لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کیلئے حکومت بجلی کمپنیوں کو ادائیگی کرے: پرویز الٰہی

23 جولائی 2009
لاہور + راولپنڈی (خصوصی رپورٹر + نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ق) کے سینئر مرکزی رہنما چودھری پرویز الٰہی نے نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے ملک بھر میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ بالخصوص پنچاب میں غیر اعلانیہ طویل بندش پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیداوار کم کر کے اتحادی حکمران لوگوں کو ناکردہ جرم کی سزا دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے لئے حکومت بجلی کمپنیوں کو ادائیگی کرے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت تباہ ہو جائے گی۔ حکمران مخصوص مفادات کی تکمیل کے لئے لوگوں کو نہ تڑپائیں۔ راولپنڈی میں جامعہ اسلامیہ کے سربراہ اور سابق صوبائی وزیر قاری سعید الرحمن کے انتقال پر ان کے صاحبزادے سے اظہار تعزیت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چودھری شجاعت نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر حکومتی مؤقف کمزور ہے جبکہ ہلیری کے بیان پر مضبوط ردعمل ہونا چاہئے تھا۔ پرویز الٰہی نے کہا کہ آزاد میڈیا نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ہماری پارٹی کے الیکشن مکمل طور پر جمہوری طریقے سے ہوئے۔ قومی ایشوز پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سمیت تمام جماعتوں سے بات ہو سکتی ہے۔ نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز الٰہی نے کہا کہ پیداوار کم کر کے اتحادی حکمران لوگوں کو ناکردہ جرم کی سزا دے رہے ہیں، عوام کو بجلی وپانی سے محروم رکھنے، کاروبار بند کرانے اور جان بوجھ کر گرمی کے اس عذاب میں مبتلا کرنے کا مقصد اپنے مخصوص مفادات کی تکمیل ہے۔ وزیراعظم کا ہی بیان کہ بجلی ایسی چیز نہیں کہ فوراً خرید لائیں، نئے پاور پلانٹس لگا رہے ہیں قوم کی آنکھوں میں مرچیں ڈالنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے بجلی کمپنیوں کو ادائیگی روک کر واجبات کی رقم 80 ارب روپے سے زائد کر دی ہے اور واجبات نہ ملنے کی وجہ سے بجلی کمپنیاں اپنی پوری استعداد کے مطابق بجلی پیدا نہیں کر رہیں اور یہ سب کچھ سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت کیا جا رہا ہے ورنہ موجودہ استعداد کے مطابق بجلی پیدا کرنے سے صنعتی، زرعی، گھریلو اور کاروباری ضروریات باآسانی پوری ہو سکتی ہیں اور کسی بھی شعبہ میں لوڈشیڈنگ کی ضرورت نہیں پڑے گی اور نہ ہی نئے پور پلانٹس لگانے پڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آر پی پی یعنی نام نہاد بیرونی کمپنیوں کے ذریعہ 22 فیصد منافع پر کرائے کے بجلی گھروں کا حکومتی منصوبہ بظاہر بہت مفید ہے لیکن اگر سنجیدگی سے اس کے دوررس نتائج اور پلان تیار کرنے والوں کے عزائم کا جائزہ لیا جائے تو پھر اس کا حتمی مقصد محض چند افراد کو غیر معمولی مالی فائدہ پہنچانا نظر آتا ہے۔ اسی طرح حکومت کے ذمہ بجلی کمپنیوں کے واجبات کی ادائیگی کے لئے علیحدہ کمپنی بنانے کا مقصد بھی مخصوص مالی مفادات کی تکمیل کے سوا اور کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ اس حکومتی کھیل سے عام آدمی جس عذاب کا شکار ہے وہ تو ہے لیکن صنعتی، کاروباری اور زرعی شعبہ کو جو نقصان پہنچ رہا ہے اس کے باعث ملکی معیشت بری طرح تباہ ہو جائے گی اور اس کی بحالی کا امکان معدوم ہو جائے گا۔ اس لئے اتحادی حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ مخصوص مالی مفادات کی تکمیل کیلئے لوگوں کو گرمی میں تڑپائیں نہ ملکی وقومی مفاد کو نظرانداز کریں۔