سندھ ہائی کورٹ نے اعلیٰ عدلیہ سےمتعلق توہین آمیز بیان دینے پر صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن اور دیگر کے خلاف دائر درخواست پر سماعت تین ہفتوں کے لیےملتوی کردی

23 دسمبر 2014 (14:30)

سندھ ہائی کورٹ میں رانافیض الحسن کی جانب سےدائر درخواست میں  موقف اختیار کیاگیاتھاکہ وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنے بیان میں کہا تھا کہ ججز خوف اور اپنے مفادات کی وجہ سے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ نہیں دے رہے ہیں پولیس اور رینجرز جان پر کھیل کر دہشت گردوں کو پکڑتے ہیں لیکن عدالتیں ان کو چھوڑ دیتی ہیں درخواست گزار کامزید کہناتھا کہصوبائیوزیرکاججز کے خلاف بیان  توہین آمیزہےآرٹیکل 68 ارکان اسمبلی کو ججز کے بارے میں توہین آمیز بیان دینے سے منع کرتا ہے،شرجیل انعام میمن نے اس سے پہلے بھی جان بوجھ کر عدلیہ کے خلاف بیان بازی کی،اس لیے ان کے خلاف آرٹیکل 8,9,2,68اور 204کے تحت کارروائی کی جائے، درخواست گزار نےشرجیل میمن کی اسمبلی رکنیت کالعدم قرار دینے کی د رخواست بھی کی شرجیل انعام میمن کےوکیل فاروق ایچ نائیک نے وکالت نامہ جمع کراتےہوئے مہلت طلب کی جس پرعدالت نےسماعت تین ہفتوں کےلیےملتوی کرتے ہوئےجواب طلب
کرلیا