شرم الشیخ میں شاعرانہ ملاقاتیں

23 جولائی 2009
شرم الشیخ میں وزیراعظم پاکستان مخدوم گیلانی اور وزیراعظم بھارت من موہن سنگھ کی ملاقات پر بہت لکھا گیا ہے۔ مخدوم گیلانی نے پریس کانفرنس میں کہا ’’من موہن سنگھ اور صدر کرزئی نے کچھ باتیں شعر و شاعری میں کیں جن کا جواب ممتاز پارلیمنٹیرین دانشور ادیبہ بشریٰ رحمان نے شعر و شاعری میں دیا۔‘‘ مجھے بے قراری سی لگ گئی۔ بشریٰ رحمان نوائے وقت میں ہماری کولیگ کالم نگار ہیں۔ ان کے کالموں میں شعر و ادب کی خوشبو اڑتی پھرتی رہتی ہے۔ وہ پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی میں بہت مزیدار اور معنی آفریں باتیں کرتی ہیں۔ جس پر انہیں بلبلِ پنجاب کا خطاب بھی ملا۔ شرم الشیخ میں مذاکرات کے لئے آتے ہی یہ مصرع من موہن سنگھ نے پڑھا۔ع
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
اس مصرعے کو پاک بھارت معاملات کے حوالے سے دیکھا جائے تو بہت باتیں کھلتی ہیں۔ خطا بھی بھارتی قیادت سے ہوئی اور سزا بھی وہی دے رہے ہیں۔ اب اس کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل بھی شامل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے افغانستان کو پاکستان کے خلاف مورچہ بنا لیا ہے۔ پاکستان کے لئے کشمیر کو ایک سزا بنا دیا گیا ہے۔ مگر شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ قربانی کی جزا تو ملتی ہے۔ اس میں دیر لگ سکتی ہے۔ سزا کا اطلاق تو فوراً ہوتا ہے۔ سقوط مشرقی پاکستان کارگل سیاچن اور اب پاکستان کا پانی روکنے کا دھڑکا ہمارے دل میں داخل کر دیا گیا ہے۔ مخدوم گیلانی نے جواب میں شعر پڑھا۔ اس طرح وہ شعر نجانے کیا بن گیا ہے مگر اتنا محسوس ہوا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو احساس ہے کہ ان سے غلطی بلکہ غلطیاں ہوئی ہیں۔ بھارت سے دوستی کی خواہش اور کوشش ہی وہ لغزش ہے جس کی سزا ہمیں بھارت دیتا چلا جا رہا ہے۔ بہرحال مخدوم گیلانی کی کسی قدر جرأت اظہار جرأت انکار کے قریب پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے پاکستانیوں کے دل جیت لئے ہیں۔
لوگوں کو اتنی خوشی تو نہیں ہوئی جو بھارت سے کرکٹ میچ میں جیت کر ہوتی ہے۔ بھارت کے ساتھ میچ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہو جائے تو خوشی ہوتی ہے نہ رنج۔ بھارتی حکمرانوں سے ہمارے حکمرانوں کے مذاکرات بھی کسی فیصلے کے بغیر ختم ہو جاتے ہیں۔ البتہ شرم الشیخ میں مخدوم گیلانی سے من موہن سنگھ کی ملاقات اس ملاقات سے ہزار درجے بہتر ہے جو روس میں صدر زرداری اور من موہن سنگھ کے درمیان ہوئی۔ آئندہ بھارتی قیادت سے مخدوم گیلانی ملاقات اور مذاکرات کرنے جایا کریں۔ صدر زرداری امریکہ‘ یورپ اور فرینڈز آف پاکستان کے ساتھ بات کریں۔ انہیں یہی بات آتی ہے۔ اس بات کی تشریح کی ضرورت نہیں۔ تسی سمجھ گئے ہوو گے۔ (آپ سمجھ گئے ہونگے)۔ ’’صدر زرداری زندہ باد‘‘ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ سے مذاکرات کے بعد مخدوم گیلانی پاکستان آئے ہیں تو ان کی پذیرائی سے صدر زرداری کو احساس کرنا چاہئے کہ بھارت کے ساتھ دلیری سے بات کرنے میں کتنی عزت ہے؟ مخدوم گیلانی والا شعر پیش خدمت ہے؎
سہارا چاہئے تھا سنبھلنے کے لئے
لغزش ہوئی پر دوستوں نے سہارا نہ دیا
یہ شعر جس طرح میں نے سنا ہے۔ پیش کر دیا ہے۔ اب مخدوم گیلانی خود سنبھل چکے ہیں لہٰذا دوستوں کی نشاندہی کرنا اچھا نہیں لگتا۔ یہ بات ضرور ہے کہ بھارت کی دوستی اور بھارت کے پاکستانی دوستوں پر اعتماد کرنا سب سے بڑی لغزش ہے۔ اس موقع پر بشریٰ رحمان نے جو شعر پڑھا۔ وہ زیادہ بامعنی اور معنی خیز ہے۔
وہ اور ہونگے جنہیں دشمنوں سے شکوہ ہے
ہمیں تو دوست ہمارے فریب دیتے ہیں
اتنے میں صدر کرزئی بھی آ گئے اور ایسا سوال کیا جس کا جواب ان کے دل میں کسی عادی چور کی طرح ڈرا ہوا موجود ہے۔ وہ خود کہتے ہیں کہ میں پاکستان کا مہمان رہا ہوں۔ انہوں نے ہماری مہمان نوازی کا ظالمانہ مذاق اڑایا ہے۔ مگر وہ آجکل امریکہ کا مہمان ہے اور امریکہ اپنے مہمان دوستوں کا جو حال کرتا ہے وہ من موہن سنگھ کا ہونے والا ہے۔ امریکہ کی دوستی کا حال وہی ہے جو کسی ہمسائے نے دوسرے کی گائے کے حوالے سے اس کے ساتھ کیا تھا۔ اس کی گائے بیمار ہوئی۔ ہمسائے نے اُسے کوئی تیر بہدف گولی دی۔ گائے مر گئی تو اس کے ہمسائے نے گلہ کیا۔ تو یہ جواب آیا کہ میری گائے بھی تو مر گئی تھی۔ یہ دھیان میں رہے کہ گائے ہندوئوں کے لئے مقدس دیوتا ہے اور من موہن سنگھ ہندو نہیں ہیں۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر ایل کے ایڈوانی نے من موہن سنگھ کو بے حال کر دیا اور کہا کہ وہ پہلا وزیراعظم ہے جس نے پاکستان کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں۔ وہ امریکہ کی غلامی کو بھی آزادی کی طرح سمجھنے لگا ہے بھارت کے ساتھ جو پاکستان نہیں کر سکا۔ وہ امریکہ کر دے گا امریکہ دشمنوں کے سامنے نہیں آتا اور دوستوں کو دنیا کے سامنے اتنا ذلیل و خوار کرتا ہے کہ وہ ذلت اور خواری کے عادی ہو جاتے ہیں۔ نہ انہیں شرم آتی ہے نہ غیرت آتی ہے۔ وہ قومی نفع نقصان سے بھی غافل ہو جاتے ہیں۔ قومی مفادات ذاتی مفادات کے مقابلے میں ہمیشہ کے لئے بھول جاتے ہیں۔ بھارت کے کسی اخبار میں ایک کارٹون چھپا ہے جس میں من موہن سنگھ منہ لٹکائے کھڑے ہیں اور نیچے لکھا ہے۔ ان کے بارہ بجے ہوئے ہیں۔ ایل کے ایڈوانی نے اپنے وزیراعظم کے خلاف باتیں کیں جو ہمارے وزیراعظم کے حق میں چلی گئیں۔ ورنہ کوئی ہندو سیاستدان کسی پاکستانی وزیراعظم کی تعریف کیوں کرے گا۔ البتہ وہ سابق صدر مشرف اور صدر زرداری کی بہت تعریف کرتے ہیں۔ ممبئی حملوں کے بعد صدر زرداری حکومت بھارت کے تھلے لگی ہوئی ہے۔ وزیراعظم مخدوم گیلانی نے پہلی بار ذرا دلیری کے ساتھ بات کی ہے۔
پاکستان میں انہیں ایک فاتح کے روپ میں دیکھا جا رہا ہے۔ جنرل حمید گل نے کہا ہے کہ ’’ہمیں اس ملاقات میں نہ فائدہ ہوا ہے نہ نقصان ہوا ہے۔ البتہ بھارت کو بہت نقصان ہوا ہے۔‘‘ یہی تو ہمارا فائدہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ ملاقات اچھی رہی۔ اگر یہ بات نہیں تو لوک سبھا سے اپوزیشن لیڈر ایڈوانی نے واک آئوٹ کیوں کیا۔ انہیں زبردست تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور بھارت کا شوکت عزیز کہا گیا۔ کچھ مماثلت تو ہے مگر من موہن سنگھ شوکت عزیز سے ہزار درجے بہتر ہیں۔ مخدوم گیلانی کے لئے محبت بھرے جذبات کے ساتھ ساتھ من موہن سنگھ کے لئے بھی ہمیں نرم گوشہ دل میں رکھنا چاہئے شکر ہے وہ ہندو سیاستدان نہیں۔ اس کی ہمت ہے کہ پاکستان کے جائز موقف کے جرأت مندانہ اظہار پر روایتی ہندوانہ رعونت اور نفرت سے جواب نہیں دیا۔ یہی وہ رویہ ہے جس کے ذریعے پاک بھارت معاملات کو نبٹایا جا سکتا ہے۔ کہتے ہیں کہ کشمیر کا ذکر نہیں مگر تمام حل طلب ایشوز پر بات چیت پر اتفاق ہوا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ حل طلب مسائل میں کشمیر پہلے نمبر پر ہے۔ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت پر من موہن سنگھ نے منہ نہیں بنایا۔ اب یہ معاملہ ممبئی حملوں کی طرح پوری طرح دنیا اور امریکہ کے سامنے بھی لایا جائے۔
ایک پاکستانی صحافی نے مخدوم گیلانی کی پذیرائی کو ’’شوشہ‘‘ قرار دیا ہے۔ اور من موہن سنگھ کی نسبت سے ایک سردار صاحب کا لطیفہ بیان کیا ہے۔ سردار صاحب اپنی بہن کو سکوٹر پر بٹھا کر جا رہے تھے۔ سامنے سے کسی نے کہا کہ سردار جی آجکل بڑی عیش کر رہے ہو۔ سردار نے کہا کہ یہ سب گورو جی کی مہربانی ہے۔ بہن نے اعتراض کیا تو اس نے کہا کہ بہن جی تیرا کیا جاتا ہے اپنی شو۔ شا ہو رہی ہے۔ محترم صحافی کی خدمت میں یہی لطیفہ ایک اور انداز میں پیش ہے۔ سردار سے کہا گیا کہ بڑی معشوق ساتھ بٹھائی ہوئی ہے۔ سردار نے کہا کہ اوئے معشوق ہوئے گی تیری۔ میری تو بہن ہے۔ آخر میں صدر کرزئی کا سوال یاد آیا ہے کہ یہ طالبان کون ہیں۔ بشریٰ رحمان کا جواب لاجواب کرنے کی معرکہ آرائی تھی۔ وہ ان طالبان ک پوچھ رہے ہیں جن کی سرپرستی ان کے ملک سے ہوتی ہے۔
آپ مرزا غالب کا شعر سنیں؎
پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے
کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا