مشرف کو آئینی تحفظ حاصل نہیں‘ سپریم کورٹ طلب کر سکتی ہے: آئینی ماہرین

23 جولائی 2009
اسلام آباد (مانیٹرنگ سیل/ ایجنسیاں) آئینی ماہرین نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ سابق صدر پرویز مشرف کو سپریم کورٹ کے آرڈر 25 رول 9 کے تحت طلب کرسکتی ہے یہ مشرف کا ٹرائل یا فوجداری مقدمہ نہیں ہے اس لئے بھی انہیں طلب کیا جا سکتا ہے تاہم سپریم کورٹ صدر پاکستان کو طلب نہیں کرسکتی۔ ان خیالات کا اظہار جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم‘ رشید اے رضوی‘ اکرام چودھری نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ کے پاس اختیارات موجود ہیں کہ وہ کسی بھی شخص کو طلب کرسکتی ہے اور یہاں تو معاملہ آئین اور قانون کو توڑنے ‘ عدلیہ پر قدغن لگانے اور ملک میں غیریقینی صورتحال پیدا کئے جانے کا ہے جس میں عدالت نے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے دوسرے فریق سابق صدر پرویز مشرف کو طلب کیا ہے مشرف کو کوئی آئینی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے کہا اگر سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے عدالت کو اپنا پوائنٹ آف ویو نہ دیا تو بعد میں وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج نہیں کر سکتے۔ عدالت عدم حاضری پر انکے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کر سکتی ۔ ریڈیو نیوز کے مطابق سابق وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر شیرافگن نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ عدالتی فیصلہ ذاتیات پر مبنی ہے۔ آئین میں سابق صدر اور آرمی چیف کی عدالت میں طلبی کی گنجائش نہیں۔ سپریم کورٹ کے سابق جسٹس (ر) سعید الزمان صدیقی نے کہا ہے کہ آئین میں ایسی کوئی پابندی نہیں کہ سپریم کورٹ سابق صدر اور سابق آرمی چیف کو نوٹس اور عدالت میں پیش ہونے کا حکم نہ دے سکے۔ جسٹس (ر) خلیل الرحمن نے کہا کہ پرویز مشرف کو عدالت نے صفائی کا موقع دیا ہے اور انہیں چاہئے کہ وہ عدالت میں پیش ہوں۔ آئی این پی کے مطابق سابق وزیر قانون وصی ظفر نے کہا ہے کہ پرویز مشرف نے بطور صدر نہیں بلکہ آرمی چیف 3 نومبر کو ایمرجنسی نافذ کی تھی‘ میرا ایمرجنسی کے نفاذ سے کوئی تعلق نہیں۔ آن لائن کے مطابق سینٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر وسیم سجاد نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سابق صدر پرویز مشرف کو مئوقف جاننے کے لئے نوٹس جاری کیا اگر وہ عدالت عظمیٰ میں اپنا مئوقف پیش نہیں کرتے تو عدالت یکطرفہ کارروائی جاری رکھے گی۔ سابق صدر کو چاہئے کہ عدالت میں آکر اپنا مئوقف پیش کریں۔
لندن (آصف محمود سے) برطانیہ کے قانونی ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرمان کی حوالگی کا معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے سابق صدر مشرف کو برطانوی حکومت پاکستان نہیں بھیج سکتی ۔ اگر کوئی شخص ان کے خلاف یہاں درخواست دے تو یہاں کی عدالت انہیں گرفتار کروا کر مقدمہ چلا سکتی ہے۔ اگر سابق صدر پرویز مشرف واپس نہیں جاتے تو قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کو برطانیہ سے لے جانے کیلئے انٹرپول کے ذریعے ان کے ریڈ وارنٹ جاری کروانا پڑیں گے۔ اس کے بعد برطانوی حکومت بین الاقوامی قوانین توڑ نہیں سکے گی اور انہیں سابق صدر مشرف کو پاکستان بھیجنا پڑے گا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ مختلف لوگوں نے وار کرائمز کے مشہور وکیل جیفری بائینڈ مین کی خدمات حاصل کر لی ہیں جو مشرف کے خلاف برطانیہ میں کیس لڑیں گے۔