سینٹ میں تحریک طالبان کو ریاست کا دشمن‘ حامیوں کو دہشت گرد قرار دینے کا مطالبہ

23 دسمبر 2014

اسلام آباد (وقائع نگار خصو صی+ نوائے وقت رپورٹ) پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے خاتمے کیلئے چھ نکات تجویز کردئیے۔ دہشت گردی کے موضوع پر سینٹ میں بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا فوری طور پر مولانا عبدالعزیز کو لال مسجد سے نکالا جائے اور مسجد کو واگزار کرایا جائے، تحریک طالبان پاکستان کو ریاست کا دشمن قرار دیا جائے اور انکی حمایت کرنیوالوں کو دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دیا جائے ۔ 2013ء میں کی گئی قانون سازی پر فوری عملدرآمد کرایا جائے جس میں کہا گیا ہے لشکر طیبہ جیسی تنظیموں کو امدادی کاموں کی آڑ میں نام بدل کرکام کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ لکھوی کی ضمانت کی منسوخی کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں، جہادی انفراسٹرکچر کو ختم کیا جائے اور افغانستان تک پیچھا کرنے کی پالیسی نہ اپنائی جائے۔ فرحت اللہ بابر نے خبردار کیا جرأتمندانہ اقدامات ابھی نہ اٹھائے گئے تو ہمیں مستقبل کا تاریخ دان کبھی معاف نہیں کریگا اور خدا نہ کرے کہ ایسا ہو کہ مذہب کے نام پر بنایا ہوا ملک مذہب کے نام پر تباہ ہوجائے۔ انہوں نے کہا پشاور کے سانحہ نے پہلی مرتبہ قومی اتحاد کی امید پیدا کی ہے  اور پہلی مرتبہ قوم دہشت گردوں کے خلاف انکے خاتمے تک لڑنے کا عزم کرچکی ہے۔ پشاور کے شہداء کو یاد کرنے کیلئے یہ ضروری ہے اس موقعے سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اگر کسی کے ذہن میں ان دہشت گردوں کی شناخت یا ایجنڈے کے متعلق کوئی شک و شبہ تھا تو وہ بھی پشاور کے سانحہ کے بعد دور ہوجانا چاہئے۔ تحریک طالبان پاکستان کے یہ دہشت گرد خود کو مسلمان کہتے ہیں اور پاکستان کی ریاست کو تباہ کر کے یہاں خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بربریت کرنے والے لوگ نہ تو کافر تھے اور نہ ہی غیر ملکی۔ انکا ایجنڈا وہی ہے جو نائیجیریا میں بوکو حرام، شام اور عراق میں داعش اور کینیا میں الشباب کا ہے۔ ہمیں ماضی کی غلطیوں سے فوری طور پر رشتہ توڑنا ہوگا اور اپنی زمین کو کسی بھی دوسری سرزمین پر کسی کارروائی کیلئے استعمال ہونے سے روکنا ہوگا۔ افغانستان تک دہشت گردوں کا پیچھا کرنے سے متنبہ کرتے ہوئے کہا اس سے نہ صرف ہمارے تعلقات افغانستان کیساتھ خراب ہو جائیں گے بلکہ بھارت کو بھی ایسا کرنے کا جواز مل جائیگا۔ جون کے مہینے میں آپریشن شروع کیا گیا تھا اور روزانہ یہ خبریں آتی تھیں، درجنوں عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا گیا ہے لیکن کسی بھی عسکریت پسند کی شناخت نہیں بتائی گئی۔ اب شفافیت کیلئے ضروری ہے ان میں سے چند عسکریت پسندوں کی شناخت بتائی جائے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق سینٹ نے سینیٹر خالد سومرو کے قتل کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کر لی۔ قرارداد سینیٹر قیوم سومرو کی جانب سے پیش کی گئی۔ ایم کیو ایم کے سینیٹر طاہر مشہدی نے کہا حکومت میں ہمت نہیں سرکاری مسجد اور سرکاری گھر میں رہنے والے خطیب کو روک سکے۔ فوج نے کارروائی کی تو وہ برقعہ پہن لے گا۔ پیپلزپارٹی کے سینیٹر تاج حیدر نے کہا خالد سومرو پر حملہ کیس میں چار افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ سینیٹر حاصل بزنجو نے کہا اچھے اور برے طالبان کو ذہن سے نکالنا ہوگا۔ افغانستان یا پاکستان پر حملہ کرنے والے ہمارے مجرم ہیں۔ مدرسوں میں اصلاحات کر کے انہیں رجسٹر کیا جائے۔ مذہب کے نام پر دوسروں کا قتل کرنے والی تمام قوتوں سے لڑنا ہو گا۔