2014ء ،میزائل ٹیکنالوجی میں جدت اور ترقی کے حوالے سے پاکستان کیلئے بہترین رہا

23 دسمبر 2014

اسلام آباد (آئی این پی) 2014ء پاکستان کی میزا ئل ٹیکنالوجی میں بہتری، جدت اور ترقی سال کارہا۔ اس سال پاکستان نے نیوکلیئر اور کنوویشنل وار ہیڈ لے جانیوالے چار میزائلوں کا کامیاب تجربہ کیا جس سے پاکستان کی کم سے کم دفاعی صلاحیت میں مزید بہتری آئی۔ اس سال نہ صرف کم فاصلے تک مار کرنیوالے بلکہ درمیانی فاصلے تک مار کرنیوالے میزائلوں کا بھی کامیاب تجربہ کیا گیا۔ اپریل 2004ء میں زمین سے زمین پر کم فاصلے تک مار کرنیوالے بیلسٹک میزائل حتف تھری غزنوی کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔ غزنوی میزائل روایتی اور نیوکلیئر وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور 290 کلو میٹر تک اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔ 8 مئی 2014ء کو آرمی سٹرٹیجک فورسز کمانڈ کی فیلڈ ٹریننگ ایکسر سائز کے اختتام کے موقع پر حتف غزنوی کا دوبارہ تجربہ کیا گیا۔ نومبر میں ایک ہفتے کے دوران دو انتہائی اہم میزائلوں کے تجربے کئے گئے  جن میں درمیانی فاصلے تک مار کرنیوالے شاہین ٹو اور شاہین ون اے شامل ہیں۔ نومبر میں آرمی سٹرٹیجک فورس کمانڈ کے تحت شاہین ٹو میزائل کا تجربہ کیا گیا۔ 17 نومبر کو شاہین ون اے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا گیا۔ میزائل سسٹم میں روز بروز جدت آنے سے پاکستان کا شمار ان چند ممالک میں ہونے لگا ہے جو جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی کے حامل ہیں۔