مزید فوج افغانستان بھیجنے پر برطانوی وزیراعظم اور آرمی چیف میں شدید اختلافات

23 جولائی 2009
لندن (نیوز ڈیسک) افغانستان میں مزید برطانوی فوج بھیجنے کے معاملے پر وزیراعظم گورڈن براؤن اور آرمی چیف جنرل رچرڈ ڈینٹ میں اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق وزیراعظم گورڈن برائون اٹلی میں جی ایٹ کے سربراہی اجلاس میں شریک تھے اور لیبیا کے سربراہ کرنل معمر قذافی سے ملاقات کی تیار کر رہے تھے کہ ان کے پرائیویٹ سیکرٹری ٹام فلیپر انہیں خاموشی کے ساتھ ایک الگ کمرے میں لے گئے اور افغانستان کے صوبے ہلمند میں سڑک کے کنارے نصب کئے گئے بم دھماکے میں 5 برطانوی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع دی جسے سنتے ہی وزیراعظم براؤن سکتے میں آ گئے اور کچھ دیر خاموشی سے بیٹھے رہے۔ ہلمند میں دس دنوں میں 15 برطانوی فوجیوں کے مارے جانے کی اطلاع ہی تشویشناک نہیں تھی بلکہ زیادہ تشویشناک بات یہ تھی کہ افغانستان میں اب تک 185 فوجی مارے جا چکے ہیں جو عراق کی لڑائی میں مارے جانے والے فوجیوں کی تعداد سے زیادہ ہیں۔ ان ہلاکتوں نے برطانیہ بھر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا ہلمند میںتعینات ٹاسک فورس کو کافی فنڈز فراہم نہیں کئے گئے یا پھر وسائل کی کمی کے باعث انہیں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اس بحث کا مرکزی نقطہ وزیراعظم براؤن ان کے وزراء اور آرمی چیف جنرل ڈینٹ کے درمیان افغان جنگ کے حوالے سے پائے جانے والے اختلافات ہیں۔ جنرل ڈینٹ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ افغانستان میں برطانوی فوج کی تعداد بڑھائی جائے اور انہیں جدید ہتھیار بھی کافی تعداد میں فراہم کئے جائیں۔ گزشتہ مارچ میں جنرل ڈینٹ نے کھل کر مطالبہ کیا تھا کہ افغانستان میں برطانوی فوج کے طویل مدت قیام کے لئے ان کی تعداد 8300 سے بڑھا کر 9800 کی جائے تاکہ طالبان کا موثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے اور ان سے واپس لئے گئے علاقوں پر کنٹرول برقرار رکھا جا سکے۔ جنرل ڈینٹ اپنے ان مطالبات پر اس قدر مصر تھے کہ انہوں نے ان کا اظہار ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے بھی کیا اور اس طرح یہ معاملہ منظر عام پر آ گیا لیکن آرمی چیف اور فوج کو اس وقت شدید مایوسی ہوئی جب وزیراعظم براؤن نے صرف 700 اضافی فوجی عارضی مدت کے لئے ہلمند بھجوانے کی منظوری دی اور اس اضافی فوج کو بھجوانے کا مقصد یہ ہے کہ افغانستان میں صدارتی انتخاب کے موقع پر سکیورٹی فراہم کرنے میں مدد کر سکے۔