مشرف نے وہ کچھ نہیں کیا جو موجودہ حکمران کر رہے ہیں: لالہ نثار خان

23 جولائی 2009
لاہور (فرخ سعید خواجہ) مسلم لیگ (ق) ہم خیال کے رہنما لالہ نثار محمد خان نے کہا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف جب ملکی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کریں گے اور سیاست کرنے کے لئے مسلم لیگ کا پلیٹ فارم چننے کا عندیہ دیں گے اُس کے بعد ہی وہ ہمیں مشورہ کرنے کے لئے بلانے کا ارادہ کر سکتے ہیں اور تب ہی مشورہ دینے کے لئے ہمارا جانا بھی بنتا ہے فی الحال نہ انہوں نے ہمیں لندن بلایا ہے اور نہ ہی ہم جا رہے ہیں بلکہ 27 جولائی کو ہم اسلام آباد میں الیکشن کمشن کے سامنے پیش ہو رہے ہیں جہاں چودھری صاحبان کی مسلم لیگ کے آئین کی بعض خلاف ورزیوں کو ہم نے چیلنج کر رکھا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوائے وقت کو ٹیلیفون پر دئیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر پرویز مشرف کو پسند کرتا ہوں کیونکہ آج کے حکمران اُن پر الزام لگاتے تھے کہ وہ امریکی ایجنٹ ہے‘ وزیرستان‘ لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر آپریشن کروایا لیکن آج ایوان اقتدار میں بیٹھے لوگ خود کیا کر رہے ہیں‘ پرویز مشرف نے وہ کچھ نہیں کیا جو اِن لوگوں نے کیا ہے‘ اِن کے فوجی آپریشن کے باعث 30 لاکھ لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی‘ اگر مشرف نے لال مسجد‘ جامعہ حفصہ کیا تو انہوں نے میاں چنوں میں کیا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کل مشرف کو امریکی ایجنٹ کہنے والے سکہ بند امریکی ایجنٹ حامد کرزئی کے ساتھ دوستانہ بنائے ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ (ق) میں ٹوٹ پھوٹ کا ذمہ دار انہوں نے چودھری شجاعت حسین کو ٹھہرایا‘ انہوں نے اُن پر بدعہدی کے الزامات عائد کئے۔