”فادر ڈے“

23 جون 2011
مکرمی! باپ کے ہاتھوں میں رعشہ تھا، بیٹا شام کو کام سے گھر آتا، باپ کے ساتھ چارپائی پر بیٹھ جاتا، باپ ہمیشہ جلد گھر آنے کی تلقین کرتا، ایک روز کافی دیر ہو گئی، بیٹا حسب معمول چارپائی پر آ کر بیٹھا، باپ کا غصہ دیکھا کہ آج وہ مجھے مارنا چاہتا ہے مگر سکت نہیں۔ اپنے ہاتھ کو اٹھا نہیں سکتا۔ باپ کا ہاتھ پکڑا، اپنی گال پر رکھا۔ خود باپ کا ہاتھ اٹھایا۔ اپنی گال پر مارا۔ باپ نے اپنی آواز ساتھ ملائی ”شیدے تینوں کِنّی واری آکھیا اے چھیتی آیا کر“ باپ خوش ہو گیا۔ یہ ہے باپ اور بیٹا۔ ”فادر ڈے“ منا کر ہم اپنی اولادوں کو کیا سبق دے رہے ہیں کہ ہمیں صرف سال میں ایک دفعہ کوئی تحفہ یا پھول کی کلی دے دیا کرو، باقی اللہ، اللہ خیر سلا۔ ہماری اولادیں تو ایک دن بغیر ملے گزر جائے، تڑپ اٹھتی ہیں۔ یہ دن تو یورپ اور امریکہ کی نسل کے لئے ہے جن کی مائیں بتاتی ہیں کہ فلاں تمہارا باپ تھا۔ ہمیں تو یہ دن مناتے شرم آنی چاہیے۔
(فیاض قادری، لاہور۔ فون: 0321-4426877)