وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہےکہ شہریوں کی جان ومال سےبڑھ کرکوئی چیزنہیں عوام کو دہشتگردوں کےرحم وکرم پرنہیں چھوڑاجاسکتا۔

23 دسمبر 2014 (18:08)


وزیراعظم نوازشریف اپنی تمام سرکاری مصروفیات کو ترک کرکےقومی سلامتی کے اموراجلاس کی صدارت کررہےہیں،
اجلاس میں وزیر اعظم کو لال مسجد کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا، آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی اسلام اباد نے وزیر اعظم کو اسلام آباد کی تمام اہم ترین عمارتوں کی سیکورٹی پربھی بریفنگ دی۔اس موقع پروزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ شہریوں کی جان ومال سےبڑھ کرکوئچیزنہیں،عوامکودہشتگردوں کےرحم وکرم پرنہیں چھوڑاجاسکتا۔ ملک میں آباد کسی بھی مذہب سےتعلق رکھنے والے ہر شہری کو تحفظ فراہم کیا جائے گا،انہوں نےہدایت کی کہ ملک کو درپیش غیر معمولی حالات میں غیرمعمولی اقدامات کئے جائیں اور دہشت گردوں کے خاتمےکےلئےانٹیلی جنس معلومات پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔اس سےپہلےوزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف ،آئی ایس آئی کےسربراہ رضوان اخترکے علاوہ وزیرداخلہ چودھری نثارعلی خان بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں آئی ایس آئی کےسربراہ نے ملک کی مجموعی سیکیورٹی کی صورتحال  پر وزیر اعظم کوبریفنگ دی۔ اس موقع پر وزیر داخلہ کی جانب سے وزیر اعظم کو پارلیمانی کمیٹی کی دہشتگردی کےخاتمےکےلیےتیارکی گئی پچپن سفارشات سے آگاہ کیا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، دہشتگردوں کی سرکوبی کی جائے گی۔ معصوم بچوں کوشہید کرنے والےدہشتگردوں سےکوئی رعایت نہیں ہوگی،آپریشن ضرب عضب کواس وقت تک جاری رکھا جائےجب تک اس سر زمین کودہشت گردوں سے  مکمل پاک نہ کیا جائے۔ عسکری قیادت  نے وزیراعظم کو آپریشن ضرب عضب میں ہونےوالی کامیابیوں سےبھی آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے دہشت گردوں کے خلاف کاروائیوں کو جاری رکھنےکی ہدایت کی، اجلاس میں اس بات پراتفاق کیا گیا کہ دہشتگردوں سےپوری ریاستی طاقت سےنمٹا جائےگا،