قوم کے جاگنے کا وقت ہے

23 جولائی 2009
مکرمی! امیروں کیلئے پٹرول مہنگا‘ بجلی مہنگی‘ گوشت مہنگا‘ غریبوں کیلئے سبزی مہنگی‘ دال مہنگی‘ گھی مہنگا‘ چینی مہنگی حتیٰ کہ پانی بھی مہنگا۔ مگر انسانی جان اور عزت و آبرو نہایت سستی۔ یہ کوئی اچنبھے یا فکر کرنیوالی بات نہیں بلکہ کائناتی حقیقت ہے۔ جب کوئی قوم بے حس ہو جائے اور اس کے اندر احساسِ زیاں جاتا رہے تو اس کا خون اور آبرو سستی اور باقی ہر مادی شے مہنگی ہو جاتی ہے۔ جب کسی قوم میں اتحادو اتفاق ختم ہو جائے‘ خودغرضی اور مطلب پرستی اس کا خاصہ ہو جائے تو پھر ایسی قوم کا ہر فرد سسک سسک کر اپنی سانسیں گنتا ہے اور اپنی آنیوالی نسل کو بھی یونہی لاوارث و لاچار چھوڑ کر اس دنیا سے ہزاروں حسرتیں لئے رخصت ہو جاتا ہے۔ میں شکستہ دلی سے عرض کروں گا کہ اگر اس قوم میں جان ہوتی تو اس ملک کے لٹیرے اب تک مردہ ہو چکے ہوتے۔ اگر قوم کے افراد مطلب پرست اور خودغرض نہ ہوتے تو عیش پرست حکمرانوں کو کبھی جرأت نہ ہوتی کہ وہ اپنی عیاشیوں کیلئے نت نئے ناموں کے ساتھ غریب عوام کی ضرورت کی اشیاء پر ٹیکس لگا کر ان کی خون پسینے کی کمائی ہتھیانے کی کوشش کرتے۔ اگر یہ قوم زندہ ہوتی تو جس روز عوامی مفاد کے عدالتی حکم کے فوری بعد دوبارہ غریبوں کے حق پر ڈاکہ مارا گیا تھا پورے پاکستان کی عوام سڑکوں پر یہ نعرے بلند کرتے ہوئے نکلی ہوتی کہ عیاشیاں کرو تم‘ ملکی دولت اڑاؤ تم‘ سرکاری خزانے چرا کر بیرون ملک اثاثے بناؤ تم اور بجٹ خسارے پورے کریںہم‘ واہ کیا انصاف ہے! آج ہم تب تک ان سڑکوں کو خالی نہیں کریں گے جب تک تم ہر ظلم کا حساب نہیں دو گے۔ مگر کون نکلتا؟ کس کیلئے نکلتا؟ ہر شخص کی نگاہ اپنے سوا کسی اور کو دیکھنے کے شاید قابل ہی نہیں۔ اے پاکستانی قوم! تیرے جاگنے کا وقت ہے‘ ملک بچانے کا وقت ہے چور لٹیروں کو بھگانے کا وقت ہے‘ اپنی نسلوں کو بچانے کا وقت ہے۔
(سید توقیر حسین 0322-7771277 /sth0786@hotmail.com)