مشرف کی طلبی … کیا مکافات عمل کا وقت آ گیا ہے

23 جولائی 2009
ملک شکیل اکرم ایڈووکیٹ ........
سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے بیانات گواہ ہیں وہ کہا کرتے تھے کہ پاکستان ان کا ملک ہے اور وہ یہیں رہیں گے لیکن چند ماہ سے لندن میں اپنی اہلیہ محترمہ کے نام پر خریدے گئے گھر میں قیام پذیر ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق یہ گھر ان کو کسی دوست نے گفٹ کیا تھا۔ اس دوست نے کون سی مراعات لے کر یہ گھر پرویز مشرف کو تحفے میں دیا یہ الگ موضوع ہے۔ آج ٹاک آف دی ٹائون سابق صدر کی سپریم کورٹ میں طلبی ہے۔ 3 نومبر 2007ء کے عدلیہ کا دھڑن تختہ کرنے کے اقدام کے کیس میں جسے خود سابق صدر اپنے باوردی اقتدار کے دوران بار بار ماورائے آئین اقدام قرار دے چکے ہیں اور یہ تو ماہر قانون دانوں کے علاوہ بھی سب کو پتہ ہے کہ قانون توڑنے کی آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت سزا موت ہے۔ لیکن یہ سزا صرف اور صرف جرم ثابت ہونے پر دی جا سکتی ہے۔
سابق صدر نے 9 مارچ کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو معطل اور 3 نومبر 2007ء کو ان کے ساتھی ججوں کو گھر بھیجتے ہوئے اکثر کو نظربند کیا ان کے بچوں پر سکولوں کے دروازے بند ہو گئے۔ بعض کی فیملیز کو ادویات تک کی فراہمی روک دی گئی تھی۔ اس وقت مشرف کو ایسا کرنے کا مشورہ دینے والے اور اس اقدام کا دفاع کرنے والے آج کہیں نظر نہیں آ رہے ہیں۔ این آر او کے مزے اڑانے والی پیپلز پارٹی کی حکومت نے تو ان کے دفاع سے انکار کر دیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ پرویز مشرف عدالت کی طلبی پر پیش ہوتے ہیں یا نہیں۔ اگر پیش ہو گئے تو عدالت سے نا انصافی اور رعایت کی توقع عبث ہے۔
حب الوطنی اور قوم کی خاطر جان تک قربان کر دینے کے دعوے کرنیوالے سابق صدر پرویز مشرف سے توقع تو یہی ہے کہ پریم کورٹ کے احکام پر عمل ضرور کریں گے۔ گزشتہ روز کی کارروائی سے نظر آتا ہے کہ حکومت عدالت عظمیٰ ان کے خلاف یکطرفہ اور ان کی غیر موجودگی میں کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتی۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کو ابھی صرف ایک کیس میں عدالت میں طلب کیاگیا ہے۔ اس سے بھی بڑا کیس 12 اکتوبر 1999ء کا غیر آئینی‘ غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدام ہے جب ایک جمہوری اور عوامی حکومت کا تختہ الٹ کر مقبول وزیر اعظم کو پہلے جیل میں ڈالا گیا۔ ان پر جھوٹے مقدمات قائم کر کے عدلیہ سے مرضی کے فیصلے لئے گئے اور بعد ازاں پورے خاندان کو جلاوطن کر دیا گیا کیا مکافات عمل شرع ہو چکا ہے؟ لینے کے دینے کا وقت آ گیا ہے؟