ایمرجنسی‘ پی سی او ججز کیس : سپریم کورٹ میں مشرف کی 29 جولائی کو طلبی

23 جولائی 2009
اسلام آباد (اے پی پی + ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو 3 نومبر 2007ء کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ اور پی سی او ججز کیس کے حوالے سے کیس میں الزامات کے دفاع کیلئے نوٹس جاری کر دیا اور 29 جولائی کو عدالت میں خود یا وکیل کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ گذشتہ روز چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں 14 رکنی بنچ نے یہ حکم اٹارنی جنرل لطیف خان کھوسہ کے اس بیان کے بعد دیاجس میں انہوں نے وفاقی حکومت کی طرف سے دوٹوک انداز میں بتایا کہ اٹارنی جنرل یا وفاقی حکومت جنرل (ر) پرویز مشرف کا کسی بھی طور پر دفاع نہیں کرے گی۔ پیپلز پارٹی نے کسی آمر کی حمایت نہیں کی اور ہمیشہ جمہوریت کی پاسداری اور اس کے فروغ کیلئے قربانیاں دی ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے حکم میں قرار دیا کہ فطری تقاضوں کو پورا کرنے کے اصول کے تحت لازم ہے کہ جس شخص کے خلاف مقدمہ میں الزامات ہوں اسے اپنے دفاع اور مؤقف کے اظہار کا موقع فراہم کیا جائے۔ اس مقدمہ کی تشہیر سے یہ تصور کر لینا کہ متعلقہ فریق کو اطلاع ہوگئی ہے اس تصور کو قبول نہیں کیا جاسکتا، اس لئے سپریم کورٹ رولز 1980ء کے آرڈر 25 رول 9 کے تحت جنرل (ر) پرویز مشرف کو نوٹس کرتی ہے کہ وہ بذات خود یا وکیل کے ذریعے اپنا مؤقف عدالت میں پیش کریں۔ نوٹس جنرل (ر) پرویز مشرف کی اسلام آباد میں رہائش گاہ (چک شہزاد) پر تعمیل کیلئے بھجوایا جائے۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی آئینی درخواست کی پیروی پر مامور حامد خان اور جسٹس (ر) رشید اے رضوی سے سوال کیا کہ اس کیس کا کیا فیصلہ ہو گا ہمیں معلوم نہیں لیکن بالفرض عدالت ایمرجنسی اور پی سی او کو جائز قرار دینے کے بارے میں ٹکا اقبال کیس کا دوبارہ جائزہ لیتی ہے تو قدرتی طور پر اس کا ہدف عبوری آئینی حکم پی سی او ہوگا تواس کے کیا اثرات برآمد ہوں گے۔ لارجر بنچ فیصلہ دے گا تو اس کے کیا اثرات برآمد ہوں گے جیسا کہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ آج دیواروں پر پڑھنے کیلئے کچھ نہیں بلکہ ہم اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں۔ فیصلے قوموں کے اہم مسائل کو حل کرتے ہیں۔ اتنا بڑا بنچ فیصلہ دے گا تو اس کے اثرات بھی آئیںگے۔ ہم نے ملک میں جمہوری نظام کو مضبوط کرنا ہے اور ایڈونچر کو روکنا ہے۔ فیصلہ کے بعض اثرات توخود عدلیہ کے حوالے سے ہوںگے جس کا ہمیں ادراک ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے مزید کہا کہ یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ پی سی او کا جائزہ لیتے ہوئے ہم نے جنرل (ر) پرویز مشرف کو کیوں نہیں بلایا، عمل کو شفاف رہنا چاہئے۔ یہ ایک مسلمہ عالمی اصول ہے کہ کسی کو بھی سنے بغیر اور مؤقف بیان کرنے اور الزامات کا دفاع کا موقع دیئے بغیر سزا نہیں دی جا سکتی۔ چیف جسٹس نے حامد خان اور رشید اے رضوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ سوال نہیں اٹھایا جائے گا۔ حامد خان نے کہا کہ یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے اس کا امکان ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ کہا جائے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو دفاع کا موقع نہیں دیا گیا جہاں تک ہمیں معلوم ہے جنرل (ر) پرویز مشرف ملک میں نہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہاکہ ملک فیروز خان نون 1958ئ، فوجی فاؤنڈیشن 1983ئ، امان اﷲ خان کے 1990ء اور احسان الحق پراچہ کے مقدمات میں عدالت عظمیٰ نے واضح قرار دے رکھا ہے کہ نوٹس دینا ضروری ہے۔ حامد خان نے مؤقف اختیار کیا کہ عاصمہ جیلانی کے سپریم کورٹ کے مقدمہ میں اس وقت کے فوجی آمر جنرل آغا محمد یحییٰ خان کے خلاف چار الزامات عائد ہوئے لیکن اس کے باوجود اسے نوٹس نہیں دیا گیا حالانکہ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلہ میں اسے غاصب قرار دیا۔ اس لئے اس مقدمہ میں نوٹس دینے کی ضرورت نہیں۔ یہ قبل از وقت ہو گا کیونکہ اس مقدمہ میں استغاثہ کی کارروائی نہیں ہو رہی بلکہ آئینی درخواست میں جنرل (ر) پرویز مشرف کے عوامی اقدامات پر بحث ہو رہی ہے۔ ملکی عدلیہ میں ایسی کوئی مثال نہیں کہ آرمی چیف کو بلایا گیا ہو کیونکہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے تمام تر اقدامات سرکاری حیثیت میں انجام دیئے تھے لہذا اس مرحلہ پر نوٹس جاری کرنا قبل از وقت ہو گا۔ عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان سردار لطیف کھوسہ سے ان کی ماہرانہ رائے طلب کی تو انہوں نے کہا کہ ہم اپنا مؤقف واضح بیان کر چکے، اخبارات میں بیان بھی شائع ہو گیا ہے کہ وفاقی حکومت یا میں جنرل (ر) پرویز مشرف یا ان کے 3 نومبر 2007ء کے اقدامات کا کسی طور پر دفاع نہیں کریں گے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کے اخباری بیان کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی ہدایت کی اور حامد خان کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ نے خود یہ نشاندہی کی ہے کہ 7 رکنی عدالت عظمیٰ کے پی سی او کے اقدام کو غیر آئینی قرار دینے والے بنچ پر بعدازاں ٹکا اقبال کیس میں یہ فیصلہ دینے والے بنچ نے بغیر نوٹس فیصلہ کرنے کا الزام عائد کیا لیکن اعتراض کرنے والے بنچ نے بھی فریقین کو نوٹس دیئے بغیر ہی خود بھی فیصلہ کر دیا تو آپ پھرکیوں یہ بات کر رہے ہیں کہ نوٹس نہ جاری کیا جائے۔ عدالت نے اس نکتہ پر سوچنے کیلئے حامد خان اور رشید اے رضوی کومہلت بھی دی اور تقریباً پونے گھنٹے بعد دوبارہ مقدمہ کی سماعت شروع کی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہاں اس لئے بیٹھے ہیں کہ مستبقل میں کوئی مہم جوئی نہ ہو۔ عدالت عظمیٰ بنچ کے تمام ججوں کا یہ اتفاق ہے کہ ایک شخص ہمارے سامنے موجود ہی نہیں۔ انصاف کے اصولوں کا تقاضا ہے کہ نوٹس جاری ہو خواہ کوئی عدالت کے روبرو آئے یا نہ آئے کیونکہ اس مقدمہ کے دور رس اثرات ہوں گے۔ ہم تمام جج غیر جانبدار ہیں۔ ہم کسی کے خلاف نہیں۔ اگر ہمارا بدترین دشمن بھی ہمارے سامنے آ جائے تو بھی ہم صرف انصاف کریں گے۔ اس بارے میں شک نہیں ہونا چاہئے۔ اس مقدمہ کا عاصمہ جیلانی کے مقدمہ سے فرق یہ ہے کہ موجودہ جمہوری حکومت اور اٹارنی جنرل نے دفاع کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ حامد خان نے کہاکہ دونوں مقدمات میں فرق یہ ہے کہ یہاں جنرل (ر) پرویز مشرف کی پراسکیوشن نہیں ہو رہی۔ اس حوالے سے مقدمہ میں ایک اور درخواست گذار کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو اپنے اقدامات کے نتائج کا سامنا کرنا چاہئے تاکہ مستقبل میں جمہوری نظام میں مداخلت کی راہ بند ہو۔ جسٹس اعجاز چودھری نے کہا کہ میری قانون کے حوالہ سے سمجھ یہ کہتی ہے کہ جو شخص عدالت کے سامنے نہ ہو تو فیصلہ میں اس کا حوالہ بھی نہیں دیا جا سکتا۔ چیف جسٹس نے اکرم شیخ سے کہا کہ وہ ایک مؤقف اختیار کریں۔ حامد خان نے کہا کہ نصرت بھٹو اور سید ظفر علی شاہ کیس میں دونوں درخواست گذار اور درخواستیں جینوئن تھیں لیکن ٹکا اقبال محمد خان کے بارے میں کچھ پتہ نہیں کہ وہ کون ہے کہاں سے آیا ہے اور اس کا مقصد کیا تھا جس وکیل عرفان قادر نے ان کا مقدمہ لڑا ان کو بعدازاں ہائیکورٹ کا جج بنا دیا گیا۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ جنرل مشرف نے صدر کے انتخابات میں دفاع کیلئے وکلاء کو قومی خزانے سے ادائیگیاں کیں، یہ رقم برآمد ہونی چاہئے۔ بی بی سی ڈاٹ کام کے مطابق اس سے پہلے حامد خان ایڈووکیٹ کے دلائل پر ججوں نے پوچھا کہ سابق دور میں وکلا کی بھرتی پر کتنی رقم خرچ کی گئی ہے‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا کہنا تھا کہ قوم کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کی رقم کہاں خرچ کی جا رہی ہے۔ ریڈیو نیوز اور آن لائن کے مطابق سپریم کورٹ نے سابق صدر مشرف کے اہلیت کیس میں وکلا کو قومی خزانے سے کروڑوں روپے کی ادائیگی کا نوٹس لیتے ہوئے اٹارنی جنرل کو ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔