پولیس سنگین مقدمات کے سوا عدالت سے سزا تک ملزم گرفتار نہ کرے: قائمہ کمیٹی

23 جولائی 2009
اسلام آباد (اے پی پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے پولیس کلچر کی تبدیلی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی حقوق کو عدالتی تحفظ فراہم کیا جائے۔ کمیٹی نے وزارت انسانی حقوق داخلہ اور قانون کے جوائنٹ سیکرٹریوں کی تین رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے جو اقوام متحدہ کے یونیورسل ڈیکلریشن کے مطابق آئین کے آرٹیکل 8 سے 22 تک کی شقوں کے مطابق قوانین بنانے اور انسانی حقوق کے حوالے سے پولیس آرڈر 2002 کا جائزہ لیکر 30 دنوں میں رپورٹ کمیٹی کو پیش کرے گی گزشتہ روز کمیٹی کے چیئرمین ریاض فتیانہ نے کہا کہ سنگین مقدمات کے علاوہ جب تک عدالت کسی کو سزا نہ دے اسے گرفتار نہ کیا جائے پولیس گالی گلوچ کے بغیر تفتیش کرنے کی عادت اپنائے۔ کمیٹی نے چاروں صوبوں کے آئی جیز ( پولیس ) کی اجلاس میں عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ رٹ آف دی پارلیمنٹ کا معاملہ ہے آئندہ اجلاس میں شرکت یقینی بنائی جائے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جیلیں ملزمان سے بھری پڑی ہیں جبکہ تحقیقات مکمل ہونے پر بڑی تعداد بے گناہ ثابت ہوتی ہے حتی کہ جائیداد پر قبضہ کے معاملے پر شہری کو کذاب قرار دیدیا گیا اور کیس کمزور ہونے پر جیل میں سزائے موت کے قیدی سے ملزم کو گولی مروا دی گئی۔
قائمہ کمیٹی