روس اور چین کی مشترکہ فوجی مشقیں ‘ دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھائیں گے: ماسکو

23 جولائی 2009
ماسکو (اے پی پی) روس اور چین کی مسلح افوج نے انسداد دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کے خلاف مشترکہ فوجی مشقیں شروع کر دیں۔ یہ مشقیں 5 روز تک جاری رہیگی ماسکو میں روس کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل نکولائی ماکاروف نے بتایا کہ یہ مشقیں دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد پر ہو رہی ہیں اور ان مشقوں سے پوری دنیا کو یہ دکھانا مقصود ہے کہ روس اور چین کے پاس خطے میں استحکام کیلئے مطلوبہ وسائل میسر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک معمول کی کاروائی نہیں بلکہ ان کا مقصد دونوں ممالک کو درپیش سیکورٹی خطرات سے نمٹنے کی جانب سے ایک ٹھوس قدم ہے ان مشقوں میں دونوں ممالک کے تقریباً 2600 فوجی حصہ لے رہے ہیں ۔ ان مشقوں کو امن مشن 2009ء کا نام دیا گیا ہے یہ مشقیں چین کے شمالی مشرقی صوبہ جیلان میں دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد پر ہو رہی ہیں ذرائع کے مطابق مشقوں میں 22 روسی اور 40 چینی لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹر بھی حصے لے رہے ہیں۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ وسطی ایشیا میں دہشت گردی کے حوالے سے صورت حال خراب سے خراب ہوتی جا رہی ہے جبکہ ان حالات پر قابو پانے کے لئے ہمیں متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ یہ فوجی مشقیں 5 جولائی کو چین کے صوبے ارومچی میں ہونے والے نسلی فسادات کے بعد شروع کی جا رہی ہیں۔