A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

’’تنہائی‘‘ ایک برس پہلے تک ملک کے طاقتور ترین شخص مشرف کیلئے عبرت کا مقام ہے: بی بی سی

23 جولائی 2009
لندن ( بی بی سی ڈاٹ کام) چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی زیرسربراہی عدالت عظمیٰ کے چودہ رکنی بنچ کی تین نومبر کی ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق کارروائی سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کا انجام ہے یا اس انجام کا آغاز؟ اس سوال کا جواب فی الوقت کسی کے پاس نہیں لیکن آٹھ برس تک ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہنے والے فوجی جرنیل کوآج جس تنہائی کا احساس دلایا گیا ہے وہ بعض مبصرین کی نظر میں ایک برس پہلے تک ملک کے طاقتور ترین شخص کیلئے عبرت کا مقام ہے۔ سپریم کورٹ کے استفسار پر حکومت کے عدالت میں نمائندے اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ نے جس طرح پرویز مشرف اور ان کے اقدامات سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ آٹھ برس تک ملک کے حکمران جنہوں نے ملک کے دو سب سے مقبول سیاسی رہنمائوں کو جلا وطنی اختیار کرنے پر مجبور کیا اور اوسط درجے کے تین سیاستدانوں کو ملک کا وزیراعظم بنا ڈالا۔ اب اس حال میں ہیں کہ اس ملک میں ان کا دفاع کرنے کو کوئی تیار نہیں سابق صدر کے ہاتھوں تشکیل پانے والی مسلم لیگ ق کا یہ حال ہے کہ گزشتہ دنوں جماعتی انتخابات کے دوران پارٹی کے دو دھڑے ایک دوسرے پر مشرف کا حمایت یافتہ ہونے کا الزام لگاتے رہے گویا کہ پارٹی کے بانی کی حمایت گالی کے مترادف ٹھہری۔ تین نومبر کے روز ملک میں لگنے والی ایمرجنسی کا دفاع کرنے والے پرویز مشرف کے وکیل ملک محمد قیوم اس وقت کمرہ عدالت میں سب سے پہلی قطار میں خاموش بیٹھے تھے۔ جب عدالت کے چودہ رکنی بنچ میں شامل ایک ایک جج نے پرویز مشرف اور ان کے اقدامات کے لقمے لئے۔…… اب یہ سب کچھ عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ مشرف کے بیشتر آئینی اقدامات کے خالق سمجھ جانے والے ان کے اصل قانونی مشیر اور وکیل شریف الدین پیرزادہ کے بارے میں عدالت کے سینئر جج جسٹس خلیل رمدے اور بعض دیگر جج صاحبان نے جس رائے کا اظہار کیا ہے‘ اس کے بعد پیرزادہ کا اس عدالت کے سامنے وکیل کے طور پر تو پیش ہونے کا کوئی امکان باقی نہیں رہ گیا البتہ جسٹس سرمد جلال عثمانی کے ریمارکس کے بعد بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بعید نہیں کہ شریف الدین پیرزادہ کسی اور حیثیت سے اسی عدالت کے سامنے پیش ہوں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرف کو ابھی جو نوٹس جاری ہوا ہے وہ اس مقدمے کی قانونی حیثیت سے متعلق ہے جس میں اپنے دفاع میں ناکامی کی صورت میں زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ عدالت ایمرجنسی کے نفاذ کو غلط اور اس کے حق میں آنے والے عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دیدے۔ لیکن ماہرین کے مطابق جنرل پرویز کے لئے اصل لمحہ فکریہ وہ ہوگا جب عدالت کے اس فیصلے کے نتیجے میں ایک اور پٹیشن عدالت کے سامنے آئے گی جس میں عدالت سے استدعا کی جائے گی کہ چونکہ پرویز مشرف کو تحفظ دینے والا عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جا جائے لہذا ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کی جائے۔ آئین کے آرٹیکل چھ کے مطابق آئین سے انحراف کرنے والے فرد کی سزا موت ہے۔ بعض سیاسی پنڈت تو اس سے بھی دور کی کوڑی لائے ہیں وہ کہتے ہیں کہ پنجاب بینک سکینڈل کے مرکزی ملزم ہمیش خان بیرون ملک فرار ہو چکے ہیں چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے ایک بنچ نے ہمیش خان کو مہلت دی ہے کہ وہ خود وطن واپس آکر مقدمے کا سامنا کریں ورنہ انہیں دوسرے طریقوں سے بھی ملک میں لایا جا سکتا ہے اور ہمیش خان کی ملک واپس لانے کی کوششوں کو جنرل (ر) پرویز مشرف کی ’’ریہرسل‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
بی بی سی