لوڈشیڈنگ جاری‘ توڑ پھوڑ‘ سینکڑوں افراد کیخلاف مقدمات‘ درجنوں گرفتار

23 جولائی 2009
لاہور/ نارنگ منڈی (نامہ نگاران) پنجاب بھر میں ہڑتال اور پُرتشدد مظاہروں کے باوجود لوڈشیڈنگ کا سلسلہ گذشتہ روز بھی جاری رہا جس پر کئی شہروں میں احتجاج ہوا۔ واپڈا دفاتر میں توڑپھوڑ پر لاہور‘ دیپالپور‘ جھنگ‘ حجرہ شاہ مقیم میں مزید سینکڑوں افراد پر مقدمات درج کئے گئے ہیں اور درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ ہرگز نہ کی جائے انہوں نے بحران کا سختی سے نوٹس لیا اور حل کرنے کی ہدایت کی جبکہ چیئرمین واپڈا نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کی صورتحال بہتر ہونے کے باعث آئندہ چند روز میں تربیلا ڈیم سے بجلی کی پیداوار بڑھ کر 3ہزار میگاواٹ تک پہنچ جائیگی جبکہ کراچی میں بھی مکمل بجلی بحال نہ ہو سکی۔ گوجرانوالہ‘ چشتیاں اور خوشاب میں گرمی اور حبس سے لڑکی سمیت 2افراد ہلاک ہو گئے۔ جھنگ میں واپڈا ملازمین نے قلم چھوڑ ہڑتال کی اور مظاہرہ کیا اور احتجاجاً پورے شہر کی بجلی بند کر دی۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں لوڈشیڈنگ کے خلاف شہریوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کرنے پر شہر کے مختلف تھانوں میں 700افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے 70افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس نے شہر میں ہونے والے تمام نقصان کی تفصیلی رپورٹ تیار کرکے حکومت کو بھجوا دی ہے۔ نارنگ منڈی سے نامہ نگار کے مطابق لوڈشیڈنگ پر سٹی ناظم ملک محمد عارف کی قیادت میں شہریوں نے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ گوجرانوالہ سیٹلائٹ ٹائون کی 80سالہ ثمینہ شدید حبس کے باعث دم توڑ گئی۔ دریں اثناء توانائی کے بحران پر وزارتی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم گیلانی نے ملک بھر میں بجلی کے بحران اور طویل لوڈشیڈنگ کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے وزارت پانی و بجلی کو ہدایت کی ہے کہ اس بحران پر قابو پانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے مانیٹرنگ کے حوالے سے کمیٹی کا روزانہ کی بنیاد پر اجلاس ہو گا جبکہ وزارتی کمیٹی کل کراچی کا دورہ کرکے کے ای ایس سی حکام سے کراچی میں بجلی کے بحران کو ختم کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کرے گی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر ہدایت کی کہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو 35ہزار ٹن فرنس آئل اور 100ملین مکعب فٹ گیس روزانہ کی بنیاد پر فراہم کی جائے تاکہ اس بحران پر قابو پایا جا سکے۔
سرگودھا + جھنگ + ا سلام آباد (نامہ نگاران+ ریڈیو نیوز) جھنگ میں جلائی جانے والی ملتان سے سرگودھا جانے والی ساندل ایکسپریس کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ ریلوے حکام نے واقعہ کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے جھنگ صدر اور جھنگ سٹی میں رکنے والی تمام ٹرینوں کے سٹاپ منسوخ کر دئیے ہیں۔ ادھر وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ ٹرینوں پر حملے پنجاب حکومت کیخلاف سازش ہے‘ یہ بند نہ ہوئے تو سروس بند کرنا پڑے گی۔ نمائندگان کے مطابق ریلوے حکام سرگودھا نے لاہور ایکسپریس ماڑی انڈس اور دیگر گاڑیوں سے ایک ایک ڈبہ اتار کر ساندل ایکسپریس کو چلانے کے لئے گاڑی تیار کی مگر پھر لاہور ہیڈ کواٹر نے حکم جاری کیا کہ ساندل ایکسپریس کو نہ چلایا جائے جس پر ریلوے حکام نے گاڑی کو روانہ نہ کیا جس کے باعث ریلوے سٹیشن سرگودھا پر مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اے پی پی کے مطابق سٹیشن ماسٹر جھنگ نے بتایا کہ جی ایم ریلویز نے ٹرین جلانے جانے کے واقعہ کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔ ریڈیو نیوز کے مطابق کیرج فیکٹری کے دورے کے دوران وزیر ریلوے نے کہا کہ ٹرینوں پر حملوں سے ریلوے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا، اگر ٹرینوں پر حملے بند نہ ہوئے تو ٹرین سروس بند کر دیں گے۔ انہوں نے فیکٹری میں افسران کی عدم حاضری پر اظہار برہمی کیا۔ جھنگ سے نامہ نگار کے مطابق ریلوے حکام نے جنرل مینجر ریلوے رانا سعید اختر کے حکم پر ساندل ایکسپریس‘ ہزارہ ایکسپریس‘ دھماکہ ایکسپریس اور روہی ایکسپریس کے جھنگ صدر پر سٹاپ ختم کر دئیے ہیں جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عوامی سماجی حلقوں نے سٹاپ بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔