یورپ میں قائم بادشاہتیں

23 جولائی 2009
یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ موجودہ ترقی یافتہ سائنسی جمہوری اور جدید اکیسویں صدی میں دنیا کے چھبیس ممالک میں بادشاہتیں قائم ہیں۔ ان ممالک میں سے دس کا تعلق براعظم یورپ سے ہے جوکہ صنعتی لحاظ سے ترقی یافتہ اور معاشی اعتبار سے مستحکم 45 ممالک پر مشتمل ہے۔ تخت و تاج رکھنے والے یورپی ممالک میں برطانیہ‘ بیلجیئم‘ ڈنمارک‘ سپین‘ سویڈن‘ لکسمبرگ‘ لیچٹنس ٹین‘ مناکو‘ ناروے اور نیدر لینڈر شامل ہیں۔ برطانیہ (یو کے) میں بادشاہت کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ نویں صدی عیسوی سے لیکر اب تک وہاں کئی شاہی خاندان حکمرانی کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں ان میں سیکسن‘ ڈینز‘ نارمنڈی خاندان‘ پلانٹا جینٹ خاندان‘ لینکاسٹر خاندان‘ یارک خاندان‘ ٹیوڈر خاندان‘ سٹوارٹ خاندان‘ ہینوور خاندان‘ سیکسے برگ خاندان اور موجودہ ونڈسر خاندان نمایاں ہیں۔ برطانیہ کی موجودہ ملکہ کا نام الزبتھ دوم ہے جوکہ شاہ جارج ششم کی بڑی صاحبزادی ہیں وہ 21 اپریل 1926ء کو پیدا ہوئیں اور 6 فروری 1952ء کو اپنے والد کی وفات کے بعد تخت پر جلوہ گر ہوئیں۔ انہوں نے 20 نومبر 1947ء کو شہزادہ فلپ (پیدائش 1921ئ) سے شادی کی۔ ان کی اولاد شہزادہ چارلس‘ شہزادہ اینڈریو‘ شہزادہ ایڈورڈ اور شہزادی این پر مشتمل ہے۔ ملکہ برطانیہ محض ایک آئینی سربراہ ہیں جن کے دستخط سے پارلیمنٹ کے منظور کردہ بلوں کو قانون کا درجہ حاصل ہو جاتا ہے۔ تاہم وزیراعظم جوکہ عوام کے منتخب نمائندوں سے وزارت عظمیٰ کے عہدے کیلئے چنا جاتا ہے ملک کا نظم و نسق چلاتا ہے۔ بیلجیئم یورپ کا ایک چھوٹا ملک ہے جوکہ فرانس کے شمال میں شمالی سمندر کے ساحل پر واقع ہے۔ دس ملین آبادی پر مشتمل اس ریاست کے بادشاہ کا نام البرٹ دوم ہے جو 1993ء میں تخت نشین ہوا۔ بیلجیئم کا دارالحکومت برسیلز ایک خوبصورت شہر ہے جس کو یورپی یونین کا ہیڈ کوارٹرز ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ڈنمارک میں بھی بادشاہت قائم ہے اس کی موجودہ ملکہ کا نام مارگیٹ ثانی ہے۔ جو 1972ء میں تخت پر جلوہ افروز ہوئی۔ ملک میں آئینی بادشاہت رائج ہے جبکہ نظم و نسق کا ذمہ دار وزیراعظم ہوتا ہے۔ سپین کا شمار ان ممالک میں کیا جاتا ہے جو قدیم عہد سے شاہی نظام کے تحت رہے ہیں۔ یہی وہ ملک ہے جسے طارق بن زیاد نے آٹھویں صد عیسوی میں فتح کیا اور پھر آٹھ صدیوں تک مسلمانوں نے یہاں حکومت کی۔ مسجد قرطبہ آج بھی سیاحوں کو اس مسلم دور کی یاد دلاتی ہے۔ سپین (اندلس) کی فضاؤں سے اسلامی عہد حکومت کی مہک آتی ہے۔ بقول اقبال
بوئے یمن آج بھی اس کی ہواؤں میں ہے
رنگ حجاز آج بھی اس کی نواؤں میں ہے
آج کل سپین پر شاہ جوان کاولوس اول کی حکمرانی ہے وہ 1975ء میں تخت پر جلوہ افروز ہوئے۔ ملک میں پارلیمانی بادشاہت کا نظام رائج ہے۔ سویڈن کا شمار اہم یورپی ریاستوں میں کیا جاتا ہے جس کا تعلق سیکنڈے نیویا کے علاقہ سے ہے۔ آج کل شاہ کارل گستاف اس ملک کے فرمانروا ہیں جوکہ 1973ء میں تخت نشین ہوئے سٹاک ہوم ملک کا دارالخلافہ ہے۔ ملک میں آئینی بادشاہت قائم ہے۔ لکسمبرگ ایک چھوٹی یورپی ریاست ہے جس کا رقبہ صرف 998 مربع میل ہے۔ اس کے موجودہ حکمران کا نام جین کلاڑے جنکر ہے جو 1995ء سے تاج شاہی پہنے ہوئے ہیں لیچٹنس ٹین 62 مربع میل رقبہ کے ساتھ دنیا کا چھٹا سب سے چھوٹا ملک ہے۔ 1989ء سے اس پر شہزادہ ہانس ایڈم ثانی کی حکومت ہے۔ دنیا کی دوسری سب سے چھوٹی ریاست ہے۔ اس کے موجودہ حکمران کا نام شہزادہ البرٹ دوم ہے جو 2005ء سے تخت نشین ہے۔ ناروے بھی سیکنڈے نیویا کا ایک اور اہم ملک ہے قطب شمالی کی قربت کے باعث یہاں غروب آفتاب بعض اوقات نصف شب کے قریب ہوتا ہے۔ آج کل یہاں شاہ ہیرالڈ پنجم 1991ء سے حکمران ہیں۔ نیدر لینڈ (ہالینڈ) یورپ کا ایک خوبصورت ملک ہے جسے اپنے خوبصورت دارالخلافہ ایمسٹرڈیم‘ ہوائی چکیوں اور پھولوں کے باعث عالمی شہرت حاصل ہے۔ اس کی ہاکی ٹیم بھی عالمی مقابلوں میں کارنامے انجام دیتی رہتی ہے۔ ان دنوں ملکہ بیٹریکس نیدر لینڈز کی حکمران ہیں۔

روحانی شادی....

شادی کام ہی روحانی ہے لیکن چھپن چھپائی نے اسے بدنامی بنا دیا ہے۔ مرد جب چاہے ...