گیس کا بحران شدت اختیار کر لیا‘ مظاہرے جاری‘ گوجرانوالہ میں ریجنل آفس کا گھیرائو

23 دسمبر 2014

لاہور / اسلام آباد (نیوز رپورٹر +سپیشل رپورٹ+ وقائع نگار خصوصی + نامہ نگاران + نوائے وقت رپورٹ)  سوئی میں گیس  پائپ لائن تباہ ہونے سے پنجاب کے تمام بڑے شہروں اور اسلام آباد، راولپنڈی  میںگیس  کا بحران شدت اختیار کر گیا۔  سوئی گیس  کی بندش کیخلاف لاہور سمیت کئی شہروں  میں مظاہرے، گوجرانوالہ میں مظاہرین نے ریجنل  آفس کا گھیرائو کر لیا،  لاہور  میں گھروں کو گیس  کی سپلائی کا نیا شیڈول جاری کر دیا گیا بجلی کی لوڈشیڈنگ نے بھی نظام زندگی  مفلوج کر دیا۔ تفصیل کے مطابق  پنجاب کے بڑے شہروں، راولپنڈی، لاہور، ملتان، فیصل آباد، سیالکوٹ،  گوجرانوالہ،  بہاولپور، ڈیرہ غازی خان میں گھریلو صارفین کیلئے گیس  کا شدید  بحران پیدا ہو گیا۔  گزشتہ روز علی الصبح گھروں  میں گیس  غائب پا کر  شہریوں  کی بڑی تعداد نہ تو ناشتہ کر سکی  جبکہ نہ ہی دفاتر  جانے کیلئے تیار ہو سکی۔  لاہور میں مکہ کالونی، اچھرہ،  فیروزپور روڈ، چونگی امرسدھو،  راج گڑھ، گلستان کالونی میں شہریوں  نے گیس کی  بندش کیخلاف شدید احتجاج کیا اور سڑکیں بلاک کر دیں جس سے شہر میں کئی گھنٹے ٹریفک بلاک رہی، صارفین  نے حکومت اور سوئی گیس  انتظامیہ  کیخلاف نعرے بازی کی شہر کے کئی علاقوں  میں گیس پریشر کم ہونے سے خواتین  کو  شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایم ڈی سوئی ناردرن  عارف حمید نے کہا ہے کہ سوئی گیس فیلڈ کے پراسیسنگ پلانٹ کی مرمت  آج مکمل ہو جائے گی آج  دوپہر سے  گیس کی فراہمی شروع ہو جائے گی اور سسٹم میں  بہتری آنے سے گھریلو صارفین کیلئے گیس  کی کمی کافی  حد تک بہتر ہو جائے گی صبح 5 سے 9 اور شام 5 بجے سے رات 9 بجے تک گھریلو صارفین کو گیس کا پورا پریشر ملے گا۔  تباہ ہونے والی   پنجاب آنے والی 16 انچ قطر  کی پائپ لائن مرمت کر دی گئی ہے۔سوئی ناردرن  کمپنی  کے ترجمان نے  لاہور میں گھروں کو گیس کی سپلائی کا نیا شیڈول  جاری کر دیا گیا۔ لاہور میں صبح  6   سے 9 اور شام 6 سے 9 بجے تک گھروں میں گیس آئے گی۔ حافظ آباد سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق شہر میں گزشتہ  کئی روز سے سوئی گیس  کا پریشر نہ ہونے کے برابر ہے۔  سوئی گیس  کی بندش سے شہریوں  کے چولہے ٹھنڈے ہو  کر رہ گئے ہیں جس کی وجہ سے صبح اور شام  کے وقت  لوگوں کے لئے کھانا پکانا بھی محال ہو گیا ہے۔  شہریوں نے  احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر محکمہ سوئی گیس  کی جانب سے گیس بحال نہ کی گئی تو وہ سوئی  گیس کے دفاتر  کا گھیرائو کرنے پر مجبور ہونگے۔ کامونکے اور سادھوکے سے نامہ نگاران  کے مطابق  گیس کی فراہمی  بیس بیس گھنٹے تک معطل رہنے لگی ہے جس کی وجہ سے وقت پر کسی  کو کھانا میسر نہیں آ رہا۔گوجرانوالہ میں باغبان  پورہ، شیخوپورہ روڈ، شاہین آباد، گرجاکھ، محلہ فیصل آباد،  پونڈانوالہ چوک،  وحدت کالونی، دھلے،  کالج روڈ،  گل روڈ سمیت مختلف علاقوں  میں گیس بندش  کے خلاف شہریوں نے احتجاج کیا، مظاہرین  نے احتجاج کے دوران ریجنل  آفس کا  گھیرائو کر لیا اور آفس  کے سامنے ٹائر جلا کر روڈ کو بلاک کر دیا، مظاہرین  سے بچنے کیلئے ریجنل  آفس کے دروازے بند کر  لئے گئے، احتجاج میں شامل خواتین نے ہاتھوں میں برتن اٹھائے ہوئے تھے جنہیں  بجابجا کر احتجاج کیا گیا۔  مظاہرین نے کہا کہ گیس  نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں فاقوں کی حالت ہے ایک ماہ  سے گھروں میں کھانے کو کچھ نہیں پکایا جا سکا۔  ننکانہ صاحب سے  نمائندہ نوائے وقت کے مطابق  ننکانہ صاحب میں سوئی گیس  کی طویل بندش کا سلسلہ  بدستور جاری ہے۔ گھریلو  صارفین سخت مشکلات کا شکار، صارفین  نے  احتجاج کرتے سوئی گیس  کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مریدکے سے نامہ نگار کے مطابق گیس کی لوڈشیڈنگ کیخلاف سینکڑوں  شہریوں نے جی ٹی روڈ پر سوئی گیس  آفس کا گھیرائو کر لیا جس  سے عملہ محبوس ہو کر رہ گیا۔ مظاہرین  نے  برتن اٹھا کر  سینہ کوبی کی،  ’’ گو نواز گو‘‘ کے نعرے لگائے اور گیس  کی فراہمی کیا مطالبہ کیا۔ اوکاڑہ سے نامہ نگار کے مطابق سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ کے خلاف اہل علاقہ کی درجنوں خواتین نے  مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی محمد عارف چوہدری کے دفتر کے سامنے ایم اے جناح روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا، خواتین نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور روڈ ٹریفک کے لیے بند کر دی، ایم این اے کے نمائندوں نے خواتین کو گیس کی لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کی یقین دہانی کروائی جس پر خواتین نے احتجاج ختم کر دیا۔ کمالیہ میں  شہریوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں گیس کی اس طویل بندش کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔ شرقپور شریف سے نامہ نگار کے مطابق  شرقپور  شریف میں تیسرے روز بھی  گیس پریشر میں شدید کمی کے باعث شہری  پریشان ناشتہ ہوٹلوں پر کھانے پر مجبور ہو گئے۔  خواتین  نے دوبارہ لکڑی جلانی  شروع کر دی گھروں میں گیس نہ ہونے  سے چولہے ٹھنڈے ہو گئے۔ کمالیہ، سمبڑیال،ی بوریوالہ، پیر محل، کسووال،  رینالہ خورد،  وزیر آباد،  ساہیوال، شورکوٹ میں گیس کی بدترین لوڈ شیڈنگ اور انتہائی کم پریشر نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی جس پر عوام الناس نے وزیراعظم محمد نواز شریف سے صورتحال کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔