غریب مکاﺅ

23 جون 2011
مکرمی! اس وقت پاکستان میں تقریباً سوا سات کروڑ لوگ غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں وہ روزانہ صرف 100 روپے یا اس سے بھی کم کما پاتے ہیں اور ہر 10 شہریوں میں سے 4 مفلسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ 1995ءمیں ”بین الاقوامی کانفرنس برائے سماجی ترقی“ نے غریبی کو ایسے حالات سے تشبیہ دی جس میں ایک شہری کو اس کی بنیادی ضروریات مثلاً خوراک، پینے کا صاف پانی، صاف ستھری فضا، تعلیم، علاج معالجے کی سہولت کی عدم دستیابی ہے۔ ملک میں دن بدن غربت کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ جب تک حکومت سخت معاشی نظم و ضبط کے ذریعے افراط زر پر قابو نہیں پاتی اور خود انحصاری کو قومی شعار نہیں بناتی اور اپنے شاہانہ طرز زندگی کو خیرباد نہیں کہتی۔ غربت اسی طرح بڑھتی رہے گی اور حکومت کا نعرہ غربت مٹاﺅ اور دراصل ”غریب مکاﺅ ثابت ہو گا“
(بریگیڈئر (ر) محمودالحسن سید 24 سول لائن گل روڈ گوجرانوالہ)