21 ویں صدی کا طویل ترین سورج گرہن پاکستان میں جزوی طور پر دیکھا گیا

23 جولائی 2009
اسلام آباد+ کراچی+ نئی دہلی (آن لائن+ آئی این پی) اکیسویں صدی کا طویل ترین سورج گرہن چین‘ بھارت‘ جاپانی جزائر اور بحرالکاہل میں مکمل طور پر اور پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی جزوی دیکھا گیا۔ کراچی میں سب سے زیادہ تراسی فیصد تک واضح سورج گرہن دیکھا گیا ۔ جبکہ لوڈشیڈنگ کے باعث جامعہ کراچی کے ماہرین تاریخی سورج گرہن کے ابتدائی لمحات ریکارڈ نہ کرسکے۔ بھارت میں گرہن کے نظارے کے دوران دم گھٹنے سے خاتون ہلاک ہو گئی جس سے بھگدڑ مچنے سے 20 افراد ز خمی ہو گئے۔ سورج گرہن کا آغاز بحرہند میں پاکستانی وقت کے مطابق صبح پانچ بج کر اٹھاون منٹ پر ہوا۔مکمل سورج گرہن کا آغاز 6 بجکر 53 منٹ پر ہوا جو 10 بجکر 18 منٹ تک جاری رہا۔ مکمل ترین سورج گرہن صبح 8 بجکر 35 منٹ پر دیکھا جاسکا۔ سورج گرہن کا اختتام صبح گیارہ بج کر بارہ منٹ پر ہو گیا۔ ایشیا کے متعدد علاقے سورج گرہن کے باعث تاریکی میں ڈوب گئے جبکہ پاکستان میں سورج گرہن کا دورانیہ ساڑھے چھ منٹ رہا جبکہ سورج گرہن کے حوالے سے مذہبی رسومات بھی ادا کی جاتی رہی ہیں امت مسلمہ میں متعدد مقامات پر سورج گرہن کے حوالے سے نماز کسوْف کی سنت ادا کی گئی۔ ذکر اذکاراور استفغار کے ورد کیے گئے۔ بھارتی ریاست ہریانہ میں ہزاروں ہندو یاتریوں نے سورج گرہن سے قبل مقدس تالاب میں غسل کیا۔ چین میں ہزاروں کی تعداد میں شائقین نے سورج گرہن کا نظارہ کرنے کے لیے حفاظتی چشمے خریدے اور سورج کا مشاہدہ کیا جبکہ یہ نظارہ اب دوبارہ 130سال بعد تیرہ جون 2132ء کو ہی دیکھا جا سکے گا ۔ بعض لوگوں نے جہاز پر بیٹھ کر اس گرہن کو اکتالیس ہزار فٹ کی بلندی سے دیکھا بھارت میں گرہن شروع ہوا تو مندروں کے دروازے بند کردیئے گئے۔ بھارت کے شہر بنارس میں سورج گرہن کا نظارہ دیکھنے کے دوران 80 سالہ خاتون ہلاک ا ور دوسری بیہوش ہو گئی جس سے لوگوں میں خوف پیدا ہو گیا۔ لوگوں میں بھگڈر مچنے کے نتیجے میں 20 افراد زخمی ہو گئے۔ سورج گرہن کے دوران حیدرآباد میں ایک شخص نے اپنے ایک فالج زدہ بچے اور 2 بیٹوں کو اس امید میں دریائے سندھ کے کنارے گرد ن تک زمین میں دبائے رکھا کہ وہ ٹھیک ہوجائیں جبکہ ایک شخص قرآن شریف کی تلاوت کرتا رہا۔ بھارت کے کئی شہروں میں بھی والدین نے اپنے مفلوج بچوں کو گرہن کے دوران دبائے رکھا۔