مینز اور ویمن کبڈی ٹیمیں بھارت سے وطن واپس پہنچ گئیں، واہگہ بارڈر پر شاندار استقبال

23 دسمبر 2014

لاہور(سپورٹس رپورٹر) پاکستان کی مردوں اور خواتین کی قومی کبڈی ٹیمیں بھارت میں پانچویں کبڈی ورلڈ کپ میں شرکت کے بعد وطن واپس پہنچ گئیں۔ تفصیلات کے مطابق پانچویں کبڈی ورلڈ کپ میں پاکستان کی مردوں کی ٹیم چاندی اور خواتین کی ٹیم کانسی کا تمغہ جیتنے کے بعد پیر کے روز واہگہ بارڈر کے راستے وطن واپس پہنچیں جہاں پر سپورٹس بورڈ پنجاب کے حکام ڈپٹی ڈائریکٹر طارق وٹو، پبلک ریلیشن آفیسر عبدالرئوف روفی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ظہور احمد، ڈی ایس او ملک وقار احمد، ڈی او عطا ء الرحمٰں اور دیگر نے کھلاڑیوں کو پھولوں کے ہار پہنائے، کھلاڑیوں پر گل پاشی کی گئی۔کھلاڑیوں نے پاکستان میں داخل ہوتے ہی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے، کپتان شفیق چشتی نے رنر اپ ٹرافی اٹھا کر کھلاڑیوں کے ساتھ گروپ فوٹو بنوائے، اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل سپورٹس پنجاب عثمان انور نے کہا کہ ہم نے تین سال قبل جب کبڈی کا کھیل شروع کیا تھا تو اس وقت ہمیں بہت سی مشکلات کا سامنا تھا، ہمیں خوشی ہے کہ صرف تین سال کی محنت کے بعد آج دنیا بھر میں پاکستان کے کبڈی کے کھیل کو سراہا جارہا ہے، ٹیموں نے کبڈی ورلڈ کپ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ٹیم مینجر وقاص اکبر نے کہا کہ بھارت نے اپنے ملک کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے،یہ کپ ہمارا ہے بھارت نے زبردستی رکھ لیا ہے، بھارت نے ہمارے کھلاڑیوں کو ویزے نہیں دیئے، ٹیم میں 14کھلاڑی ہوتے ہیں مگر ہم تیرہ کھلاڑیوں سے کھیلے ہیں، ہمارے ایک کھلاڑی ساجد کو ویزا نہیں دیا گیا ساجد بہترین کھلاڑی ہے،اس کے علاوہ ہمارے کبڈی کے کسی ایمپائر کو بھی ویزا نہیں دیا گیا۔ ہم نے ایمپائروں کی دھاندلی کی تحریری شکایت کی ہے، تحقیقاتی کمیٹی نے مثبت کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ کپتان شفیق چشتی نے کہا کہ ہم بھارت سے فائنل ہار کر نہیں بلکہ جیت کر آئے ہیں، میزبانوں نے جس طرح دھوکہ دیا وہ سب نے دیکھا ہے۔ہمارے کھلاڑیو ںنے ورلڈ کپ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، ہماری ٹیم فائنل تک ناقابل شکست رہی۔کوچ غلام عباس بٹ نے کہا کہ ہم نے پورا سال کبڈی ورلڈ کپ کیلئے بھرپور محنت کی اور کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ایمپائروں کے غلط فیصلوں سے کبڈی کے کھیل کو نقصان پہنچا ہے۔واضح رہے کہ کبڈی ورلڈ کپ میں مردوں کی ٹیم نے چاندی اورخواتین کی ٹیم نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا ہے۔