کچھ ’سپلٹ ائرکنڈیشنرز‘ پر

23 جولائی 2009
دیارِ غیر کی شدید سردی میں امڈتے طوفانِ برق و بادوباراں کے دوران اپنی رہائش گاہ کی خواب گاہ کے نرم اور گرم بستر میں دبکے دبکے پردے کے پیچھے دیوار تا دیوار شیشوں پر دستکیں دیتی موسلا دھار بوندوں کی گونج میں آنکھوں تک امڈ آنے اور تکیہ بھگو بھگو جانے والے آنسو بہانا اور بہت پیچھے رہ جانے والے پیاروں کے خوابوں میں کھو جانا! ایک دھوپ بھرے چمکیلے دن میں‘ دنیا بھر کی نعمتوں سے آراستہ بازاروں سے گزرتے ہوئے اپنے ملک کے گلی کوچے یاد آنا اور چمکتی دمکتی دکانوں سے یک دم جی ادبھ جانا! قیمتی کاروں کے تلوے چاٹتی ہموار قالینی سڑک پر سفر کے دوران اپنے گائوں کی طرف جاتی خستہ حال سڑک پر ہچکولے کھاتے تانگے کا سفر یاد آنا اور دیارِ غیر کے دو شہروں کے درمیان حائل سفر آسان ہو جانا! موٹر وے پر کسی پڑائو کے اختتام پر بل ادا کرتے وقت بھرا ہوا ’بٹوا‘ نکالنا اور گائوں میں ایک دن پہلے اتاری گئی قمیض کی جیبیں کھنگال کر کوئی ’بچا کھچا‘ سکہ تلاش کرنے کا لمحہ یاد آ جانا! کسی محفل میں کسی بہت ہی مہذب سے لطیفے پر انتہائی شائستہ سی مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے گائوں کی چوپال پر بلند ہوتے قہقہوں کی گونج میں ہنستے ہنستے آنکھیں بھر آنا! ایک ایسا المیہ ہے کہ جب کبھی بیان کرنے چلیں تو کاغذ کم پڑ جاتا ہے!
سمندر پار پاکستانی گھر میں قدم رکھتے ہی کمپیوٹر روم کی طرف دوڑتے ہیں اور سب سے پہلے تمام پاکستانی اخبارات کھول کر دیکھتے ہیں‘ بڑی بڑی خبریں اور ان پر تبصرے اور کالم دیکھتے ہیں اور پھر نیچے آ کر بال بچوں کے ساتھ بیٹھ کر چائے پیتے اور گپ ہانکتے ہیں! یہ شہر نیویارک بھی ہو سکتا ہے اور یہ شہر اوسلو بھی‘ یہ شہر سنگاپور بھی ہو سکتا ہے اور سڈنی بھی!
دنیا‘ پاکستانی ہنرمندوں اور محنت کش مزدوروں سے بھری پڑی ہے! ان میں سے بیشتر ’’گائو پوت‘‘ غیر ممالک میں دن رات ایک کرکے پاکستان میں اپنے خاندانوں کا پیٹ پال رہے ہیں! تمام ’’شور و غوغا‘‘ گھر سے باہر ہے اور کمرے میں صرف ٹھنڈی خاموشی ہے! یہ ’سپلٹ ائرکنڈیشنر‘ کی زندگی بسر کر رہے ہیں! پسینہ بہاتے‘ کراہتے بوجھ اٹھاتے‘ وطن کے لئے کرلاتے یہ پاکستانی کیا کچھ سہہ رہے ہیں تاکہ وہ پاکستان میں اپنے گھر والوں کو آسائش مہیا کر سکیں! ان کے بچے لکھ پڑھ کر بڑے آدمی بن سکیں! اور جب وہ زندگی بھر کا اثاثہ لے کر وطن لوٹیں تو راستے میں لوٹ لئے جائیں! گولی کا نشانہ بنا دئیے جائیں! کوئی کام کرنا چاہیں تو دفتروں کے چکر کاٹتے کاٹتے کل جمع پونجی ہی کھا جائیں!
پاکستانی پیسہ پیسہ جوڑ کر وطن آتے ہیں کہ اب اپنے ’وطن‘ میں کام کریں اور ہم انہیں بس یہی کام نہیں کرنے دیتے! اور وہ دوبارہ دیارِ غیر کی خاک چھاننے نکل کھڑے ہوں!
ان تمام ’مظالم‘ پر بھی پاکستانی صرف اور صرف پاکستان کے لئے پریشان رہتے ہیں! ہمارے اخبارات ’انٹرنیٹ‘ پر ان کی توجہ کا مرکز رہتے ہیں! وہ پاکستان کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں! خواہ وہ اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز پاکستانی ہوں یا ان پڑھ مزدوری پیشہ پاکستانی! وہ پاکستان سے خیر کی خبر‘ سننا چاہتے ہیں! وہ معاملات درست رخ پر رواں دیکھنا چاہتے ہیں! وہ ہمارا مقابلہ گرد و پیش سے کرکے بھی ’ناامید‘ نہیں ہوتے حالانکہ ’وطن کے لئے دعا‘ کے سوا ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں! یہ الگ بات ہے کہ پاکستان کے اندر رہنے والوں کے ہاتھ میں بھی‘ وطن کے لئے دعائوں کے سوا کچھ نہیں! بقول میر تقی میر
ناحق ہم مجبوروں پر‘ یہ تہمت ہے مختاری کی
جو چاہیں‘ سو‘ آپ کرے ہیں‘ ہم کو عبث بدنام کیا