کہ اقوام زمین ایشیا کا پاسبان تو ہے

23 جولائی 2009
پاکستان کا نظریاتی‘ قومی‘ تاریخی‘ دینی اور ثقافتی جغرافیہ اس بات کی ترجمانی کرتا ہے کہ خدائے ذوالجلال والاکرام نے پاکستان کو قیامت تک زندہ رکھنا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ وہ ممالک خوش قسمت ہیں جن کو اُن کے ہمسایوں سے کوئی خطرہ یا خدشہ لاحق نہیں ہے۔ پاکستان عزم عالیشان دنیائے انسانیت کا واحد ملک ہے جو کسی نظرئیے کی بنیاد پر قائم ہوا۔ بعض دانشوران کرام اسرائیل کو بھی اسی زمرے میں شامل کرتے ہیں حالانکہ بین الاقوامی قوانین اور اسلامی قوانین کے پیش نظر وہ نظریاتی ریاست نہیں ہے۔ اسرائیل کو یورپی مددگاروں مخالفین ہٹلر نے دوسری جنگ عظیم کے بعد شرف آزادی سے ہمکنار کیا تھا۔ کہنے کا مفہوم یہ ہے کہ کسی نظریاتی ریاست کی بنیادیں خالصتاً دینی‘ اسلامی اور تاریخی اہمیت کی مالک ہوا کرتی ہیں۔ پاکستان کا یہی نظریاتی تشخص نہ بھارت کو پسند ہے اور نہ ہی یورپ‘ امریکہ اور روس کو پسند ہے‘ پاکستان کا وجود تو ہے ہی قرآن کے اصولوں اور ریاست مدینہ کے احوال و کیفیات کی روشنی میں اور پھر یہ کہ تاریخ کا ایک ایسا واقعہ اور معجزہ خداوندی جس سے عیاں ہے کہ پاکستان کو اقوام عالم کی قیادت کرنا ہے۔ جیسے حضرت علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا:
یہ نکتہ سرگزشت ملت بیضا سے ہے پیدا
کہ اقوام زمین ایشیا کا پاسبان تو ہے
یورپ گزیدہ نظریات و تصورات کے حامل ہمارے بہت سے دانشوران کرام کا خیال ہے کہ پاکستان انگریز کی وجہ سے معرض وجود میں آیا اور پھر یہ کہ پاکستان کی تخلیق کا مسئلہ دینی‘ قرآنی اور اسلامی نہیں تھا بلکہ معاشی تھا۔ ہم یہ عرض کرنے میں حق بجانب ہوں گے کہ اگر معاشی مسئلہ تھا تو برصغیر کے غریب ہندوئوں‘ عیسائیوں‘ پارسیوں اور دلتوں نے کیوں نہ پاکستان کیلئے آوازہ بلند کیا معاشی پہلو ایک عنصر ضرور تھا لیکن حاوی عنصر بہرحال قرآنی اور اسلامی نظریات و تصورات کی اہمیت تھی۔ ہماری اسلامی تاریخ ہمارے لئے باعث تقویت قلب و جگر ہے کہ ہمیں معلوم ہو کہ 1492ء میں کس طرح سلطنت غرناطہ برباد ہوئی اور تمام مسلمانوں کو وہاں سے تہ تیغ کر دیا گیا۔ صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہمارے لئے آج بھی 1492ء اسلامی‘ قومی اور نظریاتی محور تفکر و تدبر کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ یورپ کی صلیبی قوتوں اور طاقتوں نے شام کے ساحل پر‘ بیت المقدس‘ حرمین شریفین اور عالم اسلام کو بدنیتی سے دیکھنا شروع کیا تھا۔ پھر اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے انتہائی اہم لمحوں میں یعنی 1517 میں شام‘ عراق اور مراکش اسلامی دائرہ اثر و نفوذ میں آ گئے۔
مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کو یورپ‘ امریکہ‘ بھارت اور اسرائیل کے Under World نے اپنے گھیرے میں لینے کی کوششیں تیز کر دی ہیں طالبان کی دہشت گردانہ صورت حال خالصتاً بین الاقوامی سازش ہے۔ امریکہ کے بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدات اور ہیلری کلنٹن کی یہ گوہر افشانی کہ 9/11 کے مجرم پاکستان میں موجود ہیں انتہائی خطرناک ڈپلومیسی اور سیاسی منافقت کا شاخسانہ ہے۔ جس کے پس منظر میں یہودی مضبوط ترین لابی خطرناک اور ہولناک منظرنامہ پیش کرتی نظر آ رہی ہے۔ اس تمام تر مختصر سیاسی اور جغرافیائی صورت احوال کے پیش نظر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمرانوں‘ سیاسی قائدین اور پارلیمنٹیرین خواتین و حضرات کو کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئے۔ فیصلہ پاکستان کے 18 کروڑ عوام نے بھی کرنا ہے۔ اس ضمن میں حضرت قائداعظمؒ کے ارشادات و احکامات بہت واضح ہیں‘ لیکن عمل کون کرے گا اور کون کرائے گا۔ ہمیں حضرت قائداعظمؒ کے فرمودات کی روشنی میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان نے عالم اسلام کا قلعہ بن کر ابھرنا ہے‘ پاکستان بفضل تعالیٰ ایک ناقابل تسخیر قلعہ ہے اگر کسی کو کوئی وہم ہے تو اس قلعے سے ٹکرا کر دیکھ لے۔