جاگیرداروں کی چیرہ دستیاں

23 جولائی 2009
مکرمی! پاکستان کا جاگیردار طبقہ پورے ملک کی ساٹھ فیصد آبادی پر براہ راست حکمرانی کرتا ہے اور سارے ملک کے دیہات میں بسنے والے ستر فیصد سے زائد لوگوں کے سیاہ وسفید کا مالک ہے۔
جاگیرداروں کو ان کی جاگیر کے سکڑ جانے کابھی اندیشہ نہیں ہو تا۔ ان کے آقائوں (انگریزوں) نے 1876ء میں ایک ’’بے نامی کا قانون‘‘ رائج کیا جس کے مطابق اگر کوئی جاگیردار زمین کسی کے نام کر بھی دے تو اس کا مالک وہی رہے گا جس کو یہ زمین سرکار انگلشیہ کی خدمات کے صلے میں ملی تھی اور یہ قانون ابھی تک جوں کا توں قائم ہے۔ ان جاگیرداروں کو آمدنی کے کم ہوجانے یا فصل خراب ہونے کی فکر بھی نہیں ہوتی کیونکہ نزلہ تو غریب ہاریوں پر ہی گرتا ہے جن کے ساتھ وہ غلاموں جیسا سلوک کرتے ہیں۔ ان ہی کے ووٹوں سے جاگیر دار طبقہ اسمبلیوں میں براجمان ہوتا ہے۔ اس طرح جسے ہم جمہوری حکومت کہتے ہیں وہ دراصل جاگیرداروں کی جاگیرداروں کیلئے حکومت ہوتی ہے۔ عوام الناس تو صر ف ٹیکس دینے کیلئے پیدا ہوتے ہیں وڈیرہ اور جاگیردار ٹیکس بھی نہیں دیتا کیونکہ دستور کی فیڈرل لیجسلیٹو لسٹ کی شق نمبر 47 میں لکھا ہے کہ Tax On Income other the agraiculture ان چار الفاظ کو دو تہائی اکثریت سے جب تک حذف نہیں کیا جاتا معاشرہ کی یہ جونکیں کروڑوں کی آمدنی پر ٹیکس سے بچی رہیں گی۔ ان جاگیرداروں نے ایک سابق وزیر اعظم کی ’’قرض اتارو‘ ملک سنوارو‘‘ سکیم میں ایک پیسہ نہیں دیا تھا جس میں ملک کے لاکھوں کروڑوں مزدوروں‘ کلرکوں‘ معمولی دکانداروں حتیٰ کہ منشی اور چپڑاسیوں نے لاکھوں نہیں کروڑوں روپے اپنے دیس کو سنوارنے کیلئے پیٹ کاٹ کر دیئے تھے جن کا کوئی بچہ اگر سکول کا منہ دیکھ بھی لیتا ہے تو اسے چپڑاسی‘ منشی یا کلرک ٹائپ کی نوکری تک نہیں ملتی ہے تو وہ پھر جاگیرداروں کے ظلم اور بیروزگاری سے تنگ آکر تھانوں اور جیلوں کی رونق بن جاتے ہیں۔ عزت ماب بیبیاںخود سوزی کر لیتی ہیں۔ نوجوان بے روزگاری اور فاقوں کے مارے خودکشی کرنے پر مجبور ہوتے جاتے ہیں اور اپنے پسماندگان کو جاگیرداروں اور وڈیروں کے رحم رکرم پر چھوڑ جاتے ہیں۔ موجودہ حکومت جو کرپشن کو ختم کرنے کی دعویدار ہے اس کو چاہئے کہ بڑی بڑی جاگیریں فوراً ختم کر کے زرعی زمین کی حد ملکیت فی خاندان پندرہ یا بیس ایکڑ مقرر کر دے اور فالتو زمین بے زمین مزارعوں‘ ہاریوں اور کسانوں کو بلا قیمت دیدے۔ اس طرح اہل وطن کو نہ صرف جاگیرداروں کے ظلم سے نجات ملے گی بلکہ زرعی پیداوار میں اضافہ ہو گا۔ مخلوق خدا کو اگر تعلیم‘ علاج‘ روزگار‘ جانی ومالی تحفظ مہیا نہیں کیا جا رہا تو کم از کم پیٹ کا دوزخ ٹھنڈا رکھنے کو روٹی تو ملے گی۔محمد نذیر چہل … قلعہ دیدار سنگھ 0321-4710777