تاریخ کے اوراق پلٹئے اور دیکھئے

23 جولائی 2009
عامرہ احسان (سابق کن قومی اسمبلی) ........
یہ نظریاتی دہشت گردی کا دورِ اول ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کو شدید ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا قصور اسکے سوا اور کچھ نہیں کہ مروجہ نظام ہائے زندگی کیلئے اسلام کا پیغام ایک زبردست چیلنج ہے۔ اس میں باقی نظاموں کی موت مضمر ہے۔ دنیائے کفر اپنی پوری قوت کیساتھ اسلام کو کچل ڈالنے کیلئے کمربستہ ہے۔ پرانے مسلمان (یہودی) اہلِ کتاب ہونے کے باوجود‘ انبیاء کے وارث ہونے کے باوجود جو خود ساختہ شریعت بنائے بیٹھے تھے۔ اسلام کا واضح‘ صاف‘ سادہ‘ منضبط طرزِ زندگی اس سے ہر قدم پر متصادم تھا۔ انکے ہاں دین کی حقیقی روح نکل چکی تھی‘ ظاہری مذہبیت کا بے جان ڈھانچہ سینے سے لگائے بیٹھے تھے۔ بدعات‘ تحریفات‘ موشگافیوں ‘ فرقہ بندیوں نے اسلام کا حضرت موسیٰ علیہ السلام لیکر آئے تھے‘ حسین چہرہ گہنا دیا تھا۔ لہٰذا نبیؐ اسلام کا حیات بخش پیغام لے کر آئے تو وہ یکساں طور پر تمام طبقات کیلئے گویا طبلِ جنگ تھا۔ مشرکین‘ یہود و نصاریٰ سبھی درجہ بدرجہ مخالفت پر کمربستہ ہو گئے۔ صحابہؓ کو بدترین مظالم سے گزارا گیا۔ اسی ایک لا الہ الا اللہ کی پاداش میں۔ بنو مخزوم کا محلہ ہے کفارِ قریش ایک ضعیف العمر خاتون کو لوہے کی زرہ پہنا کر دھوپ میں لٹائے ہوئے ہیں اور پاس کھڑے قہقہے لگا رہے ہیں‘ کہتے ہیں ’’محمدؐ کا دین قبول کرنے کا مزا چکھ‘‘ ۔۔ نبی کریمؐ آبدیدہ ہو جاتے ہیں‘ فرماتے ہیں ’’صبر کرو تمہارا ٹھکانہ جنت میں ہے‘‘ ۔
یہ خاتون حضرت سمیہؓ بنتِ خباط ہیں جو ہر طرح کے مظالم سہہ کر بالآخر ابوجہل کے ہاتھوں شہید ہوئیں۔ غیض و غضب میں بھر کر انہیں اسلام کی سزا دینے کیلئے اس بدبخت نے برچھا سینے پر دے مارا اور یوں اسلام کی راہ میں پہلا خون ایک مسلمان عورت کا بہا۔ حضرت زنیرہؓ‘ لُبینہؓ‘ نہدیہؓ اسی طرح کے ظلم برداشت کرتی رہیں تآنکہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے انہیں خرید کر آزاد کیا۔
1443 سال کی گردش کے بعد دنیا ایک مرتبہ پھر اسی موڑ پر کھڑی ہے :
آگ ہے اولادِ ابراہیم ؑ ہے نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحان مطلوب ہے
اگرچہ شہرہ آفاق اکیسویں صدی ہے۔ آسمان پر تھگلیاں لگاتی صدی۔ ترقی‘ آزادیٔ اظہار‘ حقوقِ انسانی‘ حقوق نسوانی‘ مساوات‘ تہذیب کے نعرہ ہائے بلند لگاتی صدی۔ اسی صدی کے پٹتے ڈھنڈوروں کے بیچ ابھی ہم حیرت کے سمندر میں غوطہ زن عافیہ صدیقی کو عطا کئے جانیوالے بے بہا حقوقِ نسوانی سے نمٹنے کے چکر میں تھے کہ ایک اور کہانی نے مغرب کے رُخِ روشن سے نقاب الٹ کر اندرون چنگیز سے تاریک تر ہمیں دکھا دیا۔ یہ منظر دیکھئے۔
آزادیٔ اظہار اور جیئو جیسے چاہو کے اس دور میں یہ نوجوان جوڑا جامعہ حفصہ‘ لال مسجد سے برآمد نہیں ہوا۔ کسی مدرسے کا پڑھا ہوا پنجاب کے کسی دیہات سے متعلق بھی نہیں ہے۔ یہ تو جرمن یونیورسٹی کا طالب علم (جینیٹک انجینئرنگ) میں پی ایچ ڈی کرتا نوجوان علوی العکاظ اور اس کی نوجوان تعلیم یافتہ بیوی مروا البشرینی ہے۔ تہذیب یافتہ مغرب کے قلب میں واقع ایک پارک میں اپنے معصوم تین سالہ بچے کیساتھ یہ خاتون حجاب اوڑھے بیٹھی ہے اس کا حجاب چونکہ شعائر اسلام سے وابستہ ہے لہٰذا ایک جرمن ’ایلکس‘ اسے دیکھ کر جھنجلا اٹھتا ہے۔ اسلام سے نفرت اسکے ہر بنِ مُو سے امڈ پڑتی ہے اور وہ مروا کو دہشت گرد اور اسلامی طوائف کہہ کر دل کا غبار نکالتا ہے۔ مروا نے یہ وار خاموشی سے سہ جانے یا حجاب اتار دینے میں عافیت تلاش کرنے یا غامدی نوعیت کے اسلام نگل جانیوالے فتوؤں سے فائدہ اٹھانے کی بجائے عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا۔ عدل‘ انصاف‘ رواداری‘ تحمل‘ برداشت‘ ڈائیلاگ‘ بین المذاہب مفاہمتی پیٹتے ڈھولوں کے بیچ ایک سادہ لوح مسلمان جوڑے نے اپنا حق وصول کرنے کی ٹھانی۔ اس مقدمے میں ایلکس کو 780 یورو جرمانہ ہوا! ہتکِ عزت کی زبردست قیمت لگی تاہم ایلکس کو یہ گورا نہ ہوئی اور اس فیصلے کیخلاف اس نے اپیل کر دی۔
دوبارہ عدالت میں حاضری کے موقع پر ابوجہلِ دوراں نے سمیہؓ بنتِ خباط کی بیٹی مروا کو جبکہ وہ بچے اور شوہر کیساتھ عدالت میں موجود تھی (مزید ایک تین ماہ کے وجود کو اپنے اندر لئے ہوئے) اٹھارہ مرتبہ چاقو کے وار کر کے شہید کر دیا۔ پولیس تماشائی بنی کھڑی تھی۔ جونہی مروا کا شوہر بیوی کو بچانے کیلئے آگے بڑھا پولیس نے گولی چلا کر شوہر کو شدید زخمی کر دیا۔ اتنا بڑا واقعہ! جرمن عدالت میں سنگین ترین دہشت گردی کی وارادت۔ حجاب اوڑھنے کی سزا اتنی سخت۔ قانون ہاتھ میں لے لیا گیا۔ حکومتی رِٹ منہ دیکھتی رہ گئی۔ پُرامن بقائے باہمی کے سارے فلسفے دم توڑ گئے۔ نظریاتی دہشت گردی ڈریکولا کے دانت لگائے‘ خون آشام آنکھیں نکالے‘ ظلم کی سیاہ زلفیں لہراتی مروا کے معصوم بدن کا لہو پی گئی۔ تین سالہ معصوم بچہ پاس کھڑا یہ خوفناک منظر دیکھتا رہا۔ یہ تو پوری دنیا کیلئے‘ اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تمام تنظیموں کیلئے قرب و جوار سے جھانکتی جنیوا کنونشن کے اصول ضابطوں کیلئے دہشت گردی کیخلاف صف آرا دنیا میں ایک زبردست بریکنگ‘ شاکنگ خبر ہو گی۔ پینڈا ڈولفن‘ پولر بیئر کے غم میں گھلتے شفیق و رحیم دل مغرب کیلئے یہ ماتم کا دن ہو گا۔ ایلکس کو تو گوانتا نامو بگرام بھیج دیا گیا ہو گا کیونکہ انصاف کے پیمانے تو مغرب کے ہاں اتنے کڑے ہیں کہ پندرہ سالہ عمر خدر جو افغانستان میں اپنا دفاع کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا اس حالت میں کہ اسکا سینہ گولیوں سے چھلنی تھا لیکن چونکہ اس دوران گمان ہے کہ اسکے پھینکے گرنیڈ سے ایک امریکن سپاہی مر گیا تھا۔ لہٰذا اسکی عمر‘ حالتِ جنگ‘ زخمی حالت سے قطع نظر اسے گوانتا نامو بھیج دیا گیا تھا۔ بچپن سے نکل کر جوانی کے ادوار میں وہ زنجیروں میں جکڑا‘ طوق میں بندھا داخل ہوا۔ کینیڈین شہری ہونے کے باوجود چار سال کی تگ و دو کے بعد وکلاء کی اس تک رسائی ممکن ہوئی۔
یہاں تو عدالت کی عین ناک کے نیچے‘ آنکھ کے سامنے یہ بہیمانہ‘ وحشیانہ‘ جنونی‘ بھیڑیوں کو شرما دینے والی واردات ہوئی ہے جس کی چشم دید گواہ عدالت خود ہے اسکا نوٹس نہایت سختی سے لیا گیا ہو گا۔ میڈیا میں خوب ہا ہا کار مچی ہو گی‘ طوفان اٹھ کھڑا ہوا گا۔ شرق تا غرب‘ ایک ایسا واقعہ جو ’ویڈیو سوات‘ جیسا مشکوک بھی نہ تھا خوب خوب نشر ہوا ہو گا۔ آخر سیکورٹی کیمروں پر پوری منظر کشی ہوئی ہو گی اسے پَل بھر میں دنیا میں پھیلا دیا گیا ہو گا۔ مغرب کی امانت و دیانت‘ سچائی‘ معروضیت کے گن گانے والوں کیلئے کیا یہ عجب معمہ نہیں ہے کہ میڈیا پر دو سطری خبر بھی دیکھنے کو نہ ملی لہٰذا کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی حتیٰ کہ راقمہ تک خبر پہنچتے پندرہ دن گزر چکے تھے۔ مروا دہری شہادت سے ہمکنار ہوئی۔ آج کے مادر پدر آزاد معاشروں میں حضرت سمیہؓ کی اس بیٹی نے پہلے حجاب کے فرض سے چمٹنے کا حق ادا کیا۔ ایک مری ہوئی سُنت زندہ کرنے پر سو شہیدوں کا اجر ہے تو اس اُمت کے بیچ حجاب کا بھولا بسرا فرض نبھانے اور اسکی خاطر جان دے دینے پر عورت کیلئے شہادت کا وہی اجر موعود ہے جو مرد کیلئے میدانِ جہاد میں ہے۔ لہٰذا شہادتِ حق دیتے دیتے کتنی بے شمار شہادتوں کا اجر وہ سمیٹ گئی۔ شہید کی موت سنا ہے قوم کی حیات ہُوا کرتی ہے۔ کیا اب بھی این جی اوز سے منسلک بے شمار مسلمان خواتین غور فرمانا پسند کریں گی کہ مروا کا حق ان پر کیا ہے؟
کیا یہ امر باعث حیرت نہیں کہ ایک ایسی دنیا میں جہاں بڑے بڑے شاہانہ میز سجاتے ہوئے اس پر تہہ درتہہ کپڑا چڑھایا سجایا جاتا ہے‘ کرسیاں سر تا پا اوڑھے لپیٹے بیٹھی ہوتی ہیں۔ حتیٰ کہ ناشپاتیاں بھی ملفوف آتی ہیں کپڑے اوڑھے پہنے! کتوں کے فیشن شوز میں ملبوس کتے آتے ہیں حتیٰ کہ مرد جس کا ستر نسبتاً کم ہے وہ دو ہاتھ اور چہرے کے سوا مکمل محجوب ہوتا ہے تھری پیس سوٹ میں‘ ٹائی لگا کر گلا بھی بند کر لیتا ہے‘ پاؤں بھی مکمل پردے میں ہوتے ہیں۔ ایسے میں عورت کا پردہ آدھی دنیا کو جنونی دورے میں کیوں متبلا کر دیتا ہے۔؟ بڑے بڑے لبرل شاندار ممالک فرانس‘ جرمنی‘ برطانیہ جیسے عورت کا ڈھانپا سر دیکھ کر پاگل سے ہو جاتے ہیں‘ ہاتھ پاؤں مڑ جانے اور منہ سے جھاگ نکلنے کا اندیشہ ہونے لگتا ہے۔ انہی آقاؤں کے اتباع میں مسلمان غلاموں پر بھی کچھ ایسی ہی کیفیت داڑھی حجاب دیکھ کر طاری ہونے لگتی ہے۔ کیا یہ نظریاتی دہشت گردی نہیں۔؟ اچھے وقتوں میں برصغیر کے مسلمان مسلم امۃ کے غمخوار ہونے اور دنیا بھر میں مسلمانوں کے حقوق و مفادات کے لئے ہمہ وقت کمر بستہ رہنے کی ایک شہرت رکھتے تھے۔ کابل میں چبھنے والے کانٹے کی کسک دلی کے مسلم پیر و جواں کو بے قرار کر دیا کرتی تھی۔ جس میں یقیناً ایک بہت بڑا عنصر باحمیت، باغیرت قیادتوں‘ علماء کے اثر و رسوخ اور حالی، اقبال، اکبر الٰہ آبادی جیسے شعراء کا بھی تھا۔ آزادی کے بعد ہر آنے والا دن مادر پدر آزادی کی طرف بڑھتا گیا۔ ہم اپنی شناخت کھو بیٹھے۔ لارڈ میکالے کے تربیت یافتہ کالے غلاموں کی نسل شاہ سے زیادہ شاہ کی وفادار ثابت ہوئی تاآنکہ آج ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی کچھ ہماری خبر نہیں آتی۔ ماضی کے واقعات تاریخ میں پڑھ کر حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہو جاتے ہیں۔
یہ احساس زیاں شدت سے حواس پر یوں چھایا کہ جرمنی میں مصری شہیدہ پر احتجاج دیگر ممالک میں تو ہوا۔ حتیٰ کہ امریکی بوٹوں تلے اور کرزئی چوغے کی اوٹ سے جھانکتے افغان عوام کی غیرت بھی سلگ اٹھی۔ اپنی ایک معصوم عفت مآب بہن کے محبوب بدن میں اتارئے گئے جرمن جنونی کے خنجر نے انہیں بے قرار کر ڈالا۔ صرف ایک پاکستانی منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھا رہا۔ حقوقِ انسانی، حقوق نسواں پر واویلا فرما قسم کی ان گنت این جی اوز نے منہ سے بھاپ تک نہ نکالی۔ شعائر اسلامی‘ شعائر اللہ کے پابند مرد و زن انکی لغت میں دائرہ انسانیت سے خارج ہوا کرتے ہیں۔ لہٰذا ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ لیکن مومنانہ طرز زندگی کا حامل جوڑا بھری عدالت میں بدترین دہشت گردی کا نشانہ بنا۔
وحشت و بربریت کی المناک داستان رقم ہوئی۔ حجاب کیخلاف برطانیہ ‘ جرمنی‘ فرانس میں سلگائی گئی تعصب کی آگ کے شعلوں میں مصری مومنہ حضرت سمیہؓ کی مانند کفر کی دیوانگی کی نذر ہو گئی۔ ’’یہودی پروٹوکول‘‘ تلے سسکتا میڈیا خبر تک نہ دے سکا۔ ہم میڈیا کے سرکش گھوڑے پر سوار ہو کر اس کی باگیں اپنے قبضے میں رکھیں گے‘ ہم اپنے دشمنوں کے قبضے میں کوئی ایسا مؤثر طاقتور اخبار نہیں رہنے دیں گے کہ وہ اپنی رائے کو مؤثر انداز سے پیش کر سکے ۔۔ ہم ایسے اخبارات کی سرپرستی کریں گے جو انتشار، بے راہ روی‘ جنسی و اخلاقی انارکی‘ استبدادی حکومتوں اور مطلق العنان حکمرانوں کی مدافعت و حمایت کریں ۔ ہم دنیا کو جس رنگ کی تصویر دکھانا چاہیں گے، وہ پوری دنیا کو دیکھنی ہو گی۔ لہٰذا ’ویڈیو سوات‘ کا بھونڈا ڈرامہ تو دماغوں پر کوڑے برساتا مسلسل اور لگاتار جذبات میں آگ لگاتا رہا۔ نفرت کا مطلوبہ درجہ حرارت پا کر طالبان کا ڈریکولا بنا کر وہ خاموش ہو گیا۔ جھوٹ ثابت ہوجانے کے بعد بھی پوری ڈھٹائی کے ساتھ اس کا حوالہ دیا جاتا رہا۔ لیکن دل و دماغ کو جھنجھنا کر رکھ دیکھنے والے اس المئے پر ہمارے میڈیا پر ہُو کا عالم طاری ہے! ہائے سچائی وائے مصروفیت!