مسلمانوں‘ عیسائیوں کو جبری ہندو بنانے پر بھارتی پارلیمنٹ میں ہنگامہ‘ اپوزیشن نے کارروائی جام کر دی

23 دسمبر 2014

نئی دہلی (نیوز ڈیسک) انتہا پسند ہندو تنظیموں آر ایس ایس اور وشوا ہندو پریشد کی طرف سے آگرہ اور بہار میں 500 مسلمانوں و عیسائیوں کو زبردستی ہندو بنائے جانے پر بھارتی پارلیمنٹ میں پیر کے روز پھر ہنگامہ آرائی ہوئی، اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ ڈالیں اور سپیکر کے سامنے جمع ہوکر اچھالنے لگے۔ انہوں نے نریندر مودی سرکار کو مناسب اقدامات نہ اٹھانے اور سیکولر ازم کا تحفظ نہ کرنے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایوان بالا راجیہ سبھا میں تقریر کرتے ہوئے ترنمول کانگریس کے ڈیرک اوبرین نے کہا کہ بہار میں اتوار کے روز 225 عیسائیوں کو انتہاپسند ہندو تنظیموں نے زبردستی ہندو بنا لیا، اس سے قبل آگرہ میں 300 مسلمانوں کے ساتھ یہی سلوک کیا گیا، ہم انتہاپسند ہندو تنظیموں کا یہ ایجنڈا ہر گز قبول نہیں کرینگے۔ وزیراعظم مودی اپنے اتحادیوں کو کیوں اس عمل سے نہیں روکتے اور آکر پارلیمنٹ میں بیان کیوں نہیں دیتے۔ انہوں نے مودی کے مشہور انتخابی ڈائیلاگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پارلیمنٹ میں آکر بیان دینے کیلئے 56 انچ کی چھاتی نہیں 4 انچ کا دل چاہئے۔ دیگر جماعتوں کانگریس، راشٹریہ جنتا دل، سماج وادی پارٹی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے ارکان نے کہا کہ وزیراعظم مودی پارلیمنٹ میں آکر وضاحت کریں کہ بھارت ایک ہندو ملک ہے یا سیکولر، جیسا کہ آر ایس ایس چیف موہن بھگوت نے کہا ہے کہ بھارت ایک ہندو راشٹر (ملک) ہے۔ واضح رہے مسلمانوں اور عیسائیوں کی جبری مذہب تبدیلی کے معاملے پر اپوزیشن ارکان نے پیر کو بھی پارلیمنٹ کی کارروائی جام کئے رکھی جس پر سپیکر راجیہ سبھا نے اجلاس ملتوی کردیا۔ واضح رہے اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کے باعث مودی حکومت انشورنس کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کا بل منظور نہیں کراسکی۔ ادھر بھارتی ایوان زیریں لوک سبھا میں بھی اپوزیشن ارکان نے خاصی ہنگامہ آرائی کی۔ راشٹریہ جنتا دل کے رکن راجیش رنجن عرف پپو یادیو نے ایک اخبار کو پھاڑ کر اسکے ٹکڑے ڈپٹی سپیکر کی طرف اچھال دئیے جس پر غصے میں لال پیلے ہوئے ڈپٹی سپیکر ایم تھمبیدو رائے نے اجلاس 10منٹ ملتوی کردیا۔