روس کا پاکستان میں اپنے شہری کو پھانسی دئیے جانے پر شدید احتجاج

23 دسمبر 2014

ماسکو/ اسلام آباد (آئی این پی) روس نے پاکستان میں روس سے تعلق رکھنے والے مجرم اخلاص کو پھانسی دینے پر شدید احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان نے روسی شہری کو انسانی بنیادوں پر معافی دینے کے حوالے سے ہماری کسی اپیل کا کوئی جواب نہیں دیا جو افسوسناک ہے، پاکستانی حکام کی جانب سے روسی سفارتخانے کو بھی سرکاری طور پر آگاہ نہیں کیا۔ گذشتہ روز روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق روس کے دفتر خارجہ نے انسانی بنیادوں پر روسی شہری کی سزائے موت میں تبدیلی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا ہے۔ روسی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستانی حکام کی جانب سے اسلام آباد میں روسی سفارتخانے کو سرکاری طور پر آگاہ نہیں کیا۔ رپورٹ کے مطابق پھانسی کے بعد روسی سفارتخانے کو اس معاملے سے آگاہ کیا گیا اور اس نے اتوار کو اس بات کی تصدیق کی کہ اخلاص کو پرویز مشرف حملہ کیس کے دیگر 3 مجرموں کے ساتھ پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ علاوہ ازیں روسی نیوز ایجنسی(سپاٹ نک) نے فیصل آباد میں پھانسی پانے والے 34 سالہ اخلاص روسی کے والد کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ امریکہ تفتیش کیلئے اخلاص کو پاکستان سے خرید نا چاہتا تھا لیکن جب اخلاص نے بتایا کہ وہ روسی شہری ہے تو امریکہ پیچھے ہٹ گیا۔ اخلاص کے والد اخلاق نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی حکام اسکے بیٹے کو امریکہ کے ہاتھ فروخت کرنا چاہتے تھے جب اس نے بتایا کہ وہ روسی ہے تو پھر انہوں نے نہیں خریدا۔ امریکہ باقاعدگی سے پاکستان سے غیرملکی قیدیوں کو خریدتا ہے۔ ان قیدیوں میں سے کچھ کو پولینڈ، بلغاریہ اور مصر میں رکھا گیا ہے اور کچھ کو امریکہ نے گوانتا ناموبے میں رکھا ہے۔ اخلاص کے والد نے کہا کہ امریکہ نے کچھ قیدیوں کو تفتیش کے بعد قتل بھی کر دیا۔