اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج اطہر من اللہ نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کو مزید کام کرنے سے روک دیا ہے۔

23 دسمبر 2014 (13:36)
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج اطہر من اللہ نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کو مزید کام کرنے سے روک دیا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے سابق وزیراعظم شوکت عزیز کی درخواست کی سماعت کی۔ سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کو سنے بغیر انہیں کیس میں نامزد کر دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کی گئی تھی لیکن وہاں بھی نہیں سنا گیا، جس مقدمے میں میرے موکل کو نامزد کیا گیا ہے، اس کی سنگین سزائیں ہیں اور ان سزاؤں میں سزائے موت بھی شامل ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ہم آپ کی پوری بات سنیں گے۔ اس کے بعد عدالت نے پرویز مشرف کے خلاف سنگین مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کو مزید کام کرنے سے روک دیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے خصوصی عدالت کے فیصلے کیخلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے تمام فریقین کو تین فروری کو حاضر ہونے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ درخواست کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہو گی۔ سابق وزیراعظم شوکت عزیز،سابق وزیر قانون زاہد حامد اور سابق چیف جسٹس آف پاکستان عبدالحمید ڈوگر نے خصوصی عدالت کی جانب سے شریک ملزم بنائے جانے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

مری بکل دے وچ چور ....

فاضل چیف جسٹس کے گذشتہ روز کے ریمارکس معنی خیز ہیں۔ کیا توہین عدالت کا مرتکب ...