مقبوضہ کشمیر میں ریاستی اسمبلی کیلئے ہونے والی ڈھونگی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی جاری ہے، وزیراعلی عمرعبداللہ نے بی جے پی سے اتحاد کو خارج از امکان قرار دے دیا، کہتے ہیں کہ انتخابات پاک بھارت تعلقات یا مسئلہ کشمیر سے جوڑنا غلط ہے

23 دسمبر 2014 (15:00)

جموں و کشمیر میں ریاستی اسمبلی کے  انتخابات کیلئے پانچ مرحلوں میں ووٹنگ ہوئی ریاستی اسمبلی کے نتائج میں بیس ہزار ووٹنگ مشینوں میں قید آٹھ سو سے زائد سیاسی امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہوگا جن میں خود وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ، ان کے حریف مفتی محمد سعید اور کانگریس کے مقامی رہنما غلام نبی آزاد اور سیف الدین سوز بھی شامل ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے مدت اقتدار کی آخری پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ وادی میں ہونے والے پرامن انتخابات رائے شماری کا متبادل نہیں ہیں۔ اس کا مقصد لوگوں کو بہتر انتظامیہ فراہم کرنا ہے ، پریس کانفرنس میں عمر عبداللہ نے بھارت کی قومی سلامتی کے مشیر اجیت کامر ڈاول کے اس بیان سے بھی اختلاف کیا ہے کہ جس میں انھوں نے کشمیر میں انتخابات کو پاکستان کے خلاف سٹریٹجک فتح قرار دیا تھا۔ عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ ان انتخابات کو پاک بھارت تعلقات یا مسئلہ کشمیر سے جوڑنا غلط ہے۔ عمر عبداللہ نے نتائج کے بعد بی جے پی کے ساتھ شراکت اقتدار کے کسی اتحاد کو بھی خارج از امکان قرار دیا۔