امید کی کرن

23 جولائی 2009
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی دائر کردہ عرضداشت کی سماعت کے دوران جو آراء دی ہیں وہ نہ صرف ان کے توازن فکر اور آئین و جمہوریت کی بالادستی کو یقینی بنانے کے عزم کی آئینہ دار ہیں بلکہ ان کے ذریعے قوم کو اس پر بھی اطمینان کا سانس لینے کا موقع ملا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت انصاف ایک جانب 3 نومبر 2007ء کی غیر آئینی و غیر قانونی ایمرجنسی کے اثرات کو ملیامیٹ کرکے رکھ دینا چاہتی ہے تاکہ پاکستان کے نظام حکومت کے اندر سرائت کر جانے والے ان تمام جراثیم کو کچل کر رکھ دیا جائے جو آمریت کے اقدامات کی وجہ سے باقی ہیں۔ ہمارا ریاستی ڈھانچہ ان سے پاک ہو جائے۔ دوسری جانب حکومت اور اہل قوم کو یہ یقین بھی دلایا گیا ہے کہ 18 فروری 2008ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں جو پارلیمنٹ وجود میں آئی ہے وفاقی اور صوبائی اسمبلیاں قائم ہوئی ہیں۔ صدر اور وزیراعظم کے عہدوں پر منتخب افراد کا تقرر ہوا ہے اسے کوئی گزند نہیں پہنچنے دیا جائے گا کیونکہ یہ سارا عمل آئین کے تحت ہوا ہے۔ جائز اور درست ہے اسے جاری و ساری رہنا چاہئے۔
محترم چیف جسٹس کی جانب سے اس رائے یا آبزرویشن کے اظہار کے بعد امید کی کرن پھوٹی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان افواہوں‘ بے بنیاد قیاس آرائیوں اور شکوک و شبہات نے دم توڑ دیا ہے جو سپریم کورٹ کے چودہ رکنی فل بنچ کے سامنے زیر سماعت مقدمے کی وجہ سے پیدا ہو گئے تھے یا کچھ حلقے جان بوجھ کر انہیں پھیلا رہے تھے کہ 3 نومبر 2007ء کی ایمرجنسی کو خلاف آئین قرار دینے کے ساتھ ہی اس نظام کو بھی تلپٹ کرکے رکھ دیا جائے گا۔ جناب چیف جسٹس کی جانب سے قطعی الفاظ میں واضح کر دیا گیا ہے۔ آئینی و جمہوری نظام چلتا رہے گا جو چیز ختم کرنا مقصود ہے وہ جنرل مشرف کی نافذ کردہ ایمرجنسی کے پیدا کردہ مفسد نتائج و اثرات ہیں ان کا قلع قمع کئے بغیر جمہوری نظام کو صحت مند خطوط پر استوار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ جناب افتخار محمد چودھری نے اپنی رائے دیتے ہوئے کشادہ ظرفی کے ساتھ اور قطعی الفاظ میں اس افسوسناک حقیقت کا اعتراف بھی کیا ہے کہ ماضی میں اعلیٰ عدالتوں کے غلط فیصلوں نے آمریت کو تحفظ فراہم کیا۔ اس سے آئینی نظام اور جمہوری تسلسل کو سخت نقصان پہنچا۔ یہ باب اب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جانا چاہئے۔ 3 نومبر 2007ء کی ایمرجنسی کی توثیق دینے والا جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں دیا جانے والا فیصلہ بھی اسی شمار میں آتا ہے۔ جناب چیف جسٹس نے اس حوالے سے ملک کی منتخب پارلیمنٹ کو سلام پیش کیا ہے کہ اس نے اس انتہائی غیر آئینی اقدام کو تحفظ فراہم نہیں کیا۔ یوں بہتر روایت قائم کی ہے۔
پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے جیسا بھی آئینی اور جمہوری ڈھانچہ یا نظام اس وقت کام کر رہا ہے اسے برقرار رکھتے ہوئے اصلاح احوال کی صورت پیدا کی جائے نہ کہ نت نئے تجربات کئے جائیں۔ بنگلہ دیش ماڈل یا اس سے ملتے جلتے تجربے کا ذکر ایک مرتبہ پھر سننے کو آ رہا ہے۔ سوال یہ ہے اس ماڈل نے 2 سال تک بنگلہ دیش کو کیا دیا جو ہمیں مل جائے گا۔ ماسوائے اس کے کہ انتشار بڑھے گا اور غیر یقینی کی کیفیت مزید گہری اور پیچیدہ ہو جائے گی۔ آئین کی بالادستی اور جمہوری نظام کو جاری رکھنے میں تمام ریاستی اداروں کو برابر کا اور مددگار کردار ادا کرنا ہو گا۔ لیکن اس کا مطلب بھی ہرگز نہیں کہ آئین مملکت کے اندر آمریت کی جانب سے جو تبدیلیاں کی گئی تھیں ان کا فی الفور خاتمہ نہ کیا جائے۔ سترہویں ترمیم ابھی تک ہمارے جمہوری ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ بن کر چسپاں ہے۔ اس سے نجات حاصل کئے بغیر ہم اس نظام کو آگے کی جانب بڑھا سکتے ہیں نہ تقویت فراہم کر سکتے ہیں نہ یہ ملک و قوم کے لئے اتنا مفید ثابت ہو گا جتنی خالص آئینی اور جمہوری نظام سے توقع کی جاتی ہے لہٰذا جہاں عدالت عظمیٰ اپنا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے مشرف ایمرجنسی اور پی سی او ججوں کو غیر آئینی قرار دینے کا سندیسہ سنا رہی ہے وہیں پارلیمنٹ‘ حکومت اور اپوزیشن کا فرض ہے کہ بلاتاخیر سترہویں آئینی ترمیم کو کتاب دستور سے جلد از جلد نکال باہر پھینکنے کے لئے متحرک ہو جائیں تاکہ پارلیمنٹ اور عدالت عظمیٰ کے کاموں میں ہم آہنگی پیدا ہو لیکن اگر آگے چل کر سترہویں ترمیم کو خلاف آئین قرار دینے کا فریضہ بھی عدالت عظمیٰ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا تو پارلیمنٹ کے پاس کرنے کا کیا کام رہ جائے گا اور قوم و تاریخ کی نگاہ میں اس کی وقعت کیا ہو گی۔

کرن رضا کا اعزاز

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی کی طالبہ اور کرنل مسعود رضا ...