کشکول چور کو کٹہرے میں لائیں

23 جولائی 2009
فیس نہ دیں اور مشورہ دیں؟ وہ بھی کسی عالمی سطح کے ماہر قانونیات کو؟ بہت بھاری گستاخی ہے یہ تو۔ مگر کیا کریں اتنی بھاری فیس ہمارے پاس ہے نہیں۔ ہم جو عوام ہیں چودھری اعتزاز احسن کے قائد جمہوریت آصف علی زرداری کے‘ ہم چودھری اعتزاز احسن کی سطح کی فیس کہاں سے لائیں؟ بہت بھاری مجبوری آن پڑی ہے۔ فیس ہے نہیں اس کے بغیر وہ ہمارا مشورہ قبول کر کے اپنے پیشہ اور مقام و مرتبہ کی توہین کر نہیں سکتے اور وردی شاہ کے کشکول چور شوکت عزیز کو کسی عدالت میں لانا بہت ضروری دکھائی دینے لگا ہے۔ خاص طور پر اس وقت سے جب سے ہم نے چودھری صاحب کی زبان سے اس کشکول چور کے جرائم کی تفصیل سنی ہے۔ مشورہ نہیں تو کیا درخواست چل جائے گی؟ چلو دیکھ لیتے ہیں چودھری صاحب کی عدالت قانونیات میں درخواست پیش کر کے کہ چودھری جی آپ ان کے جرائم سے اتنے شدید آگاہ ہیں آپ کی مہارت قانونیات کی چار دانگ عالم میں شہرت دوام ہے ہم پر مہربانی کریں اور اس کشکول چور کو کسی عدالت میں تو لائیں۔ کونسی عدالت میں؟ یہ فیصلہ آپ نے اپنی مہارت کی روشنی میں کرنا ہے کہ سپریم کورٹ میں لایا جا سکتا یا قوم کی پارلیمنٹ کی کسی کمیٹی کے روبرو اس کشکول چور پر اتنے شدید نوعیت کے قومی جرائم کا کیس دائر کیا جا سکتا ہے یہ بھی آپ خوب جانتے ہوں گے۔ ہماری تو یہی درخواست ہے کہ لائیں تو اس ہمارے کشکول چور کو کسی عدالت میں ہمیں تو اب پھیلانے کے لئے بھی کوئی باعزت قسم کا کشکول نہیں مل رہا۔ دیکھ نہیں رہے آپ اپنے پارٹی قائد اور ان کے کشکول بردار کی مشکلات؟ ہمارے مصائب اور مشکلات کا نہیں تو کم از کم اپنے پارٹی مالک و مختار کا ہی کچھ خیال کریں ان سے وفا ہی دکھائیں وہ خود اور اُن کے وزراء کی فوج ظفر موج دن رات چیخ و پکار کرتی پھر رہی ہے کہ ہم بے بس اور بے کس عوام کے ہر قسم کے مصائب میں ان کا اور ان کا کوئی ہاتھ پائوں ہرگز نہیں۔ ان کا صرف اقتدار ہی ہے۔ مصائب اور مشکلات سب انہیں وردی شاہ ورثہ میں دے گئے ہیں اور وردی شاہ کے اپنے مصائب کے ذمہ دار آپ خود بتا رہے تھے کہ وہ کشکول چور تھے آپ نے خود بتایا ہے کہ عدل و انصاف کے علمبرداروں کو اور ان کے بیوی بچوں کو جس عذاب سے گزرنا پڑا تھا اس کے اصل ذمہ دار وہ کشکول چور ہی تھے آپ نے خود تسلیم کیا ہے کہ آپ نے قومی اسمبلی کے فلور پر ان کشکول چور کے خلاف ایک ایف آئی آر کا ذکر کر دیا اور وہ حفاظتی آپریشن کی تیاریوں میں لگ گئے تھے وہ ایف آئی آر اور اس کے نتیجے میں ہوئے آپریشن کے سب ثبوت بھی آپ کے پاس ہیں اس آپریشن کے نتیجے میں اہل عدل و انصاف کو ان کے بیوی بچوں کو اور ملک کی کالاکوٹ برادری کو جس عذاب سے گزرنا پڑا تھا اس سے آپ سے زیادہ کون واقف ہے؟ ڈاکٹر شیرافگن؟ اس عدلیہ اور اس کی آزادی کے خلاف اس آپریشن میں کتنے بے گناہ لوگ مارے گئے تھے؟ کالاکوٹ برادری کے لوگ اور عام لوگ اتنے لوگ مارے جائیں اور اس کے ذمہ دار قاتل کے خلاف کوئی کیس ہی دائر نہ کیا جائے؟ ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ اس کیس کی پیروی کرنا اور اس مجرم کو جیل بھجوانا آپ کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری بنتی ہے لیکن ہم یہ تو کہہ ہی سکتے ہیں کہ ہم عوام تو اسے اپنی اخلاقی اور انسانی ذمہ داری سمجھتے ہیں ہم اپنی اسی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے آپ کی عدالت قانونیات میں درخواست گزارنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ اس کے جرم عظیم سے جتنے آپ اپنے کو آگاہ بتا رہے تھے کوئی اور اتنا آگاہ نہیں تھا خود وردی شاہ بھی نہیں۔ بقول آپ ہی کے۔ آپ نے وہ کیس لڑا بھی تھا اور جیتا بھی۔ بلا فیس؟ آپ نے اس تحریک آزادی عدلیہ کے دوران مسلسل چھبیس چھبیس گھنٹے ڈرائیونگ کی تھی۔ بلا سوئے؟ آپ کو وزارت عظمٰی کی پیشکش کی گئی تھی۔ بلا مانگے۔ اور آپ نے اسے بھی مسترد کر دیا تھا۔ ہے کوئی ایسی مثال پورے گجرات ڈویژن میں اور؟ آپ کے غم خوار عزیز طارق عزیز نے بقول آپ ہی کے آپ کو آپ کی جان کے خطرہ سے بھی خبردار کیا تھا۔ بلا پوچھے۔ اس سب کچھ کے باوجود آپ اس تحریک کی ڈرائیونگ سیٹ سے الگ نہیں ہوئے تھے ان جملہ پہلوئوں کو سامنے رکھیں تو اس کشکول چور مجرم کو کسی عدالت میں لانے اور اس کے جرائم کی سزا دلانے کے لئے ہمیں آپ ہی سرکڈھ ماہر قانونیات دکھائی دے رہے ہیں آپ اندر باہر کے سارے حقائق سے آگاہ بھی ہیں اور وہی طارق عزیز اس کیس کی تیاری میں بھی آپ ہی کی مدد کر سکتے ہیں کہ کسی اور ماہر قانونیات کے وہ اتنے قریب اور عزیز نہیں دکھتے۔ اس ہمارے قومی مجرم کے ان جرائم کے علاوہ بھی بہت سے بہت بھاری بھاری جرائم ہیں کیا چودھری شجاعت حسین سے وزارت عظمٰی چھین لینا جرم نہیں تھا؟ سٹیل ملز کی لوٹ سیل لگانے کے علاوہ اس نے کوئی اور قومی ادارہ لوٹ کے بھائو بیچا نہیں تھا؟ حبیب بینک کا کیس تو خود چیف جسٹس آف پاکستان بتا چکے ہیں کہ وہ اپنے عدل و انصاف کے ترازو میں تولنے جا رہے تھے کہ پی سی او کا گنڈاسا چل گیا تھا۔ سٹاک ایکسچینج کا کیس ہے اور اپنے کو وزیراعظم بنوانے والے چچا سام کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کا کیس ہے۔ ان کے جرائم کی نوعیت اور شدت کا اسی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ اس ملک کی زمین کا رخ کرنے سے اتنے ہی خوفزدہ دکھائی دیتے ہیں جتنے امریکہ اور یورپ کے سب باسی اسامہ بن لادن سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ اتنا بڑا مجرم اس ملک اور قوم کا اور اس ملک میں کوئی ایک بھی بندہ کوئی ایک بھی ادارہ اسے کٹہرے میں لانے کو تیار نہ ہو؟ خوف کس کا ہے؟ مگر چھوڑیں باقیوں کو ہو گا کوئی خوف آپ کو تو نہ بارک حسین اوباما کا کوئی خوف ہے نہ بانکی مون کو آپ کبھی خاطر میں لائے ہیں عدلیہ کی آزادی کا علم اٹھائیں اور قدم بڑھائیں۔ آپ کو اس تحریک میں بھی بہت سے جانثار مل جائیں گے اپنے پارٹی مالک اور ہمارے صدر مکرم کو اس تحریک کے فوائد سے آگاہ کریں وہ بھی آپ کو ہماری درخواست قبول کر لینے کی اجازت دے دیں گے۔ کریں ہمت اور ہمدردی ہم عوام اور ان کے ملک کے لئے بھی۔ اُمید ہے کہ آپ حسبِ عادت فیس کا صدقہ خیرات کر کے ہمارا بھی ساتھ دیں گے۔