلی مرتبہ خوابوں کے اس شہر کی رونقیں دیکھی ہیں اور میں نے ہر روز اس کا کوئی نہ کوئی مقام دیکھا ہے مگر ابھی تک میں یہ فیصلہ نہیں کرسکا کہ اس شہر کی کونسی جگہ زیادہ خوبصورت اور بارونق ہے۔ استنبول کا پرانا نام قسطنطنیہ ہے۔ حضور نبی اکرم ا نے ا س اہم شہر کی فتح کو اسلام کی شاندار کامیابی قرار دیتے ہوئے فاتحین کو مغفرت کی خوشخبری دی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے صحابہ کرام ث نے جہاد میں شمولیت کے قصد سے ادھر کا رخ کیا جن میں میزبانِ رسول سیدنا ابو ایوب انصاری ص سر فہرست ہیں۔ آپ کا مزار استنبول کے قدیم حصے کی طرف واقع ہے اور دنیا بھر سے آنےوالے زائرین کا یہاں صبح سے شام تک تانتا بندھا رہتا ہے۔ استنبول ترکی کا سب سے بڑا شہر ہے اور اسکی ایک دل چسپ حیثیت یہ بھی ہے کہ اس شہر کا ایک حصہ یورپ میں اور ایک ایشیاءمیں شامل ہے۔
قدیم استنبول کے تینوں طرف سمندر ہے یہی وجہ ہے کہ اسے فتح کرنے کےلئے مسلمانوں نے کئی صدیوں تک کاوشیں جاری رکھیں بالآخر کم سن سلطان محمد فاتح بازنطینی مسیحی مملکت کے اس مضبوط مرکز کو فتح کرنے میں کامیاب ہوا۔
یہ شہر پانچ سو سال تک خلافت اسلامی کا دارالحکومت رہا اور عثمانی ترکوں نے یہاں سے پوری دنیا پر پوری پانچ صدیاں حکومت کی۔ صلیبی جنگوں کے نتیجے میں اس عظیم الشان اسلامی سلطنت کو جب کمزور کردیا گیا اور بالآخر یہاں انگریز قابض ہوگئے تو نادان ”مصطفی کمال اتا ترک“ نے 4291ءمیں خلافت کے خاتمے کے اعلان پر اکتفا نہ کیا بلکہ اسلامی تاریخ کے اس محسن عثمانی شاہی خاندان کے ایک ایک فرد کو ترکی سے نکال باہر کیا۔ خلافت کی قبا اپنے ہاتھوں سے چاک کرنےوالے اس استعمار نواز حکمران نے شاہی خاندان کےساتھ اسلامی تاریخ، ثقافت، دینی اقدار اور مذہبی آثار کو بھی صفحہ ہستی سے مٹانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اس نے مساجد کو تالے لگوا دیے، دینی مدارس کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا، عورتوں کو باپردہ لباس پہننے اور مردوں کو داڑھی رکھنے پر پابندی لگادی؛ یہاں تک کہ ترکی میں ایک عرصے تک اللہ کا نام لینا بھی قانوناً جرم قرار دے دیا گیا۔ عربی رسم الخط میں لکھی اور پڑھی جانے والی ترکی زبان کو رومن ہجوں میں منتقل کردیا گیا۔ یوں ایک ہزار سال تک شاندار اسلامی روایات کی امین ترکی قوم کو یکسر دین سے دور لے جانے کی بدترین کاوش کی گئی۔ قریب تھا کہ دشمنان اسلام اور خصوصاً کمیونسٹ طاقتوں کی آماجگاہ بننے کے بعد ترکی سے بھی اسلام اور مسلمانوں کو اسی طرح مٹادیا جاتا جس طرح صدیوں تک شاندار حکومت کرنےوالے مسلمانوں کو سپین سے نکال دیا گیا تھا، قدرت نے ان بدترین حالات کا مقابلہ کرنے کےلئے یہاں ایک نہایت باہمت شخصیت کو پیدا فرمایا جس نے ذہانت حکمت اور جرات کے ساتھ ان مشکل ترین حالات میں ترک قوم کی رہنمائی کی۔
نورس کے عام سے دینی گھرانے میں پیدا ہونے والے اس شخص کا نام سعید تھا۔ اس نے جب تعلیمی سفر شروع کیا تو خداداد ذہانت کو کام میںلاتے ہوئے سالوں میں پڑھے جانےوالے اسباق کو دنوں اور ہفتوں میں ازبر کرلیا۔ مشکل سے مشکل عبارت کو ایک مرتبہ دیکھ کر نہ صرف یاد کرلیتے تھے بلکہ اسکے معانی کی گہرائی میں بھی اتر جاتے تھے۔ اس عبقری خصوصیت کے باوصف اسکے اساتذہ نے اسے نوجوانی میں بدیع الزمان یعنی نابغہ عصر کا لقب دےدیا۔ وہ سولہ سترہ سال کا نوجوان تھا‘ اسکے سامنے کوئی بڑے سے بڑا اسکالر بھی دم نہیں مارسکتا تھا۔ اس ذہانت اور علمی دبدبے کےساتھ اللہ تعالیٰ نے سعید نورسی کو ایک حساس دل اور ایمانی جذبوں سے بھرپور غیرت مند شخصیت سے نواز رکھا تھا۔ چنانچہ جب خلافت عثمانیہ کے آخری دور میں اس کا طوطی بولنے لگا تو اس نے سلطان عبدالحمید دوم تک رسائی حاصل کی اور اس سے مملکت میں سائنسی علوم کی ترویج کیلئے نئے تعلیمی ادارے کھولنے کا مطالبہ کیا۔ وہ انگریزوں کے بڑھتے ہوئے قدموں کی چاپ کو سن رہا تھا اور چاہتا تھا کہ اسلامی خلافت کا یہ ڈھانچہ تباہ ہونے سے بچ جائے۔ حق ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے اور بادشاہوں کو تو حق سننے کی توفیق ہی نہیں ہوتی۔ چنانچہ شاہ پرست درباریوں نے اس نازک موقع پر بھی اندھے پن کا مظاہرہ کیا اور نوجوان سعید نورسی کو تلخ نوائی کا مجرم ثابت کرکے شاہی غضب کا شکار کردیا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب جمال الدین افغانی مختلف ممالک سے ہوتے ہوئے استنبول آئے تھے اور سلطان کےساتھ مل کر عالم اسلام کے اتحاد کی کاوشیں کررہے تھے لیکن درباریوں نے انکی بھی ایک نہیں چلنے دی۔ (جاری )