آؤ اپنا احتساب کریں؟

23 جنوری 2015

   دسمبر کی سانولی شامیں اپنے اندر اداسی لیئے ہوئے ہیں جیسے جیسے موسم گزرتا جارہا ہے  دل کی دنیا ویران ہوتی  جارہی ہے عجیب سی یاسیت رگ وپے میں سماتی جارہی ہے جب     شام ڈھلے سورج  اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ افق کی پہنائیوں  میں ڈوبنے لگتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے دل بھی سورج کا حصہ ہو جو بے اختیار سورج کے سا تھ ڈوب رہا   ہو کتنی ہی یادیں در دل پر دستک دیتی ہیںبچھڑے لوگ بچھڑی یادیں دل کو تڑپانے کے لیے یوں حملہ آور ہوتی ہیں کہ ان یادوں سے فرار کی کوئی صورت نظر نہیں آتی  جب  انسان   دنوں کا  احتساب  کرنے بیٹھتا ہے تو ایک لمحے میں گیارہ  مہینوں کا تصورآنکھوں میں کھینچ آتا ہے
   میری آنکھوں  کے سامنے ان گنت مناظر اپنا جلوہ دکھاتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں وہ منظر جب آنکھوں میں امید کی چمک لیے بہت سے چہرے نئی امنگ نئی ترنگ  کے   ساتھ سالِ نو کو خوش آمدید کہہ رہے تھے کہ اب بیروز گاری ، مہنگائی ،لوڈ شیڈنگ ، دہشت گردی اور لوٹ مار کا خاتمہ ہوگاحق داروں کو حق ملے گاکتنی امیدیں  کتنے سہانے خواب ہم جیسے  نادان لوگوں نے سجا لیے تھے کہ کوئی آلہ دین کا چراغ ہوگا جو ان سارے مسائل کو حل کر کے پاکستان کو بے مثال بنا دے گا  کوئی انسان بھوک سے نہیں مرے گا کوئی ماں باپ   اپنی اولاد کی بولی نہیں لگائے گابہت سے خواب  آنکھوں   میں سج  گئے  تھے فائل میں بند ڈگریاںنکالی جانے لگیں مگر کیاہوا؟؟؟  سب خواب سب تصور ٹوٹ گئے وہی بم دھماکے وہی قتل وغارت وہی دھرنے وہی جلوس کچھ بھی تو نہ بدلا بجلی کے بلوں نے کئی لوگوں کو خودکشی پر مجبور کیا  لوڈشیڈنگ مذید بڑھی کسی کو روزگار نہ ملا کارخانے  فیکڑیاں سوئی گیس اور بجلی کی کمی کی وجہ سے بند ا میدیں مایوسی میں بدل گئیں چمکتے چہرے سیاہ پڑ گئے  کبھی امریکہ کی غلامی کبھی بھارت کے سامنے سر جھکااس سارے سال میں کیا بدلہ  خود سے    سوال کیا تو جواب نفی میں تھا کچھ بھی تو نہ بدلہ انصاف کی پکار گلی کوچوں میں گونج رہی ہے ظلم وستم آج بھی معصوم  لوگ سہہ رہے ہیںحوا کی بیٹی سر عام لٹ رہی ہے  بچے اپنے     ہاتھوں میں اوزار  تھامے پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے ا پنے نام نہاد آقاؤں کا ظلم سہہ رہے ہیں شہر در شہر خون کی ندیاں بہہ رہی ہیںکٹے پھٹے اعضاء کفن کے لیے ترس رہے    ہیں  یہ وقت  وقتِ احتساب ہے اگر ہر انسان اپنا احتساب کرے اپنی غلطیوں  کو تسلیم کرے  کہ اسے کس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا اس نے وہ مقصد پورا کیا  کس کا دل توڑا    کس سے جھوٹ بولا کتنے لوگوں کے حقوق پامال کیے  کس کی دل آزاری کی کتنوں کی زندگی اجیرن کی  کتنے لوگ ہم سے ہماری ہی وجہ سے بچھڑ گئے  اور ہم پھر بھی اپنے ہی    حال میں مست جیتے رہے اگر ہر فرد  جاتے سال   کے اس لمحے  ضمیر کی آواز سن لے اپنا ٓ  احتساب کرلے  تو شاید ہم سچے معنوں میں نئے سال کی خوشیاں مناسکیں اپنے    گناہوں کا کفارہ ادا کر سکیں اور پاکستان کو علامہ کے خواب کا رنگ دے سکیں  صبر، برداشت ،تحمل  کی صفات اپنا کر دوسروں کے لیے زندگی آسان کر سکیں
( طاہر جبین تارا لاہور)

اپنا اپنا سچ

بے حد جھوٹے شخص سے خلق خدا تنگ آگئی، تو گائوں بدر کر دیا ۔ دوچار مہینے اِدھر ...